اسلام آباد:اپوزیشن جماعتوں نے حکومت مخالف اتحاد کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت وہ سندھ میں اہم سیاسی قیادت اور دیگر رہنماؤں و شخصیات سے رابطے بڑھا رہی ہیں۔

اپوزیشن کی مشترکہ قیادت نے سندھ کے 3روزہ دورے کا آغاز کیا ہے، جس کے دوران وہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے رہنماؤں اور دیگر اہم سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔ اس دورے کا بنیادی مقصد حکومت مخالف اتحاد کو مضبوط بنانا اور ملک بھر میں سیاسی حمایت حاصل کرنا ہے۔

اپوزیشن کی قیادت، جس میں محمود اچکزئی، اسد قیصر، صاحبزادہ حامد رضا، اخونزادہ حسین، بی این پی مینگل اور ایم ڈبلیو ایم کے نمائندے شامل ہیں، سندھ کے مختلف شہروں میں اہم ملاقاتیں کریں گے۔ اس وفد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا بھی شامل ہوں گے۔

وفد حیدرآباد میں جیے سندھ کے سربراہ ایاز پلیجو سے ملاقات کرے گا،  جس میں سیاسی صورتحال اور حکومت مخالف اتحاد کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کرے گا۔ علاوہ ازیں اپوزیشن وفد سندھ کے 3روزہ دورے کے دوران بزنس کمیونٹی اور بار ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کرے گا، جس  میں معاشی پالیسیوں، کاروباری مسائل اور حکومت کی معاشی ناکامیوں پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔

وفد کراچی میں پی ٹی آئی کے عہدیداروں سے بھی ملاقات کرے گا، جس میں موجودہ سیاسی صورتحال اور پارٹی کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال ہوگا۔ علاوہ ازیں اپوزیشن رہنما سندھ کے دورے کے دوران صحافی برادری سے بھی ملاقات کریں گے، جس میں میڈیا کی آزادی اور حکومت کی جانب سے صحافیوں پر دباؤ کے خلاف اپنے موقف کا اظہار کیا جائے گا۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ آزادی صحافت اور صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

اپوزیشن جماعتوں کا یہ دورہ حکومت مخالف اتحاد کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس حوالے سے اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت ملک کو معاشی اور سیاسی بحران کی طرف لے جا رہی ہے اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اتحاد کی ضرورت ہے۔ وہ ملک بھر میں مختلف سیاسی جماعتوں، طبقوں، اور پیشہ ور افراد سے رابطے بڑھا کر ایک مضبوط سیاسی محاذ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

.

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حکومت مخالف اتحاد کو سندھ کے کریں گے کرے گا

پڑھیں:

نہریں نہیں بننے دینگے ہمارا کیس مضبوط، کوئی مسترد نہیں کر سکتا: مراد شاہ 

جامشورو (نامہ نگار) وزیر اعلیٰٰ سندہ سید مراد علی شاہ اپنے والد سابق  وزیر اعلیٰ سندھ سید عبداللہ شاہ کی 18 ویں برسی کی تقریب میں شرکت کیلئے واہڑ پہنچے جہاں انہوں نے مزار پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے 18 اپریل کو حیدرآباد میں جلسے کا اعلان کیا ہے جس میں عوام بھرپور طریقے سے شرکت کریں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مجھے پتہ نہیں کہ اعظم سواتی کو کس نے مذاکرات کا مینڈیٹ دیا ہے تاہم ہم چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی والے اپنی طرز سیاست کو چھوڑ کر مثبت سیاست کریں اور ملک و قوم کے مفاد کے مد نظر سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ کینالز کسی صورت نہیں بننے دیں گے۔ ہمارا کیس مضبوط ہے اور ہمارے موقف کو کوئی مسترد بھی نہیں کر سکتا جبکہ بلاول بھٹو نے بھی یہ واضح طور پر کہا ہے کہ اگر ایسا کچھ ہوا تو وہ عوام کے ساتھ ہوں گے، وفاق کے ساتھ نہیں ہوںگے۔

متعلقہ مضامین

  • ارسا نے سندھ کو زیادہ پانی دینے کے پنجاب حکومت کے دعوے کو مسترد کردیا
  • امریکی وفد سے پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملاقات اپوزیشن لیڈرز کو نہ بلانا بدنیتی: شبلی فراز
  • نہریں نہیں بننے دینگے ہمارا کیس مضبوط، کوئی مسترد نہیں کر سکتا: مراد شاہ 
  • ارسا نے سندھ کو زیادہ پانی دینے سے متعلق پنجاب حکومت کی رپورٹ مسترد کر دی
  • چیف جسٹس سے ایران اور ترکیہ کے سفرا کی علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں،عدالتی اور ادارہ جاتی تعاون مضبوط کرنے پر اتفاق
  • ہمارا موقف اور کیس مضبوط ہے، جو بھی سنے گا وہ کینالز منصوبے کو ترک کردے گا، مراد علی شاہ
  • سندھ حکومت اور اپوزیشن اپنے منشور کے مطابق مسائل حل کرنے میں ناکام، رپورٹ
  • اپوزیشن اتحاد کا 20 اپریل کو اسلام آباد میں جلسہ کرنے کا فیصلہ
  • اپوزیشن اتحاد کا 20 اپریل کو اسلام آباد میں جلسہ کرنے کا فیصلہ لیکن میزبانی کون کرے گا؟ پتہ چل گیا
  • پی ٹی آئی رہنماؤں پر مائنز اینڈ منرل بل سے متعلق بیانات پر پابندی عائد