اسرائیل غزہ کی پٹی جنگ کے بعد امریکا کے حوالے کرے گا، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2025 GMT
واشنگٹن:
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی کو جنگ کے بعد امریکا کے حوالے کرے گا۔
ٹرمپ نے وضاحت دی کہ غزہ کی سرزمین پر امریکی فوجی اتارنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی کیونکہ لڑائی کے بعد اسرائیل علاقے کو فلسطینیوں سے خالی کرانے میں کامیاب ہو جائے گا۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے ٹرمپ کے منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ اس تجویز نے کچھ ریپبلکنز ارکان کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
ٹرمپ کے اس اعلان کی دنیا بھر میں مذمت کے ایک دن بعد کہ وہ غزہ کی پٹی کو مشرق وسطیٰ کا ریویرا بنانا چاہتے ہیں، اسرائیل نے اپنی فوج کو غزہ کے رہائشیوں کے رضاکارانہ انخلا کی اجازت دینے کے لئے تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔
ٹرمپ جنہوں نے اس سے قبل غزہ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کو مسترد کرنے سے انکار کر دیا تھا، نے اپنے ٹروتھ سوشل ویب پلیٹ فارم پر تبصروں میں اپنے منصوبوں کی وضاحت کی۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی کو اسرائیل جنگ کے اختتام پر امریکہ کے حوالے کر دے گا۔ فلسطینیوں کو پہلے ہی اس خطے میں نئے اور جدید گھروں کے ساتھ زیادہ محفوظ اور زیادہ خوبصورت برادریوں میں آباد کیا جا چکا ہوتا، انہوں نے کہا کہ امریکا کے کسی فوجی کی ضرورت نہیں ہوگی۔
قبل ازیں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی جانب سے ٹرمپ کی تجویز کی حمایت میں اضافے کے درمیان اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا تھا کہ انہوں نے فوج کو ایک منصوبہ تیار کرنے کا حکم دیا ہے جس کے تحت غزہ چھوڑنے کے خواہشمند افراد کو رضاکارانہ طور پر غزہ چھوڑنے کی اجازت دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ میں صدر ٹرمپ کے جرات مندانہ منصوبے کا خیرمقدم کرتا ہوں، غزہ کے رہائشیوں کو ملک چھوڑنے اور ہجرت کرنے کی آزادی دی جانی چاہیے، جیسا کہ دنیا بھر میں معمول ہے۔
کاٹز نے کہا کہ ان کے منصوبے میں لینڈ کراسنگ کے ذریعے باہر نکلنے کے آپشنز کے ساتھ ساتھ سمندر اور ہوائی راستے سے روانگی کے لئے خصوصی انتظامات شامل ہوں گے۔
ٹرمپ کا غیر متوقع اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور حماس غزہ کے لیے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر دوحہ میں مذاکرات کا آغاز کریں گے جس کا مقصد اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا اور جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
سعودی عرب نے اس تجویز کو یکسر مسترد کردیا اور اردن کے شاہ عبداللہ، جو اگلے ہفتے وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملاقات کریں گے، کہا کہ وہ زمین کو ضم کرنے اور فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہیں۔
غزہ میں اپنے چار بچوں اور خاندان کے ہمراہ گھر کے کھنڈرات میں رہنے والے عبدالغنی نے کہا کہ ہم اپنی زمین فروخت نہیں کریں گے۔
عبدالغنی نے مزید کہا کہ ہم بھوکے، بے گھر اور مایوس ہیں اگر ٹرمپ واقعی ہماری مدد کرنا چاہتا ہے تو وہ یہاں آ کر ہمارے ساتھ غزہ کی تعمیر نو میں حصہ لے۔
