اسرائیلی جیلوں میں اب بھی 10 ہزار فلسطینی قید ہیں، فلسطینی پریزنر کلب
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT
قیدیوں کی دیکھ بھال کے فلسطینی ادارے الاسیر کلب نے غاصب اسرائیلی رژیم کی جیلوں میں 10 ہزار فلسطینی قیدیوں کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان قیدیوں میں سے سینکڑوں لاپتہ ہو چکے ہیں اور انکے انجام کے بارے کوئی اطلاع میسر نہیں! اسلام ٹائمز۔ قیدیوں کی دیکھ بھال کے فلسطینی ادارے الاسیر کلب (جمعية نادي الأسير الفلسطيني) نے اعلان کیا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے مطابق جن قیدیوں کا تبادلہ کیا گیا ہے، ان میں سے زیادہ تر جسمانی و ذہنی مسائل کا شکار ہیں۔ اس حوالے سے جاری ہونے والے اپنے بیان میں فلسطینی پریزنر کلب نے کہا کہ یہی مسئلہ آزاد ہونے والے ان قیدیوں کی ایک بڑی تعداد کی ہسپتال منتقلی کا سبب بھی بنا ہے کیونکہ غاصب صیہونی رژیم نے انہیں شدید اذیتوں، مار پیٹ اور طویل جبر کے ذریعے نفسیاتی و جسمانی مسائل میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے آج معاہدے کے پہلے مرحلے کے دوران 183 قیدیوں کے تبادلے کے بعد، سامنے آنے والی قیدیوں کی حالت زار سے غاصب صیہونی رژیم کی جیلوں میں انجام پانے والے جرائم کی خوفناک سطح کی نشاندہی ہوتی ہے کیونکہ آزاد ہونے والے ان قیدیوں میں سے بھی بہت سوں کو ہسپتال منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ ادھر فلسطینی ہلال احمر نے بھی اعلان کیا ہے کہ فلسطینی قیدیوں کی حامل ایک بس کے رام اللہ پہنچنے کے بعد 6 فلسطینی قیدیوں کو انتہائی خراب جسمانی حالت کے باعث علاج معالجے کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ فلسطینی میڈیا نے یہ اطلاع بھی دی ہے کہ ہسپتال منتقل کئے گئے 6 قیدیوں میں سے 1 فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے مرکزی رہنما جمال الطویل بھی ہیں۔ جمال الطویل کی بیٹی نے اس حوالے سے میڈیا کو بتایا کہ اسرائیلی جیل کے محافظوں نے ان کے والد کو رہائی اور ریڈ کراس کے نمائندوں کے حوالے کرنے سے چند منٹ قبل ہی شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا جبکہ ان کے جسم پر وحشیانہ صیہونی تشدد کے واضح نشانات بھی دیکھے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق غاصب صیہونی فوج نے حماس مرکزی رہنما کو رہا کرنے سے قبل آج صبح، البیرہ شہر میں واقع ان کے گھر پر حملہ بھی کیا تھا جس کے دوران جمال الطویل کے اہلخانہ کو دھمکیاں بھی دی گئیں۔
الاسیر کلب نے مزید بتایا کہ غاصب اسرائیلی رژیم کی خوفناک جیلوں میں اب بھی 10 ہزار سے زائد فلسطینی قیدی موجود ہیں جبکہ اس تعداد میں غزہ سے گرفتار کئے گئے فلسطینی شہری شامل نہیں جبکہ ان میں سے سینکڑوں تاحال لاپتہ ہیں اور ان کے انجام کے بارے کوئی اطلاع میسر نہیں۔ فلسطینی پریزنر کلب نے یہ اطلاع بھی دی کہ غاصب صیہونی رژیم فسلطینی قیدیوں کے اہلخانہ کے خلاف بھی منظم دہشتگردی کی مرتکب ہو رہی ہے جس کے دوران فلسطینی قیدیوں کے اہلخانہ کو نہ صرف گرفتاری اور ٹارگٹ کلنگ کی بارہا دھمکیاں دی جاتی ہیں بلکہ ان میں سے ایک بڑی تعداد کے گھروں کو بھی مسمار کر دیا گیا ہے۔ اپنے بیان کے آخر میں فلسطینی قیدیوں کے خلاف غاصب اسرائیلی رژیم کے گھناؤنے جرائم پر روشنی ڈالتے ہوئے فلسطینی الاسیر کلب نے تاکید کی کہ آج رہا کئے گئے قیدیوں میں سے کچھ کے جسموں میں کینسر تک کی تشخیص بھی ہوئی ہے جبکہ دیگر کو بھی متعدد دائمی و خطرناک بیماریوں کا سامنا ہے!
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فلسطینی قیدیوں قیدیوں میں سے غاصب صیہونی الاسیر کلب قیدیوں کے قیدیوں کی جیلوں میں بھی دی کلب نے گیا ہے
پڑھیں:
اسرائیلی وزیر اعظم کی بوکھلاہٹ، سعودی عرب کے اندر فلسطینی ریاست بنانےکی تجویز دیدی
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے 2 ریاستی حل مسترد کرتے ہوئے سعودی عرب کے اندر فلسطینی ریاست بنانے کی تجویز دے دی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق دورہ امریکا کے دوران اسرائیلی میڈیا کو انٹرویو میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ فلسطینی ریاست کا قیام اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سعودی فلسطینی ریاست اپنے ملک میں بناسکتے ہیں، سعودیوں کے پاس بہت زیادہ زمین ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم سے سوال کیا گیا کہ کیا سعودی عرب کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کے لیے فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے؟ اس پر نیتن یاہو نے کہا کہ فلسطینی ریاست اسرائیل کے لیے خطرہ ہے۔
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے پاس ایک ریاست تھی جس نام غزہ تھا جو حماس کے زیر قبضہ تھی اور 7 اکتوبر کو دیکھیں کیا ہوا اور ہمیں کیا ملا، اس لیے ہمیں فلسطینی ریاست قبول نہیں ہے۔
نیتن یاہو نے سعودیہ کے ساتھ تعلقات کے معمول پر آنے کے امکانات کے بارے میں کہا کہ وہ اس بات پر مکمل یقین رکھتے ہیں کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان امن ممکن ہے اور مجھے لگتا ہےکہ یہ جلد ہونے والا ہے۔