گوادرایئرپورٹ ابھی تک اگرچہ مصروف ترین ایئرپورٹ نہیں ہے لیکن بحیرہ عرب کے ساتھ اپنے تذویراتی محل وقوع کی وجہ سے تجارت اوررابطوں کو آسان بنانے میں اہم کردارادا کررہا ہے۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک کے گیٹ وے کے طور پر گوادرایئرپورٹ علاقائی اوربین الاقوامی تجارت کے فروغ اور پاکستان کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے کا باعث ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں خاص بات کیا ہے؟

ماہرین کے مطابق گوادر ایئرپورٹ کے ذریعے کاروبار، سرمایہ کاروں اورسیاحوں تک رسائی کو بہتربناتے ہوئے گوادرشہرکی اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ اسےایک اہم تجارتی اورلاجسٹک مرکزمیں تبدیل کرنے میں معاون ثابت ہورہا ہے۔

نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے فعال ہونے سمیت گوادر شہر میں جاری ترقی کے ساتھ، یہ علاقائی ہوابازی کا ایک اہم اسٹیک ہولڈر بننے کے لیے تیار ہے، جس سے اقتصادی مواقع اورروابط کو مزید فروغ ملے گا۔

مزید پڑھیں:نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہلی پرواز لینڈ کر گئی، وزیر دفاع خواجہ آصف نے مسافروں کا استقبال کیا

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق ہرایئرپورٹ راتوں رات شکاگو ایئرپورٹ نہیں بن جاتا، ہرایئرپورٹ کا مقصد ہوائی جہازوں اور مسافروں سے بھرجانا نہیں ہوتا۔

واضح رہے کہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کے نئے بین الاقوامی ایئرپورٹ نے رواں برس کے اوائل میں باقاعدہ اپنے آپریشنز کا آغاز کردیا تھا، جب اس نو تعمیر ایئرپورٹ سے 10 جنوری کو پہلی پرواز مسقط کے لیے روانہ ہوئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے پروازوں کا آغاز، ایئرپورٹ پر کون سی سہولیات دستیاب ہیں؟

نیو گوادرانٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تعمیراوراسے فعال بنانا حکومت پاکستان کے چند بڑے منصوبوں میں سے ایک تھا، اس ایئرپورٹ کی تعمیر کا کام 2019 میں شروع کیا گیا تاہم گزشتہ برس نیو گوادر ایئر پورٹ کا ورچوئل افتتاح چینی وزیراعظم لی چیانگ اوروزیراعظم شہباز شریف نے کیا تھا۔

پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے حکام کے مطابق نیو گوادر انٹر نیشنل ایئرپورٹ تمام جدید سہولیات سے آراستہ ہے جس کی تعمیر پر 55 ارب روپے کی لاگت آئی ہے۔

مزید پڑھیں:نیوگوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تکنیکی قبولیت کی دستاویزات کا تبادلہ

پاکستان ایئر پورٹ اتھارٹی کے مطابق نیوگوادرانٹرنیشنل ایئرپورٹ پاکستان کا سب سے بڑا ایئرپورٹ ہے جس کا رقبہ 4,300 ایکڑ پر محیط ہے جبکہ یہاں رن وے کی لمبائی 12000 فٹ سے زائد ہے۔

اس رن وے پر 4 سے 5 سو مسافروں کی گنجائش رکھنے والے ایئر بس 380 جہاز کی لینڈنگ ہوسکتی ہے۔ ایئرپورٹ کی ٹرمینل بلڈنگ کا رقبہ 14,000 مربع میٹر ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کی یادداشتوں پر دستخط، گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا ورچوئل افتتاح

پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے مطابق نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں کارگو کمپلیکس کی ابتدائی گنجائش 30,000 ٹن، کولڈ اسٹوریج اور گودام کی سہولیات کے ساتھ موجود ہے جبکہ ایئر ٹریفک کنٹرول ٹاور کا رقبہ 1,200 مربع میٹر اور اونچائی 42 میٹر ہے۔

گوادر کا نیا ایئرپورٹ کیوں اہم ہے؟

پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے مطابق یہ ایئرپورٹ اپنے اسٹریٹجک محل وقوع اور بڑھتی ہوئی اقتصادی اہمیت کو بروئے کار لاتے ہوئے اہم عالمی اور علاقائی مقامات کے ساتھ متحرک روابط قائم کرنے کے لیے تیار ہے۔

یہ ایئرپورٹ اندرون ملک پروازوں اور بین الاقوامی آپریشنز دونوں کے لیے موزوں ہے جو ایئرلائنز کے لیے نئے مواقع تلاش کرنے کا ایک مثالی مرکز ہے۔ یہ ایئرپورٹ اسلام آباد جیسے اہم اندرونِ ملک مراکز اور مسقط اور چین میں شنگانگ جیسے علاقائی مقامات کے ساتھ براہِ راست رابطے کا ذریعہ بنے گا۔

مزید پڑھیں: گوادر کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ چین-پاکستان عظیم دوستی کی نمایاں مثال ہے، وزیراعظم شہباز شریف

اس کے ساتھ ساتھ اس ایئرپورٹ کے فعال ہونے سے بڑی عالمی منڈیوں، جیسے متحدہ عرب امارات، یورپ، مشرقِ بعید، وسطی ایشیا، اورافریقہ کے لیے پروازوں کے امکانات بھی روشن ہو جائیں گے۔ یہ نہ صرف مسافروں کی نقل مکانی بلکہ کاروباری مواقع بھی پیدا کرے گا۔