واضح رہے کہ فلسطینیوں کی نقل مکانی خطے میں ایک دیرینہ اور حساس مسئلہ رہا ہے، اور بہت سے لوگ ٹرمپ کی تجویز کو جبری منتقلی کی پالیسیوں کو جاری رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں، جس پر 1949 کے جنیوا کنونشن کے تحت پابندی عائد ہے۔
کچھ اسرائیلی سیاست دانوں بشمول سابق جنرل جیورا ایلنڈ نے منتقلی کے خیال کی حمایت کرتے ہوئے اسے منطقی قرار دیا تھا لیکن دوسروں کی جانب سے اس نقطہ نظر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
غزہ میں اسرائیل کی فوجی مہم کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور بہت سے فلسطینی علاقے کے اندر تحفظ حاصل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ تاہم، مستقل نقل مکانی کا وسیع پیمانے پر خوف ہے، 1948 میں "نقبہ" اسرائیلی ریاست کے قیام کو فلسطینی آج تک نہیں بھولے ہیں۔
بین الاقوامی تنقید کے جواب میں کاٹز نے تجویز پیش کی کہ اسپین، آئرلینڈ اور ناروے جیسے ممالک جنہوں نے غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کی مخالفت کی ہے، انہیں بے گھر فلسطینیوں کو پناہ دینی چاہیے کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ یہ ممالک اسرائیل کے خلاف الزامات عائد کرنے کے بعد غزہ کے رہائشیوں کو پناہ دینے کے قانونی طور پر پابند ہیں۔
ٹرمپ کی جانب سے جنگ زدہ غزہ کی پٹی کا کنٹرول امریکہ کے حوالے کرنے کی تجویز نے کچھ ریپبلکنز میں الجھن اور شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے جبکہ دیگر نے ان کے جرات مندانہ اور فیصلہ کن نقطہ نظر کی حمایت کی ہے۔
اس تجویز کی بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی ہے اور بعض ریپبلکن قانون سازوں نے اختلاف رائے کا اظہار کیا ہے، جنہوں نے بڑے پیمانے پر ٹرمپ کے سابقہ اقدامات کی حمایت کی ہے، جس میں غیر ملکی امداد روکنا اور وفاقی ملازمین کی تعداد میں کمی کرنا شامل ہے۔
قانون سازوں نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے لیے دیرینہ دو ریاستی حل کی حمایت پر زور دیا اور کچھ لوگوں نے امریکی ٹیکس دہندگان کے فنڈز کے استعمال یا ایک سال سے زائد عرصے سے جاری تنازعے سے تباہ حال خطے میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی مخالفت کی۔
ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے ایکس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں ہم نے پہلے امریکا کو ووٹ دیا ہے، ہمیں مزید فوجی مہم پر غور کرنے کا کوئی حق نہیں جس سے ہمارا خزانہ اور خون دونوں ضائع ہوں گے۔
کانگریس میں محدود اکثریت رکھنے والے ریپبلکنز کو ڈیموکریٹس کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہے اور سینیٹر کرس وان ہولین نے اس تجویز کو دوسرے نام سے نسلی صفائی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔
ریپبلکن سینیٹر جیری مورن نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دو ریاستی حل کو یکطرفہ طور پر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا یکطرفہ فیصلہ کیا جا سکے۔
سینیٹر لیزا مرکووسکی نے اس تجویز پر قیاس آرائیاں کرنے میں ہچکچاہٹ کا اظہار کرتے ہوئے طویل عرصے سے افراتفری سے دوچار خطے میں امریکی افواج بھیجنے کے خطرات کو اجاگر کیا۔.
