شیخ بلال اور باقر کاظمی نے کہا کہ  نگر کے علماء دیامر کے عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے چلاس آئے ہیں، یہاں آ کر اندازہ ہوا کہ دیامر کے عوام کے ساتھ بدترین ظلم ہو رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ چلاس میں ڈیم متاثرین کے دھرنے میں شرکت کیلئے نگر سے آئے ہوئے علماء نے یقین دلایا ہے کہ دیامر کے عوام کے حقوق کیلئے ہر قسم کے تعاون کیلئے تیار ہیں۔ سابق ممبر اسمبلی و نون لیگ جی بی کے رہنما جاوید حسین نے کہا ہے کہ واپڈا اور حکومت کی جانب سے دیامر کے عوام پر ظلم کا سلسلہ مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہاں کے لوگ اپنے حق کیلئے کوشش کر رہے ہیں لیکن واپڈا حقوق کو دبانے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔ چلاس میں متاثرین دیامر ڈیم کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے آباو اجداد نے کلمہ کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ الحق کیا تھا لیکن اس فیصلے کو آج بھی آپ تسلیم کرنے کو تیار نہیں تو پھر ہمیں بتایا جائے کہ آپ نے آخر ہمیں دینا کیا ہے۔ ماضی میں دیامر اور نگر کے عوام کے درمیاں نفرتیں پھیلائی گئیں، انہیں لڑایا گیا اور علاقے کو بدامنی کی طرف دھکیل دیا گیا، وہ وقت اب گزر چکا ہے، عوام ان ڈیزائنرز سے تنگ آچکے ہیں۔

دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے نگر سے آئے ہوئے شیخ بلال اور باقر کاظمی نے کہا کہ  نگر کے علماء دیامر کے عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے چلاس آئے ہیں، یہاں آ کر اندازہ ہوا کہ دیامر کے عوام کے ساتھ بدترین ظلم ہو رہا ہے۔ انہوں ںے کہا کہ دیامر کے علماء کی طرف سے جو عزت اور احترام ملا انہیں نہیں بھولیں گے، ہم دیامر کے عوام کے حقوق کی خاطر لانگ مارچ کیلئے تیار ہیں۔ دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ ڈیم متاثرین مولانا حضرت اللہ نے علماء نگر، گلگت اور اپوزیشن لیڈر کاظم میثم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ نگر گلگت اور بلتستان سے دیامر آنے والے قافلوں کو خوش آمدید کہتے ہیں اور اتحاد بین المسلمین کا مظاہرہ کرنے پر آغا علی رضوی اور نگر کے عوام کا مشکور ہیں۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: دیامر کے عوام کے کہ دیامر کے کے علماء نے کہا کہا کہ نگر کے

پڑھیں:

وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ کا سعودی میڈیا فورم 2025 میں اظہارِ خیال، پاکستان اور عالمی میڈیا تعاون پر زور

ریاض (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے سعودی میڈیا فورم 2025ء کے زیر اہتمام مباحثے میں شرکت کی اور اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں وژن 2030ء کے تحت ہونے والی تبدیلیوں کو دیکھ کر خوشی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وژن محض ایک خواب نہیں بلکہ حقیقت میں ڈھل چکا ہے، اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب میں ایک عظیم انقلاب آ چکا ہے۔

عطاءاللہ تارڑ نے پاکستان میں میڈیا کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت الیکٹرانک، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کی ترقی کے لیے کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 24 کروڑ آبادی میں سے 18 کروڑ افراد انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں، اور ملک کی 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے پاکستان کی تاریخی اور ثقافتی حیثیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم دریائے سندھ کے کنارے بسنے والی ایک قدیم تہذیب کے امین ہیں اور پاکستانی قوم ایک متحرک اور پرجوش قوم ہے جو دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کی محافظ ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو ایسے میڈیا کی ضرورت ہے جو سماجی مسائل پر روشنی ڈالے اور عوام کو اپنی رائے کے اظہار کا موقع فراہم کرے۔ انہوں نے ٹیلنٹ اور ہنر کی شناخت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں باصلاحیت افراد کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اس موقع پر انہوں نے آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید چنائے، نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی اور ثمینہ بیگ جیسی باہمت خواتین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کا فخر ہیں۔ ثمینہ بیگ واحد پاکستانی خاتون کوہ پیما ہیں جنہوں نے ماﺅنٹ ایورسٹ اور کے ٹو سمیت دنیا کی سات بلند ترین چوٹیوں کو سر کیا ہے۔