نیو گوادرایئرپورٹ کے ذریعے سمندری خوراک، معدنیات، اور دیگر سامان کی برآمدات کو چین، عمان، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، یورپ اوردیگرمقامات تک بھی پہنچایا جاسکے گا، جو قیمتی زرمبادلہ کمانے کا باعث بنے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسٹیک ہولڈر بحیرہ عرب پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی تجارت تذویراتی محل وقوع ٹرمینل بلڈنگ رن وے شہباز شریف لینڈنگ نیوگوادرانٹرنیشنل ایئرپورٹ ورچوئل افتتاح.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹیک ہولڈر پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی تذویراتی محل وقوع ٹرمینل بلڈنگ رن وے شہباز شریف لینڈنگ نیوگوادرانٹرنیشنل ایئرپورٹ ورچوئل افتتاح نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی پاکستان ایئر ایئرپورٹ کی ایئرپورٹ کے اتھارٹی کے مزید پڑھیں کے مطابق کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

وزیر صحت مصطفی کمال کا آٹھ ماہ میں پاکستان کو پولیو فری ملک بنانے کا دعوی

وزیر صحت مصطفی کمال کا آٹھ ماہ میں پاکستان کو پولیو فری ملک بنانے کا دعوی WhatsAppFacebookTwitter 0 14 April, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)وزیر صحت مصطفی کمال نے آٹھ ماہ میں پاکستان کو پولیو فری ملک بنانے کا دعوی کردیا اور کہا ہے کہ اس بار افغانستان اور پاکستان میں ایک ہی روز مہم شروع ہوگی۔
تفصیلات کے مطابق وزیر صحت مصطفی کمال نے وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا فاروق کے ساتھ مل کر پریس کانفرنس کی اور کہا کہ رواں سال دسمبر 2025 میں پاکستان کو پولیو فری کردیں گے، اب تک چھ نئے پولیو کیس سامنے آئے ہیں، 21 اپریل سے ملک بھر میں انسداد پولیو مہم شروع ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دو ہی ممالک ہیں جہاں پولیو موجود ہے لوگ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلاتے، افغانستان میں طالبان کی مذہبی بنیاد پر حکومت ہے لیکن پورے افغانستان میں بھرپور پولیو مہم چل رہی ہے، اس بار افغانستان اور پاکستان میں ایک ہی روز مہم شروع ہوگی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ مذہب سے انسداد پولیو ویکسین کا کوئی تعلق نہیں، حج اور عمرہ کیلئے جائیں تو لائن میں لگا کر پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں، پاکستان براہ راست یونیسیف سے پولیو ویکسین حاصل کرتا ہے، پاکستان میں سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کو پولیو ویکسین یونیسیف فراہم کرتا ہے، پاکستان پولیو ویکسین نہیں خریدتا بلکہ یونیسف خود خریداری کرتا ہے اور ہمیں فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں پولیو کا کوئی علاج نہیں صرف بچاو کی ویکسین ہے، پورے ملک میں سیوریج ٹیسٹ میں پولیو وائرس موجود ہے، وائرس پورے ملک میں موجود ہے بچا کا طریقہ صرف ویکسین ہے، پاکستان میں بہت کم ایسے واقعات ہوتے ہیں جن پر پوری قوم متحد ہوجائے مگر پولیو ایسا مسئلہ ہے جس پر پورا ملک متحد ہے تمام صوبوں کے وزیر صحت یک زبان ہو کر اس مہم میں ایک مٹھی کی طرح شریک ہیں اس اتحاد کو دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ ہم پولیو پر قابو پالیں گے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ عہدہ سنبھالتے ہی چاروں صوبائی وزرا صحت سے رابطہ کیا۔ صوبائی وزرا کا ریسپانس بہت مثبت تھا، چار لاکھ پچیس ہزار ہیلتھ ورکرز گراونڈ پر کام کریں گے انھیں اتنے پیسے نہیں دئیے جا رہے کہ وہ اس سیکیورٹی رسک میں بھی کام کر رہے ہیں اس لیے ہیلتھ ورکرز کو خصوصی خراج تحسین پیش کیا جانا ضروری ہے۔مصطفی کمال نے مزید کہا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ افغانستان اس مرض سے جان چھڑا لے اور ہم اکیلا پولیو زدہ ملک نہ رہ جائیں، والدین سے گزارش ہے کہ وہ اس مشن میں ہمارا ساتھ دیں تاکہ پاکستان پولیو فری ممالک میں شامل ہوجائے۔

متعلقہ مضامین

  • انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے وفد کی وزیر خزانہ سے ملاقات، سرمایہ کاری میں دلچسپی 
  • سعودی ایئرلائن کی پرواز سے رہ جانے والے عمرہ زائرین 2 روز بعد بھی وطن نہ پہنچ سکے
  • وزیر صحت مصطفی کمال کا آٹھ ماہ میں پاکستان کو پولیو فری ملک بنانے کا دعوی
  • پی ٹی آئی خیبرپختونخوا ایک بار پھر احتجاج کی تیاریوں میں مصروف، ملک سے صوبے کا رابطہ بند کرنے پر غور
  • آرمی چیف کا امریکا کے ساتھ شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ
  • حکومت پاکستان کا آزاد کشمیر میں ایئرپورٹ تعمیر کرنے کا فیصلہ
  • حکومت پاکستان کا آزاد کشمیر میں ایئرپورٹ تعمیر کرنے کا فیصلہ
  • وفاقی حکومت کا آزاد کشمیر میں بین الاقوامی ایئرپورٹ بنانے کا فیصلہ
  • پی ٹی آئی کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے ،گرینڈ اپوزیشن الائنس کامعاملہ پھرلٹک گیا
  • پی ایس ایل؛ کراچی کنگز کو بھی بڑا دھچکا لگ گیا، اہم کرکٹر انجرڈ