سڈنی:ایک گھر میں 100 سے زائد زہریلے سانپ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT
سڈنی: آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا، جہاں ڈیوڈ اسٹین نامی شہری نے اپنے گھر کےعقب میں 6 سیاہ سانپ دیکھے، انسانی زندگی کے لیے خطرناک ان سانپوں کو دیکھ کر اسٹین اور ان کے اہل خانہ خوفزدہ ہو گئے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق ڈیوڈ کی اہلیہ نے اتنے سارے سانپوں کو دیکھ کر فوری طور پر گوگل پر سرچ کیا تو معلوم ہوا کہ اتنی بڑی تعداد میں سانپ اس وقت جمع ہوتے ہیں جب وہ انڈے دینے والے ہوتے ہیں۔
جس کے بعد آسٹریلیا کے اسٹین نامی شہری نے سانپ پکڑنے والے ماہر ڈیلن کوپر سے رابطہ کیا، ڈیلن اور ان کی ٹیم نے گھر پہنچ کر معائنہ کیا اور تین گھنٹے کی محنت کے بعد 102 سیاہ سانپوں کو پکڑ لیا، جن میں پانچ بالغ سانپ شامل تھے، جن میں سے چار انڈے دے رہے تھے اور ان کے ساتھ درجنوں سانپ کے بچے بھی موجود تھے۔
اس واقعے نے مقامی کمیونٹی کو چونکا دیا اور سانپوں کی موجودگی کے بارے میں آگاہی بڑھانے کی ضرورت کو اجاگر کیا، ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے گھروں اور باغات کی صفائی رکھیں اور سانپوں کی موجودگی کی صورت میں فوری طور پر ماہرین سے رابطہ کریں۔
واضح رہے کہ یہ سانپ ریڈ بیلیڈ بلیک اسنیکس (Red-bellied Black Snakes) تھے، جو آسٹریلیا کی زہریلی سانپوں کی اقسام میں سے ہیں، مادہ سانپ عموماً اجتماعی طور پر بچوں کو جنم دیتی ہیں، لیکن ایک ہی وقت میں اتنے زیادہ سانپوں کی پیدائش کا منظر انتہائی غیر معمولی تھا۔
.ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سانپوں کی
پڑھیں:
2,500 سے زائد ترک شدہ کوئلے کے ڈھیر، کیا جنوبی ویلز ایک اور تباہی کے دہانے پر ہے؟
ویلز میں 2,573 ترک شدہ کوئلے کے ڈھیر موجود ہیں، جن میں سے 360 کو انتہائی خطرناک قرار دیا جا چکا ہے۔
نومبر میں پیش آنے والے کُمٹیلیری حادثے کے بعد جس میں ترک شدہ کوئلے کے ڈھیر کے جزوی طور پر منہدم ہونے کے نتیجے میں تقریباً 40 گھروں کو خالی کرانا پڑا حادثہ نومبر میں شدید بارشوں کے بعد پیش آیا، جب اسٹورم برٹ کے باعث مٹی اور ملبے کا یہ ڈھیر کھسک گیا تھا۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو ایک اور ایبرفین سانحہ رونما ہو سکتا ہے، جس کا خمیازہ معصوم عوام کو بھگتنا پڑے گا۔
جنوبی ویلز میں ترک شدہ کوئلے کے ڈھیروں کے قریب بسنے والے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ تقریباً 60 سال گزرنے کے باوجود ایبرفین سانحے سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔
یہ خدشات نومبر میں کُمٹیلیری، بلیناؤ گوینٹ میں ایک ترک شدہ کوئلے کے ڈھیر کے جزوی طور پر منہدم ہونے کے بعد مزید شدت اختیار کر گئے ہیں، جس کے نتیجے میں تقریباً 40 گھروں کو خالی کرانا پڑا۔
کوئلے کے یہ ڈھیر دراصل کوئلے کی کان کنی کے دوران نکلنے والے فاضل مواد سے بنے ہوتے ہیں، جن میں سے بیشتر کئی دہائیوں سے موجود ہیں۔
68 سالہ ڈایان مورگن جو گزشتہ 10 سال سے کُمٹیلیری میں اپنے تعمیر کردہ گھر میں رہائش پذیر ہیں، کا کہنا ہے کہ انہیں اس وقت تک معلوم نہیں تھا کہ ان کے گھر کے پیچھے ایک کیٹیگری ڈی (انتہائی خطرناک) کوئلے کا ڈھیر موجود ہے، جب تک کہ شدید بارشوں کے بعد یہ ڈھیر کھسک نہ گیا۔
انہوں نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ہمیں صرف یہ بتایا گیا تھا کہ یہاں زیر زمین کانیں موجود ہیں، لیکن جب ہم نے پراپرٹی کی جانچ کرائی تو کہیں بھی کوئلے کے ڈھیر کا ذکر نہیں تھا۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ میرے پیچھے ایک ترک شدہ ڈھیر ہے، تو میں یہاں کبھی گھر نہ بناتی۔
ویلش حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ویلز میں 2,573 ترک شدہ کوئلے کے ڈھیر موجود ہیں، جن میں سے زیادہ تر جنوبی ویلز کی سابقہ کان کنی والی کمیونٹیز میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے 360 کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے اور انہیں سال میں کم از کم ایک بار مانیٹر کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ عوامی تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
مس مورگن کا کہنا ہے کہ1966 میں ایبرفین میں جو کچھ ہوا، اس کے بعد بھی کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔
ایبرفین سانحے میں ایک کولیری (کوئلے کی کان) کے ملبے کا ڈھیر شدید بارشوں کے بعد اچانک کیچڑ کی صورت میں نیچے آبادی پر آ گرا تھا، جس کے نتیجے میں 144 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 116 بچے شامل تھے۔
یہ سانحہ برطانیہ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن کان کنی حادثہ سمجھا جاتا ہے اور حال ہی میں اسے نیٹ فلکس سیریز دی کراؤن کے ایک ایپی سوڈ میں بھی دکھایا گیا ہے۔
رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ماضی کی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا تو مستقبل میں مزید حادثات کا خطرہ برقرار رہے گا۔