چیف جسٹس سے سسٹم میں رہنے ،بائیکاٹ نہ کرنے کا مشورہ دیا،بیرسٹر گوہر،وثر عدالتی نظام کیلیے تجاویز جلد دینگے،عمر ایوب
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2025 GMT
اسلام آباد،سرگودھا(آن لائن،صباح نیوز)چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندرونی معاملات بالکل ٹھیک ہیں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،عدلیہ سے ہم زیادہ خوش نہیں، ہم نے ملاقات میں عدالتی رویہ کے حوالے سے گزارشات رکھی ہیں،پی ٹی آئی کیساتھ ایسا سلوک کرنا جمہوریت اور قانون کیلیے ٹھیک نہیں،آئین کی سر بلندی
کیلیے تحریک چلا رہے ہیں تاکہ ووٹ چوری نہ ہو،چاہتے تھے مذاکرات سے حل نکلے مگر حکومت نے اسے سیریس نہیں لیا، جلدبازی کی ۔ ڈسٹرکٹ کورٹس میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کورٹ میں ہم 26 نومبر کی کمپلینٹ کے حوالے سے پیش ہوا ہوں،عدالت نے الیکشن کی وجہ سے 15 تاریخ دی ہے ۔بیرسٹرگوہر نے تصدیق کی کہ چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کو سسٹم میں رہنے اور بائیکاٹ نہ کرنے کا مشورہ دیا، صحافی کے سوال پر کہا کہ آپ کی بات بالکل درست ہے۔چیف جسٹس سے کل ملاقات ہوئی حکومت کیخلاف ہماری چارج شیٹ بہت لمبی ہے، عدلیہ سے ہم زیادہ خوش نہیں، ہم نے ملاقات میں عدالتی رویہ کے حوالے سے گزارشات رکھی ہیں۔ہمارا الائنس کا وفد کراچی گیا ہے، یہ تحریک چلے گی، تمام اپوزیشن کیساتھ الائنس بنانے جارہے ہیں،آئین کی سر بلندی کیلیے تحریک چلا رہے ہیں تاکہ ووٹ چوری نہ ہو،سیاسی جماعتوں کا اپنا منشور انٹرل پراسس کرتے ہیں، اسی وجہ سے تحریک میں ٹائم لگتا ہے۔شیر افضل مروت کا معاملہ پارٹی کا انٹرل معاملہ ہے، کوئی بھی اگر ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتا ہے تو ہم اک پراسس چلاتے ہیں۔9مئی میں پارٹی چھوڑنے والوں کے حوالے سے خان صاحب فیصلہ کریں گے۔اکبر ایس بابر بھی کہتا ہے وہ پارٹی کا حصہ ہے، یہ ہر بندے کی اپنی ذہنی کیفیت ہے، پی ٹی آئی کا موقف واضح ہے بانی پی ٹی آئی کے خطوط جس کے نام بھی گئے بانی پی ٹی آئی نے سنجیدہ معاملات کی طرف اشارہ کیا تاکہ فوج اور عوام میں خلیج نہ ہوپی ٹی آئی کے اندرونی معاملات بالکل ٹھیک ہیں کوئی فارورڈ بلاک نہیں۔علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر و رہنما تحریک انصاف عمر ایوب نے کہا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات کا مقصد انہیں ملکی حالات سے آگاہ کرنا تھا۔سرگودھا کی انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات کے دوران انہیں تمام حالات سے آگاہ کر دیا ہے، امید ہے پاکستان میں انصاف کا بول بالا ہوگا ، ہمارے اوپر جھوٹے مقدمات درج کرنے کا سلسلہ ابھی تک نہیں تھم سکا۔انہوں نے کہا کہ موثر عدالتی نظام کیلیے پی ٹی آئی جلد اپنی تجاویز باضابطہ طور پرچیف جسٹس کو دے گی ، پی ٹی آئی کے پاس بہتر لیگل ٹیم موجود ہے ، جب تک عدالتی نظام میں بہتری نہیں آتی لوگوں میں غم و غصہ بڑھے گا ، دو مرتبہ بغیر آلات اور مانیٹرنگ کے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست کی ، دونوں مرتبہ حکومت نے حامی بھر کر ملاقات کرانے سے انکارکیا۔عمر ایوب نے کہا کہ بلوچستان میں حالات بدستور کشیدہ چل رہے ہیں ، فوج کے جوان دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہو رہے ہیں، ملک میں کوئی حکومت نام کی چیز نہیں جو حالات کو بہتر بنائے ، موجودہ حکومت کے پاس وہ ویژن ہی نہیں جس سے حالات بہتر کیے جا سکتے ہیں، ہم نے تو اسی ملک میں رہنا ہے ہمارے آبا اجداد یہیں رہتے رہے ہیں۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی کے کے حوالے سے نے کہا کہ چیف جسٹس عمر ایوب رہے ہیں
پڑھیں:
ہم عدلیہ سے خوش نہیں، چیف جسٹس کو عدالتی رویے سے متعلق بتادیا: چیئرمین پی ٹی آئی
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عدلیہ سے ہم زیادہ خوش نہیں اور چیف جسٹس سے ملاقات میں عدالتی رویے سے متعلق گزارشات رکھیں۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ چیف جسٹس سے کل ملاقات ہوئی، حکومت کے خلاف ہماری چارج شیٹ بہت لمبی ہے، چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کو سسٹم میں رہنے اور بائیکاٹ نہ کرنےکا مشورہ دیا۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ سے ہم زیادہ خوش نہیں، چیف جسٹس سے ملاقات میں عدالتی رویے سے متعلق گزارشات رکھیں، پی ٹی آئی کے ساتھ ایسا سلوک کرنا جمہوریت اور قانون کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ہمارا الائنس وفدکراچی گیا ہے، تحریک چلے گی، تمام اپوزیشن کے ساتھ الائنس بنانے جارہے ہیں، آئین کی سر بلندی کے لئے تحریک چلا رہے ہیں تاکہ ووٹ چوری نہ ہو۔
ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ شیر افضل مروت کا معاملہ پارٹی کا انٹرنل معاملہ ہے، کوئی اگر ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتا ہے تو ہم ایک پراسس چلاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی میں پارٹی چھوڑنے والوں سے متعلق بانی پی ٹی آئی فیصلہ کریں گے۔
غزہ جنگ بندی معاہدہ: حماس نے مزید 6 یرغمالیوں کو ریڈ کراس کے سپرد کر دیا
مزید :