Jasarat News:
2025-04-16@08:34:31 GMT

معیشت کی بہتری یا محض اعداد وشمار کا کھیل؟

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2025 GMT

معیشت کی بہتری یا محض اعداد وشمار کا کھیل؟

پاکستان کی معیشت کے بارے میں حالیہ دنوں میں جو تصویر پیش کی جا رہی ہے، اس کا عکس بھی عملی دنیا میں نظر نہیں آرہا ہے، افراطِ زر کی شرح میں نمایاں کمی، بنیادی شرح سود میں تخفیف، اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ جیسے عوامل کو معاشی کامیابیوں کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ کے سربراہ، نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف کہہ رہے ہیں کہ معاشی بہتری اور مہنگائی میں کمی ملک و قوم کے لیے اچھے اشارے ہیں۔ جبکہ حکومت نے مہنگائی میں کمی کا دعویٰ کیا ہے اس کے برعکس 13 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق سالانہ بنیاد پر 1.

02 فی صد اضافہ ریکارڈ ہوا۔ یہاں تک کہ ڈیزل، چینی، لہسن، نمک، پٹرول، سگریٹ، کپڑا، خشک دودھ اور جلانے کی لکڑی مہنگی ہوئیں ہیں۔ عام آدمی کی حالت ِ زار کو دیکھتے ہوئے حکومتی دعوے کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں۔ سڑکوں پر مزدور ضرور نظر آتے ہیں، مگر ان کے پاس کام نہیں ہے۔ صرف افراط زر کی شرح کو بیان کر کے خوشی سے بغلیں بجانا درست نہیں ہے۔ افراط زر کا اصل فائدہ تب ہوتا ہے، جب پیداوار اور لوگوں کی آمدن بڑھ رہی ہو اور ان کی قوت خرید اتنی ہو کہ وہ کم افراط زر میں اپنی ضروریات کی چیزیں خرید سکیں۔ پاکستان میں ہونے والے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے اور بھاری ٹیکسوں کے بعد لوگوں کی حقیقی آمدن بہت کم ہو چکی ہے۔ حکومت نے درآمدات کم کر دیں، عوام پر ٹیکسوں کا بھاری بوجھ لاد دیا، ملک میں غربت بڑھ گئی، اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو چکا ہے، اور آئی ایم ایف سے ہونے والا معاہدہ بھی مسائل کا شکار ہے۔ ٹیکس وصولی میں کمی اور ٹیکس چوری کے بڑھنے سے قرضوں کی ادائیگی میں دشواری ہو رہی ہے۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے اپنی کامیابیوں کا ڈھول پیٹنا سمجھ سے باہر ہے۔ عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ’’فچ‘‘ کی رپورٹ پاکستان کی مالیاتی استحکام کی چند کامیابیوں کو تسلیم کرتی ہے، مگر ساتھ ہی بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور آئی ایم ایف کے پروگرام میں تاخیر کے خطرات کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان نے سخت مالیاتی پالیسیوں کے ذریعے مہنگائی کو قابو میں رکھا اور جاری کھاتوں کے خسارے کو سرپلس میں تبدیل کیا۔ لیکن کیا یہ تبدیلیاں پاکستان کے مزدور طبقے کے حالاتِ زندگی میں کوئی واضح بہتری لا سکی ہیں؟ مہنگائی کی شرح میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ قیمتیں کم ہو گئی ہیں بلکہ یہ صرف قیمتوں کے بڑھنے کی رفتار میں سست روی کی عکاسی کرتا ہے۔ عام شہری کے لیے جو روزانہ کی بنیاد پر مہنگائی کا سامنا کرتا ہے، یہ شرح کمی محض ایک ظاہری عددی خوش فہمی سے زیادہ کچھ نہیں۔ پاکستان کی معیشت کی اصل کمزوری اس کی پیداواری صلاحیت میں کمی ہے جس پر ابھی تک کسی بھی حکومت نے سنجیدگی سے توجہ نہیں دی۔ پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی میں اجرتوں کی سب سے زیادہ اوسط سالانہ شرحِ نمو محض 12 فی صد رہی ہے۔ یہ توقع کرنا کہ اجرتیں تقریباً دوگنا رفتار سے بڑھیں گی، اقتصادی منطق کے خلاف ہے۔ پاکستان کو مستقل طور پر ادائیگیوں کے توازن کے بحران کا سامنا رہتا ہے، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، جدید ٹیکنالوجی کا فروغ، اور افرادی قوت کی پیشہ ورانہ تربیت وہ عوامل ہیں جو معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کر سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پالیسیاں بناتے وقت زمینی حقائق کو مدنظر رکھے اور ایسے اقدامات کرے جو عام آدمی کی قوت خرید میں حقیقی اضافہ کریں۔ پاکستان کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے ضروری ہے کہ معیشت کو صرف اعداد وشمار کی روشنی میں نہ دیکھا جائے بلکہ ان اعداد کے پیچھے چھپے ہوئے حقیقی مسائل کو سمجھا جائے۔ جب تک عام آدمی کی زندگی میں مثبت تبدیلی نہیں آتی، تب تک معیشت کی ترقی کے تمام دعوے محض کاغذی حیثیت رکھتے ہیں۔

