پاکستان میں کاروباری اعتماد بڑھ گیا، ملکی سمت سے متعلق خدشات برقرار ہیں؛ گیلپ سروے
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2025 GMT
کراچی:
پاکستان کے کاروباری اداروں کا ملک میں کاروباری مواقع سے متعلق اعتماد بحال ہورہا ہے لیکن اس کے باوجود کاروباری طبقے کی اکثریت نے ملک کی سمت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔
تازہ ترین سروے کے مطابق کاروباری اداروں کا یہ تاثر ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتاہے۔
گیلپ پاکستان کی بزنس کانفیڈنس انڈیکس 2024کی چوتھی سہ ماہی کی رپورٹ میں 55فیصد کاروباری اداروں کے مطابق ان کے کاروبار اس وقت اچھے یا بہت اچھے چل رہے ہیں۔ سال 2024 کی چوتھی سہ ماہی میں تقریباً 6ماہ قبل کیے گئے سروے کے مقابلے میں کاروباری اداروں کے تاثرات میں 10فیصد بہتری آئی ہے۔
سروے رپورٹ کے مطابق خراب ترین کاروباری حالات کا تاثر دینے والے کاروباری اداروں کی تعداد میں 7فیصد کمی آئی ہے۔ موجودہ کاروباری صورتحال کی درجہ بندی کے وقت خدمات اور تجارت کے شعبوں کے مقابلے میں مینو فیکچرنگ سیکٹر کا کم اعتماد بحال ہوا ہے جب کہ مستقبل کے بارے میں کاروباری ادارے زیادہ پُرامید ہیں اور اعتماد کے اسکور میں گزشتہ 6ماہ کے مقابلے میں 19فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
چوتھی سہ ماہی میں 60فیصد کاروباری اداروں نے مستقبل کے بارے میں مثبت توقعات کاا ظہار کیا ہے جب کہ 40فیصد کاروباری اداروں نے مستقبل کے بارے میں کاروباری حالات مزید خراب ہونے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔
چوتھی سہ ماہی میں دوسری سہ ماہی کے مقابلے میں نیٹ بزنس کانفیڈنس میں 36فیصد اضافہ ہوا ہے۔
سروے رپورٹ کے مطابق مہنگائی میں کمی، معاشی استحکام اور شرح سود میں کمی کاروباری مایوسی میں بڑی کمی کی اہم وجوہات ہیں۔ گیلپ رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند سہ ماہیوں کا رجحان مسلسل منفی رہا تاہم موجودہ سہ ماہی میں کچھ بہتری آئی ہے۔
سروے میں 41 فیصد کاروباری اداروں کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت نے معیشت کو بہتر طور پر سنبھالا ہے جب کہ 38فیصد شرکا نے سابق وزیرِاعظم عمران خان کی حکومت کو بہتر منیجر قراردیا۔ اسی طرح 21فیصد شرکا کے مطابق دونوں حکومتوں کی کارکردگی میں کوئی فرق نہیں۔
سروے شرکا کے مطابق سب سے اہم مسئلہ کمر توڑ مہنگائی ہے جو صارفین کی قوتِ خرید ختم کرتی ہے۔ 30فیصد کاروباری ادارے حکومت سے اس مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔ مجموعی طورپر سروے میں کہا گیا ہے کہ گیلپ بزنس کانفیڈنس کے تینوں شعبوں میں 2024کی دوسری سہ ماہی میں بہتری دیکھی گئی ہے جو کاروباری اداروں میں امید کی عکاسی ہے۔
واضح رہے کہ موجودہ سروے بزنس کانفیڈنس کا 14 واں ایڈیشن ہے جس کا انعقاد گیلپ پاکستان نے ملک کے 30سے زائد اضلاع کے 482چھوٹے، درمیانے اور بڑے درجے کے کاروباری اداروں کے ساتھ کیا گیا۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کاروباری اداروں کے بزنس کانفیڈنس کے مقابلے میں میں کاروباری کے بارے میں سہ ماہی میں کے مطابق میں کا
پڑھیں:
سیاسی سروے 2024-2025: پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت میں کمی، مسلم لیگ (ن) کی حمایت میں اضافہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) تازہ ترین سیاسی سروے 2024-2025 کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (PTI) اب بھی سب سے زیادہ مقبول جماعت ہے، تاہم اس کی مقبولیت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ 2024 میں پی ٹی آئی کی حمایت 51.71 فیصد تھی جو 2025 میں کم ہو کر 43.37 فیصد رہ گئی۔پاکستان مسلم لیگ (ن) (PML-N) کی مقبولیت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو 2024 میں 13.40فیصد تھی جبکہ 2025 میں بڑھ کر 24.10 فیصد تک پہنچ گئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کی حمایت تقریباً مستحکم رہی، جبکہ جماعت اسلامی (JI) کی مقبولیت 2.59فیصد سے بڑھ کر 4.82 فیصد ہو گئی۔
وائس چانسلر کے نوٹس پر ایکشن ،پنجاب یونیورسٹی کی اراضی 50سال بعد ناجائز قابضین سے واگزار کروا لی گئی
جب نوجوانوں سے پوچھا گیا کہ کونسی سیاسی جماعت نے گزشتہ ایک دہائی میں پاکستان کی ترقی میں سب سے اہم کردار ادا کیاہے تو 47فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن نے سب سے اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ 46فیصد لوگوں نے تحریک انصاف کا نام لیا، پانچ فیصد لوگوں نے جماعت اسلامی جبکہ چار فیصد لوگوں نے پیپلز پارٹی کو ملکی ترقی کے لیے اہم قرار دیا۔نوجوانوں سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان درست سمت میں گامزن ہے تو اس سوال کے جواب میں 21فیصد زائد نوجوانوں نے ملک کو درست سمت میں گامزن قرار دیا جبکہ گزشتہ سال صرف 8فیصد لوگوں نے ملک کی سمت کو درست قرار دیا تھا۔موجودہ حکومت کی پرفارمنس سے متعلق سوال پر 27فیصد لوگوں نے اطمینان کا اظہار کیا جبکہ گزشتہ سال اس سوال پر 10فیصد لوگوں نے ہی اطمینان کا اظہار کیا تھا۔
ماں اور بیٹے کو قتل کرنے والا ملزم 45 سال بعد سائنسی ترقی کی وجہ سے پکڑا گیا
مزید :