لاہور (نوائے وقت رپورٹ+نامہ نگار) صدر مملکت آصف علی زرداری گزشتہ روز لاہور کے دورے پر گورنر ہاؤس پہنچے۔ صدر سے پیپلز پارٹی پنجاب کے پارلیمانی وفد نے ملاقات کی۔ سید علی حیدر گیلانی نے پارلیمانی وفد کی قیادت کی۔ وفد نے صدر کو پنجاب میں درپیش سیاسی مسائل سے آگاہ کیا۔ صدر آصف زرداری سے گورنر پنجاب سلیم حیدر بھی ملے۔ صدر زرداری سے مخدوم احمد محمود نے بھی ملاقات کی۔ صدر مملکت سے پیپلز پارٹی کے پارلیمانی وفد اور رہنماؤں نے ن لیگ کے خلاف شکایات کے انبار لگا دئیے، پارلیمانی وفد نے صدر مملکت کو بتایا کہ انتظامی معاملات میں پیپلز پارٹی ارکان کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کے معاملے میں بھی ترجیح نہیں دی جاتی۔ وفد نے صدر کو حلقوں کے مسائل سے بھی آگاہ کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ اتحادی حکومت کے ساتھ چلنا مجبوری ہے، جانتا ہوں تحریری معاہدے کے نکات پر عملدرآمد نہیں ہو رہا، پارلیمانی وفد بجٹ آنے تک مسائل حل ہونے کا انتظاز کرے۔گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے مخدوم ہاؤس لاہور میں سابق گورنر پنجاب، پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم سید احمد محمود کی جانب سے دیئے گئے ظہرانے میں شرکت کی۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے سینئر نائب صدر خواجہ رضوان عالم، چیف کوآرڈینیٹر عبدالقادر شاہین، سابق وفاقی وزیر مخدوم مرتضیٰ محمود، مخدوم علی محمود، جاوید ڈھلوں، سید عرفان گردیزی، ملک ریاض حسین سامٹیہ، رانا محمد انتظار، راؤ ساجد علی، ملک رستم سمیت دیگر اہم رہنما بھی موجود تھے۔ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی، اقتصادی اور معاشی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور مستقبل کے ممکنہ لائحہ عمل پر غور و خوض کیا گیا۔رہنماؤں نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ ملک اس وقت شدید سیاسی عدم استحکام، گورننس کے فقدان اور معاشی بدحالی کا شکار ہے۔جس کے فوری حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو حالیہ سیاسی بحران سے نکالنا وقت کی اشد ضرورت ہے۔ ہمارا وقت بہت کم ہے اور اگر ہم نے جلد از جلد مناسب حکمت عملی نہ اپنائی تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ اختلافات کو باہمی مشاورت اور مکالمے کے ذریعے حل کرنا ہوگا، اگر ہم سب مل کر آگے بڑھیں گے تو جمہوریت مضبوط ہوگی،ورنہ انتشار ہمارے قومی استحکام کو مزید کمزور کر دے گا۔ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ سب سے زیادہ اہمیت ملک اور قوم کے مفاد کو دینی ہے۔مخدوم احمد محمود نے اس موقع پر ملک میں بڑھتی ہوئی بیوروکریٹک کرپشن پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری محکموں میں بدعنوانی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ پٹواری سے لے کر کمشنر اور سیکریٹری سطح تک کرپشن تین گنا بڑھ چکی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ورکرز اور وزراء خود بیوروکریسی کے رویے سے نالاں ہیں اور انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔شہباز شریف اور مریم نواز کو بیوروکریسی نے مائیکرو فنانس کے مسائل میں الجھا دیا ہے جبکہ میکرو فنانس کے اہم معاملات کو مکمل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔حکومت تجاوزات کے خاتمے کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنا چکی ہے جبکہ عام آدمی کے بنیادی مسائل پس پشت ڈال دیے گئے ہیں۔مخدوم احمد محمود نے خبردار کیا کہ پنجاب میں گندم کی فصل کے حوالے سے ایک نیا بحران پیدا ہونے والا ہے،جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔بچت کے نام پر عوام کو بنیادی سہولتوں سے محروم کر دیا گیا ہے،لیکن دوسری طرف اشرافیہ کو مفت بجلی، گیس اور دیگر مراعات دی جا رہی ہیں۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ بدعنوانی، غیر منصفانہ پالیسیوں اور بیوروکریسی کے بے جا اثر و رسوخ سے ملک کو نجات دلانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی عوامی مسائل کے حل کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

.