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

مہنگائی 60 سال کی کم ترین سطح پر آنے کے حکومتی دعووں کی قلعی کھل گئی

اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 اپریل 2025ء ) مہنگائی 60 سال کی کم ترین سطح پر آنے کے حکومتی دعووں کی قلعی کھل گئی، گورنر اسٹیٹ بینک کا گزشتہ ماہ سے مہنگائی بڑھنے کا انکشاف، آئندہ ماہ سے مہنگائی مزید بڑھنے کا عندیہ دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق گورنر سٹیٹ بینک نے اعتراف کیا کہ گزشتہ ماہ سے مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مارچ 2025 میں ہم نے 0.7 فیصد کی کم ترین سطح پر افراطِ زر دیکھی تاہم آئندہ ماہ سے افراطِ زر میں اضافہ ہوگا۔

زرعی نمو کم رہنے کی وجہ سے معاشی ترقی کی شرح نمو 3 فیصد رہے گی، زرعی شعبہ کی نمو گزشتہ سال کے برابر رہتی تو معاشی ترقی کی شرح نمو 4.2 فیصد ہوتی، تمام بڑے صنعتی شعبوں میں نمو دیکھی جارہی ہے۔ تین سال قبل درآمدات پابندیوں کی وجہ سے کم رہیں، اس سال نان آئل امپورٹ 2022 سے بڑھ چکی ہیں، اس سال ماہانہ 3.8 ارب ڈالر کی نان آئل امپورٹ ہورہی ہیں، سرکاری ذخائر سال کے اختتام تک 14 ارب ڈالر رہیں گے۔

(جاری ہے)

گورنر اسٹیٹ بینک نے امریکی ٹیریف کے اثرات کے حوالے سے کہا کہ ٹیکسٹائل کی ایکسپورٹ پر تھوڑا اثر آسکتا ہے، تیل کی قیمتوں میں کمی سے فائدہ ہوگا، مجموعی طور پر پاکستان کی معیشت پر امریکی ٹیریف کا اثر محدود رہے گا۔ گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد خان نے کہا ہے کہ واشنگٹن میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی 2 ہفتے تک جاری رہنے والی اسپرنگ میٹنگز کی وجہ سے آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو قرض کی اگلی قسط موصول ہونے میں تاخیر ہوسکتی ہے جب کہ آئندہ ماہ سے افراط زر میں اضافہ ہوسکتا ہے۔                                

متعلقہ مضامین

  • فچ ریٹنگز کے اقدامات سے ملکی معیشت میں مزید بہتری اور استحکام آئے گا، وزیرخزانہ
  • بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستان کی ریٹنگ بڑھادی
  • وزیراعظم کا پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کا خیرمقدم
  • سندھ حکومت کا بڑا قدم ، خواجہ سراؤں کے لیے کھیلوں کے انعقاد کا فیصلہ
  • 2025 کے پہلے 3 ماہ میں کتنے پاکستانی بیرون ملک نوکری کیلئے گئے؟ اعداد وشمار جاری
  • بیرون ملک ملازمت کیلئے 2025 کے ابتدائی تین ماہ میں کتنے پاکستانی گئے؟ اعداد وشمار جاری
  • مہنگائی 60 سال کی کم ترین سطح پر آنے کے حکومتی دعووں کی قلعی کھل گئی
  • عوام ریلیف سے محروم کیوں؟
  • کراچی میں نیشنل پیڈل چیمپئن شپ کا کامیاب انعقاد، نوجوان کھلاڑیوں کی شاندار پرفارمنس
  • اوورسیز پاکستانیوں کا ملکی معیشت کی بہتری میں اہم کردار ہے، عطاءاللہ تارڑ