تاہم ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے ٹرمپ کے منصوبے کی تعریف کرتے ہوئے اسے خطے کے امن کو محفوظ بنانے کی کوشش کے لیے ایک جرات مندانہ اور فیصلہ کن اقدام قرار دیا۔
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کے حوالے کر غزہ کی پٹی کی جانب سے کرتے ہوئے اس تجویز کی حمایت کی فوجی ٹرمپ کے کے بعد جنگ کے غزہ کے دیا ہے
پڑھیں:
کتے تاریخ نہیں پڑھتے (پہلی قسط)
صدر ٹرمپ کی آتے ہی حرمزدگی دیکھیں، 26 جنوری 2025 الجزیرہ نے خبر شائع کی کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملے سے پیدا ہونے والے انسانی بحران کے بعد وہ اردن، مصر اور دیگر عرب ممالک پر نقل مکانی کرنے والے مزید15 لاکھ فلسطینیوں کو پناہ دینے کے لیے دبائو ڈالیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ تجویز وقتی ہے یا طویل مدتی تو ٹرمپ نے کہا کہ ’’یہ بھی ممکن ہے اور وہ بھی‘‘ تجویز وقتی ہو یا طویل مدتی صدر ٹرمپ کی اس خواہش کی آئینہ دار ہے جس میں وہ غزہ کو اہل غزہ سے خالی کروانا چاہتے ہیں۔ امریکی صدور کے نزدیک دنیا جب ہی رہنے کی جگہ ہوسکتی ہے جب وہ مسلمانوں سے خالی ہو۔ وہ پوری دنیا میں اس کا تجربہ کرتے رہتے ہیں۔ آج کل غزہ کے مسلمان ہدف ہیں۔ سوال کیا جاسکتا ہے کہ ایسی ناکام خواہش کرنے والوں نے تاریخ نہیں پڑھی؟ جواب ہے ’’کتے تاریخ نہیں پڑھتے‘‘۔
امریکا میں ڈنگر عام ہیں۔ ان میں سے جو منتخب ہوں امریکی انہیںصدر بنا دیتے ہیں۔ امریکی صدور دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو عالم اسلام کا خاتمہ چاہتے ہیں، دوسرے بھی وہی ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کی خالی کردہ جگہوں کو وہ یہودیوں سے پر کرنا چاہتے ہیں۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا تھا ’’جب میں مشرق وسطیٰ کے نقشے کو دیکھتا ہوں تو مجھے اسرائیل ایک بہت چھوٹا سا ٹکڑا لگتا ہے۔ میں سنجیدگی سے سوچتا ہوں کہ کیا مزید علاقے حاصل کیے جا سکتے ہیں؟ یہ بہت ہی چھوٹا ہے۔ (اسکائی نیوز: 19/8/2024)
اسرائیل کی توسیع کا آغاز وہ غزہ سے کرنا چاہتے ہیں۔ امن معاہدے سے پہلے جب اسرائیل غزہ پر وحشیانہ بمباری کرکے اسے ایک چٹیل میدان میں تبدیل کررہا تھا وہاں یہودی بستیاں بسانے اور ساحل پر ہوٹل وغیرہ بنانے کا پروگرام طے کیا جارہا تھا۔ غزہ کی انہوں نے پلاٹنگ بھی کرلی تھی اور نومنتخب امریکی صدر ٹرمپ کے داماد جیرالڈ کشنر وہاں لگژری پیلس کھڑے کرنے میں بہت سنجیدہ تھے۔ وہ ایک مرتبہ وہاں رکے بھی تھے۔ ان دنوں اہل غزہ کو کسی افریقی ملک میں منتقل کرنے کی کوششیں بھی کررہے تھے اور اس سلسلے میں ان کی بات چیت بھی ہورہی تھی۔ صرف غزہ ہی نہیں صدر ٹرمپ مغربی کنارے میں آباد کاری کے منصوبے کو جائز قرار دے کر یہودی وجود کی توسیع چاہتے ہیں، اور زمین پر قبضہ کرنے کے لیے اور نئی آباد کاری کرنے کے لیے ان کے ہاتھ کھولنا چاہتے ہیں۔