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پارلیمانی وفد گورنر پنجاب پیپلز پارٹی صدر مملکت وفد نے کہا کہ

پڑھیں:

ایف آئی آر(دوسرا اور آخری حصہ)

میرے والد کے گہرے دوست تو بھٹو صاحب بھی تھے مگر شیخ مجیب سے گہری دوستی کی بناء پر جو ان کو سزا ملی کہ وہ میری والدہ کے ساتھ عمر ے کی سعادت کے لیے یہاں سے روانہ ہوئے اور ان کو جہاز سے اتارا گیا۔ میرے والد بھی بڑے ضدی تھے انھوں نے بارڈر کراس کیا اور وہاں سے لندن روانہ ہو گئے، دو سال لندن میں جلا وطنی کے گزارے۔ وہ واپس آئے یہ کہہ کر کہ دیس میں پابند سلاسل ہونا جلا وطنی سے بہتر ہے۔

اس وقت سندھ کے وزیر ِ اعلیٰ میرے والد کے جگری دوست رئیس غلام رسول جتوئی کے بیٹے غلام مصطفی جتوئی تھے۔ان کی اتنی عنایت ضرور ہوئی کہ جیل کے بجائے ان کو گھارو کے ایک ریسٹ ہاؤس میں ہاؤس اریسٹ رکھا گیا۔ بھٹو صاحب اپنے بہت سے مخالفین کے ساتھ سخت رہے لیکن ان کا برتاؤ میرے والد کے ساتھ کچھ اور تھا۔

ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اب پیپلز پارٹی بہت پریشان ہے۔ اقتدار کے سولہ برس آرام سے گزرگئے اور عمران خان کا دور بھی بہتر انداز گزرگیا۔ اب وفاق میں اتحاد بھی ہے۔ مگر آنے والا وقت پارٹی کے لیے مشکلات لا رہا ہے اور اس کی وجہ ہے ان کی بدتر کارکردگی (Bad Governess ) ۔ آخر کب تک پیپلز پارٹی کو بھٹو کے نام پر ووٹ ملتے رہیں گے۔

پورا صوبہ اس وقت پانی کے مسئلے پر بھرپور موقف رکھتا ہے۔ آج ہم میں وہ بے نظیر بھٹو موجود نہیں جو کالا باغ ڈیم کے خلاف سندھ اور پنجاب کے بارڈر پر دھرنا دے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا پوتا ذوالفقار جونئیر اس موقف پر ڈٹ کر کھڑا ہے اور بڑی تیزی سے عوام کے درمیان مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی آج وہ ہی کام کر رہی ہے جو کل تک جی ڈی اے کرتی تھی کہ وہ ایک ہائبرڈ حکومت کا حصہ ہے۔

سندھ کے پانی کے مسئلے پر پیپلز پارٹی سے بہتر اور واضح موقف پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری سلمان راجہ کاہے۔ اب سندھ میں بہت بڑا خلاء پیدا ہو گیا ہے کیونکہ پانی کے مسئلے پر سب متفقہ موقف رکھتے ہیں اور جو پارٹی اس موقف سے انحراف کرے وہ اپنی مقبولیت عوام کی نظروں میں کھو دے گی اور ایسا ہی کچھ پیپلز پارٹی کے ساتھ ہو رہا ہے۔اس بات کو بے نظیر صاحبہ بہت اچھے سے سمجھتی تھیں لیکن یہی بات بلاول بھٹو سمجھ نہیں پا رہے ہیں۔ وہ درباریوں میں رہ کر ایسا تصور کر رہے ہیں کہ شاید وہ سندھ کے مقبول ترین لیڈر ہیں، مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

