اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ای الیون چلڈرن پارک میں غیر قانونی تعمیرات روکنے اور پارک کو اصل حالت میں بحال کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

جسٹس محمد آصف نے ای الیون چلڈرن پارک میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔  

ای الیون کے رہائشیوں نے چلڈرن پارک پر قبضے اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔ پٹیشنرز کی جانب سے ایڈووکیٹ کاشف علی ملک دیگر وکلا کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔

وکیل درخواست گزار نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ گرین ایریا یا پبلک پارک کو کمرشل ایریا میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مسلح افراد ہیوی مشینری کے ساتھ پارک میں داخل ہوئے اور بچوں کے جھولے اکھاڑ دیے، جس سے ای الیون کے رہائشی شدید پریشانی کا شکار ہوئے اور ان کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔  

وکیل کاشف علی ملک نے عدالت کو آگاہ کیا کہ متاثرین میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک سینئر جج بھی شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاملہ سی ڈی اے کے علم میں لانے کے باوجود اتھارٹی غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات ختم کرانے میں ناکام رہی۔  

کاشف علی ملک ایڈووکیٹ نے یہ بھی بتایا کہ قابضین کو غیر قانونی تعمیرات سے روکنے پر علاقے میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔  

عدالت نے غیر قانونی تعمیرات کو فوری طور پر روکنے اور چلڈرن پارک کو اصل حالت میں بحال کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔  

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: غیر قانونی تعمیرات

پڑھیں:

26 نومبر احتجاج کیس میں بشریٰ بی بی کو شامل تفتیش کیا جائے، عدالت کا تفتیشی افسر کو حکم

اسلام آباد:

عدالت نے 26 نومبر احتجاج کیس میں بشریٰ بی بی کو شامل تفتیش کرنے کا حکم جاری کردیا۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں بشریٰ بی بی کے خلاف 26 نومبر احتجاج پر درج مقدمے  کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے متعلقہ مقدمے میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں 6 مئی تک توسیع کردی۔

ایڈیشنل سیشن جج چوہدری عامر ضیا نے بشریٰ بی بی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت کی ، جس میں عدالت نے تفتیشی افسر کو بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ اور مقدمے میں ملزمہ بشریٰ بی بی کو شامل تفتیش کرنے کا حکم دے  دیا۔

پی ٹی آئی کے وکلاکی جانب سے بشریٰ بی بی کی حاضری معافی کی درخواست دائر کی  گئی تھی، جس میں خالد یوسف چوہدری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے جب کہ  اسپیشل پبلک پراسیکیوٹرز بیرسٹر فہد ارسلان چوہدری ، محمد عثمان رانا ایڈووکیٹ ، بیرسٹر منصور اعظم بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

واضح رہے کہ بشریٰ بی بی کیخلاف 26 نومبر احتجاج پر تھانہ رمنا میں مقدمہ درج ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا 4 لاپتہ افغان بھائیوں کو 2 ہفتوں میں بازیاب کرانے کا حکم
  • لاپتا 4افغان بھائی؛ اسلام آباد ہائیکورٹ نے بازیابی کیلیے پولیس کو مزید دو ہفتوں کا وقت دیدیا
  • سندھ بلڈنگ ،ناظم آباد میں جاری غیر قانونی تعمیرات تاحال جاری
  • سندھ بلڈنگ ،انہدامی کارروائیاں صرف وسطی تک محدود، باقی علاقوں کو چھوٹ
  • 26 نومبر احتجاج کیس میں بشریٰ بی بی کو شامل تفتیش کیا جائے، عدالت کا تفتیشی افسر کو حکم
  • سپریم کورٹ آئینی بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹرانسفر ججوں کو کام سے روکنے کی استدعا مسترد کردی
  • سپریم کورٹ: اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کی سنیارٹی لسٹ معطل کرنے اور ٹرانسفر ججوں کو کام سے روکنے کی استدعا مسترد
  • ججز ٹرانسفر کیس، قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو کام سے روکنے کی استدعا مسترد، 3ججز کو نوٹس جاری کردیے
  • اسلام آباد ہائیکورٹ ججز سینیارٹی کیس: جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس خادم حسین اور جسٹس آصف سعید کو کام سے روکنے کی استدعا مسترد
  • سندھ بلڈنگ کے موجودہ و سابق ڈائریکٹر جنرلز اسحق کھوڑو اور عبدالرشید سولنگی نیب کے ریڈار پر