پشاور(این این آئی)طورخم کی سرحدی گزرگاہ آج چوتھے روز بھی تجارتی سرگرمیوں اور پیدل آمدورفت کے لیے بند ہے، جس کے باعث دونوں جانب مسافر پھنس گئے ہیں اور تاجروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ذرائع کے مطابق، زیرو پوائنٹ پر پاکستان اور افغانستان کے حکام کے درمیان پہلا مذاکراتی سیشن ہوا، جو کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگیا۔ آج دوبارہ مذاکرات کا امکان ہے۔سرحدی کشیدگی کا آغاز جمعہ کے روز اس وقت ہوا جب افغان فورسز نے متنازع حدود میں چیک پوسٹ کی تعمیر شروع کی، جس پر پاکستانی فورسز نے اعتراض کرتے ہوئے کام رکوا دیا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کی سیکیورٹی فورسز کے درمیان حالات کشیدہ ہوگئے اور تجارتی سرگرمیاں معطل کردی گئیں۔سرحد کی بندش کے باعث سینکڑوں مسافر مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ درآمد و برآمد رکنے سے کاروباری حلقوں کو بھاری مالی نقصان پہنچا ہے۔صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر آج پاک افغان حکام کے درمیان مزید مذاکرات متوقع ہیں، جس سے سرحد کھلنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

سکیورٹی فورسز کی پاک افغان سرحد کے قریب کارروائی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 25 فروری 2025ء) فوج نے اس آپریشن کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی۔ لیکن یہ آپریشن تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کیا گیا ہے۔ یہ گروپ افغان طالبان کا اتحادی ہے اور سال 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد مضبوط ہوا ہے۔

افغانستان: طالبان نے چند اہم وعدوں پر بیگم ریڈیو کی بحالی کا اعلان کر دیا

دریں اثنا، افغان پاکستان سرحد پر واقع ایک اہم تجارتی سرحد تیسرے روز بھی بند رہی۔

حکام کے مطابق پاکستان نے افغان حکومت کی طرف سے سرحد پر پوسٹ بنانے کے تنازعے کے باعث یہ تجارتی راستہ بند کیا ہے۔

کئی دن سے بندش کے باعث طورخم کے راستے ہونے والی دوطرفہ تجارت متاثر ہوئی ہے۔ افغانستان کی جانب سے کمشنر عبدالجبار حکمت بارڈر طورخم نے کہا، ''جب پاکستانی حکام اپنی طرف سرحد پر تعمیراتی کام کرتے ہیں تو ہم کچھ نہیں کہتے، لیکن جب افغان حکومت کچھ کرتی ہے تو پاکستان سرحد بند کر دیتا ہے۔

(جاری ہے)

‘‘

پاکستان: افغان سرحد سے دراندازی کی کوشش ناکام، پانچ 'دہشت گرد' ہلاک

پاکستانی حکام کی جانب سے اس بارے میں فوری طور پر کوئی بیان نہیں سامنے نہیں آیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان طورخم کا راستہ بند ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ماضی میں ایسا بارہا ہوتا رہا ہے، کیونکہ دونوں طرف کی حکومتیں سرحدی پوسٹس کی تعمیر پر اختلافات رکھتی ہیں۔ افغانستان نے کبھی بھی اس سرحد کو تسلیم نہیں کیا، جبکہ پاکستان نے اس سرحد پر تقریباً باڑ لگا دی ہے۔

ع ف/ ر ب (اے پی)

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کا 42 روزہ جنگ بندی میں توسیع پر غور، غزہ اور جنین میں کشیدگی برقرار
  • مذاکرات ناکام، پاک افغان کشیدگی برقرار، طورخم بارڈر چوتھے روز بھی بند
  • سکیورٹی فورسز کی پاک افغان سرحد کے قریب کارروائی
  • حیدرآباد، پولیس اور وکلا کے درمیان کشیدگی پر جوڈیشل انکوائری کا حکم
  • سرحدی چوکی تنازع، طورخم بارڈر 2 روز سے بند
  • وسطی کرم، سکیورٹی فورسز نے چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنا دیا
  • وسطی کرم، سکیورٹی فورسز نے چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنادیا
  • پاک افغان طورخم بارڈر دوسرے روز بھی ہر قسم کی آمد ورفت کیلئے بند، عوام اور تاجر پریشان
  • پاک افغان فورسز میں کشیدگی برقرار ، طورخم سرحد دوسرے روز بھی بند