حماس نے چھ اسرائیلی قیدی رہا کر دیئے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2025 GMT
القسام بریگیڈ کے مسلح نقاب پوش دسیوں مجاھدین نے غزہ کی پٹی کے جنوب اور مرکز میں النصیرات میں چھ قیدیوں کو بین الاقوامی ریڈ کراس کے حوالے کرنے کی کارروائی میں حصہ لیا جب کہ اس موقع پر عوام شہریوں کا ایک جم غفیر بھی موجود تھا۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے عسکری ونگ عز الدین القسام بریگیڈز نے ہفتے کے روز جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے اندر قیدیوں کے تبادلے کے عمل کے دوران قابض اسرائیل کے چھ قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق القسام بریگیڈ کے مسلح نقاب پوش دسیوں مجاھدین نے غزہ کی پٹی کے جنوب اور مرکز میں النصیرات میں چھ قیدیوں کو بین الاقوامی ریڈ کراس کے حوالے کرنے کی کارروائی میں حصہ لیا جب کہ اس موقع پر عوام شہریوں کا ایک جم غفیر بھی موجود تھا۔ دوسری طرف آج قابض اسرائیلی جیلوں سے 602 فلسطینی قیدیوں کی رہائی متوقع ہے، جن میں عمر قید کی سزا پانے والے 50 قیدی، طویل قید کی سزا پانے والے 60 قیدی جب کہ سنہ دو ہزار گیارہ میں طے پائے وفا الاحرار معاہدے کے تحت رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار کیے جانے والے 47 قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔ ان کے علاوہ 7 اکتوبر 2023ء کے بعد غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے دوران گرفتار کیے جانے والے 445 فلسطینی قیدی بھی آج رہا ہونے والوں میں شامل ہیں۔
.ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قیدیوں کو
پڑھیں:
حماس کی بڑی پیشکش: تمام اسرائیلی قیدیوں کی مشروط رہائی پر آمادگی
غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے مستقل جنگ بندی کے بدلے تمام اسرائیلی قیدیوں کو ایک ساتھ رہا کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی۔
غزہ میں جنگ بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ اختتام کے قریب پہنچ گیا ہے اور اسی حوالے سے حماس نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ وہ دوسرے مرحلے کے لیے بھی تیار ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ اگر اسرائیل مستقل جنگ بندی پر راضی ہو اور اپنی فوج غزہ سے مکمل طور پر نکال لے، تو حماس باقی تمام اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے اور 8 لاشیں واپس کرنے کے لیے تیار ہے۔
حماس نے اسرائیل کی جانب سے تنظیم کو غیر مسلح کرنے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ شرط کسی صورت قابل قبول نہیں۔