عطاءاللہ تارڑ نے عالمی میڈیا کے ساتھ شراکت داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس بہترین نیوز چینلز، تفریحی چینلز، فلم سازی اور دستاویزی فلمیں بنانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ نئے معاہدے کیے جائیں، اشتراک بڑھایا جائے اور عالمی میڈیا پر پاکستان کی شناخت کو مزید مضبوط کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی تعاون سے نہ صرف مواقع بڑھتے ہیں بلکہ انسانی ترقی بھی ممکن ہوتی ہے۔

انہوں نے عالمی مسائل پر درست معلومات کی فراہمی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ غزہ جیسے عالمی مسائل کے بارے میں صحیح اور حقیقی معلومات فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ دنیا وہاں ہونے والے مظالم سے آگاہ ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غلط معلومات اور جھوٹی خبروں کے پھیلاﺅ کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے اور پاکستان میڈیا کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کا خیرمقدم کرتا ہے۔

عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ ترقی اور بہتری کی ہمیشہ گنجائش موجود رہتی ہے اور عالمی شراکت داری کے ذریعے مقامی میڈیا اداروں میں مثالی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا حکومت کی پالیسی کا حصہ ہے کیونکہ پاکستان کے پاس ایک عظیم ثقافتی ورثہ ہے اور یہاں کے لوگوں کے پاس بہت سی کہانیاں ہیں جو دنیا کے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا آﺅٹ لیٹس کی پاکستان میں مقامی میڈیا آﺅٹ لیٹس کے ساتھ شراکت داری خوش آئند ہوگی، کیونکہ اس سے میڈیا کی ترقی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ فیک نیوز اور مس انفارمیشن اس وقت دنیا کے سب سے بڑے چیلنجز میں شامل ہیں جو سماجی مسائل کو جنم دیتے ہیں، اور ہمیں اس چیلنج کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیر اطلاعات نے تجویز دی کہ عالمی سطح پر ایک ایسا ادارہ ہونا چاہئے جہاں مصنوعی ذہانت کے ذریعے حقائق کی جانچ کا نظام موجود ہو۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت کے استعمال میں غیر جانبداری ضروری ہے، اور یہ کسی ایک جانب جھکاؤ نہیں رکھ سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ حقائق کی تصدیق کے لیے جامع، مستند اور معتبر نظام ناگزیر ہے تاکہ عوام اس پر بھروسہ کر سکیں۔

عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ عالمی میڈیا ادارے مقامی میڈیا کے ساتھ تعاون اور اشتراک کے لیے تیار ہیں، اور ایسی شراکت داری سے شفافیت کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی میڈیا کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے اور اس کی ساکھ کو مضبوط کرنے کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور عالمی تعاون سے میڈیا انڈسٹری میں ایک مثبت انقلاب لایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دیامر کے لوگ ہمارے بھائی نہیں جان ہیں، ان کیلئے کٹ مرنے کو تیار ہیں، کاظم میثم
  • وزیر اعظم نے دیامر بھاشا ڈیم متاثرین کے مطالبات پر غور کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی
  • دیامر کے عوام حکم کریں تو سکردو میں دھرنا دینے کو تیار ہیں، سید علی رضوی
  • مارکیٹ میں چھاپہ مار کارروائیاں، دکانداروں کو ہراساں نہ کیاجائے
  • مطالبات کی تکمیل کی یقین دہانی پر وفاقی ملازمین کا احتجاج ختم
  • حکومت پاکستان کی سنجیدگی و عزم قابل تعریف، مزید تعاون کے لیے تیار ہیں، آئی ایم ایف
  • نیشنل اسٹیڈیم چیمپئنز ٹرافی کے دوسرے میچ کیلئے تیار
  • سپریم کورٹ باروفد کی چیف جسٹس سے ملاقات،اصلاحاتی عمل میں حمایت کی یقین دہانی
  • وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ کا سعودی میڈیا فورم 2025 میں اظہارِ خیال، پاکستان اور عالمی میڈیا تعاون پر زور