کراچی:

پاکستان کسٹمز انفورسمنٹ کراچی نے  10ارب روپے کی اسمگل شدہ بھارتی ممنوعہ ادویات برآمد کر کے ضبط کر لیں۔

کلکٹر انفورسمنٹ معین الدین وانی نے ڈپٹی کلکٹرز کسٹمز باسط حسین اور رضا نقوی کے ہمراہ  پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہمیں اطلاع ملی بھارت سے اسمگل ہونے والی ممنوعہ ادویات کورنگی کے  گودام میں منظم انداز میں ذخیرہ کی گئی ہیں۔جس پر اسسٹنٹ کلکٹر کسٹمز بسمہ کی قیادت میں  ٹیم  نے 20فروری کو چھاپہ مارکر ٹریماڈول نامی دوا کی 21.

794ملین گولیاں اور کیپسول برآمد کرلیے۔

اسے دردکش دواکے طورپر استعمال کیا جاتا ہے، اس میں افیون کی مقدار موجود ہوتی ہے۔متعدد ممالک میں یہ دوا کنٹرولڈ میڈیسن ڈکلیئرڈ ہے جبکہ حکومت پاکستان بھی اسے کنٹرولڈ میڈیسن ڈکلیئر کرنے پر غور کررہی ہے۔ اس کیس میں کچھ گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں اورمختلف زاویوں پر تفتیش جاری ہے۔

 کسٹمز حکام کا کہنا ہے  یہ جنوبی ایشیا میں اب تک کی سب سے بڑی ضبطی ہو سکتی ہے، برآمد شدہ مقدار کو نقل و حمل کے لیے  بڑے کنٹینر کی ضرورت ہوتی ہے۔ گزشتہ سال، ممبئی کسٹمز نے 1.1 ارب روپے کی 6.8 ملین گولیاں ضبط کیں۔

واضح رہے افیون پاکستان میں بڑے پیمانے پر استعمال نہیں ہوتی اور اس کی بڑی مارکیٹیں مشرق وسطیٰ اور افریقا میں ہیں۔ تاہم حکام کو خدشہ ہے اس دوا کو ریاست مخالف عناصر استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ اس کے صارفین گھنٹوں جاگتے رہتے ہیں۔

حکام نے شبہ ظاہر کیا کہ ممکنہ طور پر کچھ ادویات ویکسین امیونائزیشن پروگرام کی آڑ میں اسمگل کی گئی اور اس میں کلیئرنگ ایجنٹس کے ملوث ہونے کا امکان ہے۔ پکڑی گئی دوائیں کارٹنوں میں پیک کی گئی تھیں جن میں سے اکثر پر لگے نشانات کے باعث اس کا ماخذ بھارت ظاہر ہوتا ہے۔

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

عام ادویات جو رحمِ مادر میں موجود بچے کیلئے نقصان دہ 

ایک نئے مطالعے کے مطابق، اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ عام تجویز کردہ درجنوں ادویات رحمِ مادر میں موجود بچوں میں دماغی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔

سائنسی برادری کی طرف سے اب تک مرتب کیے گئے شواہد بتاتے ہیں کہ پیدائش کے قریب بچوں کی دماغی کیمسٹری پر ان دوائیوں کے ضمنی اثرات حمل کی حفاظت کے فوری خدشات کو جنم دیتے ہیں خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جینیاتی طور پر خطرے میں ہو سکتے ہیں۔

30 سے زائد ادویات کے گروپ کا جائزہ لیا گیا جن میں وہ بھی شامل تھی جن کے مضر اثرات جانوروں کے مطالعے میں دماغی کولیسٹرول کے بائیو سنتھیسس کو روکتے ہوئے دکھائے دیے۔

رحمِ مادر میں موجود بچوں میں دماغی کولیسٹرول کی بایو سنتھیسس کو ان میں دماغی اور ترقیاتی معذوریوں سے بچنے کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے تاکہ اعصابی خلیے کے رابطے کی مناسب تشکیل اور مائیلین کی پیداوار کو فروغ دیا جا سکے۔

چوہوں پر کیے گئے ایک مطالعے میں پایا گیا کہ اینٹی ڈپریسنٹس اور اینٹی سائیکوٹک ادویات ان ادویات میں سے ہیں جو دماغی کولیسٹرول کی ترکیب کو متاثر کرتی ہیں۔
 

متعلقہ مضامین

  • عام ادویات جو رحمِ مادر میں موجود بچے کیلئے نقصان دہ 
  • سکیورٹی فورسز کی پاک افغان سرحد کے قریب کارروائی
  • ہنگلاج ماتا ہندوؤں کا مقدس مقام ’یہاں آنے والوں کی مرادیں پوری ہوتی ہیں‘
  • موسم گرما میں بھاری بلوں سے تنگ عوام کے لیے خوشخبری، بجلی کی قیمت میں بڑی کمی کا فیصلہ
  • حکومت کی جانب سے بجلی 6 سے 8 روپے یونٹ سستی کرنے پر کام جاری
  •  بجلی 6 سے 8 روپے یونٹ سستی کرنے پر کام جاری
  • گردشی قرضہ:حکومت کی بینکوں سے 1240 ارب روپے قرض لینے کی کوشش
  • کنن پوش پورہ کے متاثرین اب بھی انصاف کے منتظر ہیں، محمود ساغر
  • امریکی انتظامیہ کی “امریکہ فرسٹ” پالیسی سے چین اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ سرمایہ کاری کے لئے “ممنوعہ زون” کی حد بندی