چور پانچ منٹ میں ایک ارب 67 کروڑ مالیت کا سونے کا ٹوائلٹ اکھاڑ لے گئے
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
لندن: برطانیہ میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا، جہاں 60 لاکھ ڈالر مالیت کا 18 قیراط سونے کا ٹوائلٹ چوری کر لیا گیا۔
پولیس نے تین ملزمان پر مقدمہ درج کر لیا ہے، جن میں سے ایک پر چوری اور دو پر چوری شدہ مال فروخت کرنے کا الزام ہے۔
یہ سونے کا ٹوائلٹ برطانیہ کے تاریخی "بلین ہیم پیلس" میں نمائش کے لیے رکھا گیا تھا، جہاں سے اسے 14 ستمبر 2019 کی علی الصبح محض پانچ منٹ میں چوری کر لیا گیا۔
چوروں نے دو چوری شدہ گاڑیاں استعمال کرتے ہوئے محل کے لکڑی کے دروازے توڑے اور تیزی سے ٹوائلٹ نکال کر فرار ہو گئے۔
نمائش کے دوران، زائرین تین منٹ کے لیے اس سنہری بیت الخلا کو استعمال کر سکتے تھے۔
پراسیکیوٹر کے مطابق، ملزم مائیکل جونز نے چوری سے قبل دو بار محل کا دورہ کیا اور ٹوائلٹ کی اور دروازے پر لگے تالے کی تصاویر لیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ چوری کی پہلے سے منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
چوری کے بعد ٹوائلٹ کا کوئی سراغ نہیں ملا، لیکن خیال کیا جا رہا ہے کہ اسے توڑ کر سونے کی شکل میں فروخت کر دیا گیا ہے۔
چوروں کی اس حرکت سے 18ویں صدی کی تاریخی عمارت اور قیمتی آرٹ اور فرنیچر کو نقصان پہنچا، جس کی وجہ سے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کو بھی نقصان ہوا۔
تینوں ملزمان کو عدالت میں مقدمے کا سامنا ہے، اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
.
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مرکزی زیر انتظام علاقے میں تمام مسائل کا ازالہ ممکن نہیں ہے، عمر عبداللہ
الیکشن منشور میں لوگوں سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے بارے میں جب وزیراعلیٰ سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ منشور صرف پانچ دنوں یا پانچ ہفتوں کا نہیں بلکہ یہ پانچ سال کیلئے ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ مرکزی زیر انتظام علاقے میں لوگوں کے سبھی مسائل حل ہونا خارج از امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی کو لے کر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ان باتوں کا اظہار وزیراعلیٰ نے سکاسٹ میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی زیر انتظام علاقے کے لوگوں کے مسائل حل کرنا اگرچہ حکومت کی اولین ترجیح ہے تاہم یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ یوٹی میں مسائل کے حل کی خاطر دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
الیکشن منشور میں لوگوں سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے بارے میں جب وزیراعلیٰ سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ منشور صرف پانچ دنوں یا پانچ ہفتوں کا نہیں بلکہ یہ پانچ سال کے لئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس بات سے بخوبی آشنا ہے کہ نیشنل کانفرنس نے لوگوں سے وعدے کئے ہیں اور میں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ تمام وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر ہر ممکن سعی کی جائے گی۔ ریاستی درجے کی بحالی کو لے کر پوچھے گئے ایک اور سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا "اسٹیٹ ہڈ کی بحالی کی خاطر مرکزی سرکار پر مسلسل دباؤ ڈال رہا ہوں"۔ انہوں نے کہا کہ متعدد معاملات سے لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہے لیکن مرکزی زیر انتظام علاقے میں اہم مسائل کو حل کرنا انتہائی مشکل ہے۔