بڑے بڑے خاندان اور وڈیرے پیپلز پارٹی کا حصہ ہیں اور وہ انتخابات کی انجینئر نگ بھی خوب جانتے ہیں ۔ یہ کسان آج تک ان وڈیروں کے تسلط سے آزاد نہ ہو سکے، حیدر بخش جتوئی اور میرے والد قاضی فیض محمد کی ہاری تحریک بھی اثناء میں کہیں کھو گئی۔ سندھ ایک تھا ، جنرل ضیا ء الحق کے خلاف جب تمام وڈیرے، مزدور، دہقان ، مڈل کلاس نے ایم آرڈی تحریک کا آغاز کیا۔ غلام مصطفی جتوئی نے اس تحریک کی قیادت کی۔ یہ تحریک ایک لحاظ سے وڈیروں کی تحریک تھی کیونکہ اس وقت عوام کسی کے کنٹرول میں نہ تھے۔ ان کے محبوب لیڈر کو پھانسی کے تختے پر چڑھایا گیا تھا۔ عدالتیں بھلے ہی یہ کہتی رہیں کہ بھٹو ، قصوری کا قاتل ہے، لیکن عوام کو یہ پتا تھا کہ بھٹو بے قصور اور جنرل ضیا بھٹو کا قاتل ہے۔

مرتضیٰ جتوئی بھی ایم آرڈی تحریک کے روحِ رواں تھے مگر آج وہ پیپلز پارٹی کے عتاب کا شکار ہیں۔ جھوٹی ایف آئی آر ان کے خلاف درج کروائی گئی ہیں ان میں سے ایک ایف آئی آر تو گن پوائنٹ پر موٹر سائیکل سوار سے مبلغ 35000/- روپے چھیننے کی درج کی گئی ہے۔اس ایف آئی آر کا متن یہ ہے کہ گن پوائنٹ پر چھینی گئی رقم میں چار لوگ شامل تھے، جس میں تین لوگوں کی شناخت نہ ہو سکی اور چوتھے شخص مرتضیٰ جتوئی تھے۔ سندھ ہائی کورٹ نے یہ بھی کہہ دیا کہ اب مرتضیٰ جتوئی پر کوئی ایف آئی آر نہ کاٹی جائے کیونکہ عدالت کو یہ سمجھ آگیا ہے کہ حکومت بوکھلا گئی ہے۔

ایسا لگ رہا ہے کہ سندھ تیزی سے مزاحمت کی طرف جا رہا ہے۔ قیادت کا فقدان ہے، کیونکہ ماضی میں مزاحمت کو پیپلز پارٹی کی قیادت حاصل تھی مگر اب یہ پارٹی خود مزاحمت کے گھیرے میں ہے اور اس کے خلاف کوئی قیادت نہیں ہے۔ سندھ میں پہلے دو احساس محرومیوں نے جنم لیا ایک ذوالفقارعلی بھٹو کا عدالتی قتل اور دوسرا بے نظیرکا قتل۔ اب جو احساسِ محرومی یہاں جڑ پکڑ رہا ہے وہ یہ کہ سندھ کو یہ خدشہ ہے کہ سندھ سے دریا چھینا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  •  صدر زرداری کل وفاقی کابینہ کے نئے وزراء سے حلف ‘ یو اے ای ولی عہد کے اعزاز میں ضیافت دینگے
  • اتحادی حکومت کے ساتھ چلنا مجبوری ہے، معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، صدر زرداری
  • لاہور میں آصف زرداری سے پارلیمانی پارٹی کی ملاقات کی اندرونی کہانی
  • پیپلز پارٹی پارلیمانی وفد کی حکومت کیخلاف شکایتیں، صدر زرداری نے ساتھ مجبوری قرار دیدیا
  • اتحادی حکومت کے ساتھ چلنا ہماری مجبوری ہے،صدر آصف علی زرداری
  • صدر آصف علی زرداری سے پیپلز پارٹی کے پارلیمانی وفد کی ملاقات ؛ شکایات کے انبار لگا دیے
  • بے لوث خدمت کے 25 سال: گورنر ہاؤس لاہور میں آگاہی سیمینار
  • ایف آئی آر(دوسرا اور آخری حصہ)
  • گورنر پنجاب سے اطالوی سفیر کی ملاقات، ماحولیاتی آلودگی و تجارت پر تبادلہ خیال