صدر ٹرمپ اپنے عزائم کے اظہار میں بہت بے حیا ہیں۔ کچھ بھی چھپا کر نہیں رکھتے۔ اسرائیل کے لیے امریکی سفیر کے طور پر مایک ہاکابی کو نامزد کرتے ہوئے 13 نومبر 2024 کو انہوں نے اپنے سوشل ویب سائٹ اکائونٹ پر کہا تھا ’’یہ اسرائیل اور اسرائیلی عوام سے محبت کرتا ہے، اسی طرح اسرائیلی عوام بھی اس سے محبت کرتی ہے، مایک بغیر تردد کے مشرق وسطی میں امن کے لیے کام کرے گا‘‘۔ بی بی سی نے اسی دن مایک ہاکابی کا ایک بیان یہودی چینل 12 کے توسط سے نقل کیا کہ ہاکابی یہودی وجود اسرائیل کی حمایت میں اپنے بیانات کے لیے مشہور ہے۔ ہاکابی نے 2015 میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ: ’’اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کو ضم کرنے کا مطالبہ امریکا کی جانب سے مین ہٹن کے متعلق مطالبے سے زیادہ مضبوط ہے‘‘۔ سوشل میڈیا میں اس کی ایک 2017 کی ویڈیو موجود ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ ’’مغربی کنارہ نام کی کوئی چیز نہیں ہے، یہ یہودا اور سامرہ ہے، آباد کاری نام کی کوئی چیز نہیں یہ سوسائٹی ہے، یہ محلے ہیں، یہ شہر ہیں، قبضہ نام کی کوئی چیز نہیں ہے‘‘۔
مایک ہاکابی نے یہودی چینل 7 کے ساتھ بات کرتے ہوئے 15 نومبر 2024 کو اپنے ان بیانات کو دہراتے ہوئے کہا کہ: ’’ایسی کوئی بات کرنا میرے لیے ممکن نہیں جس پر مجھے یقین نہ ہو، مغربی کنارے کی اصطلاح استعمال کرنے کے لیے میں ہرگز تیار نہیں ہوں، اس قسم کی کوئی چیز نہیں ہے، میں یہودا اور سامرہ کی بات کر رہا ہوں، میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ کوئی قابض نہیں ہے‘‘ اس نے کہا: ’’یاد کریں کہ گزشتہ جن چار سال میں ٹرمپ صدر رہا اس دوران ٹرمپ، تاریخ میں کسی بھی امریکی صدر سے زیادہ اسرائیل کا حامی رہا، اس نے القدس کو دارالحکومت تسلیم کرنے، امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے القدس منتقل کرنے اور گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کی قانونی ملکیت قرار دینے سمیت بہت کچھ کیا، اس نے دو ریاستی حل پر کوئی پیش رفت نہیں کی، کیونکہ یہ غیر عملی اور ناقابل عمل حل ہے‘‘، اس نے کہا ’’میں نہیں سمجھتا کہ دو ریاستی حل کا کوئی جواز ہے، میرا سال ہا سال سے یہی موقف ہے، اس موقف سے ٹرمپ متفق ہے اور میں اسی کے تسلسل کی توقع کرتا ہوں‘‘ ان بیانات سے مسئلہ فلسطین کے بارے میں ٹرمپ کا موقف واضح ہو جاتا ہے کہ وہ غزہ اور مغربی کنارے پر قبضے اور آباد کاری کو جواز دے کر اسرائیل کی توسیع اور گریٹر اسرائیل کو عملی شکل دینا چاہتا ہے۔
صدر ٹرمپ سیکس اور سیاست کو ایک ہی موضوع باور کرتے ہیں۔ ہر مسئلے کا ان کے پاس ایک متعین حل موجود ہے سوائے فلسطینی ریاست کے، چاہے اس ریاست کا حجم کچھ بھی ہو۔ وہ امریکا کی جانب سے اسرائیل کی نہ صرف مغربی کنارے بلکہ غزہ میں بھی آباد کاری کو باقاعدہ سرکاری طور پر قانونی حیثیت دیے جانے کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں۔ اس بات کی تائید ٹرمپ کی جانب سے ان یہودی آباد کاروں پر عائد پابندی اٹھائے جانے سے بھی ہو رہی ہے جن کی تجاوزات کو امریکا نے بائیڈن کے دور میں غیر قانونی قرار دے رکھا تھا۔ ٹرمپ کے نزدیک خطے میں امن کا مطلب، اسرائیل کا مغربی کنارے کی زمین پر قبضے اور اس پر آباد کاری کو قبول کرنا ہے، اور ساتھ ہی فلسطینی اتھارٹی کو فی الحال کچھ حد تک خود مختار انداز میں بقا کا حق دینا ہے تاکہ وہ سیکورٹی تعاون کے نام پر یہودی وجود کی خدمت جاری رکھے، لوگوں سے ٹیکس اکھٹا کرتی رہے، اور کچھ بلدیاتی خدمات کے ذریعے اتھارٹی کے کارندے لوگوں کو قابو میں رکھیں۔
صدر ٹرمپ کے انداز سے ایسا لگتا ہے جیسے اللہ نے اپنی خدائی ان کے سپرد کردی ہے۔ دنیا میں کوئی ان کا مقابل اور رقیب نہیںہے۔ وہ جو چاہتے ہیں کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ وہ مشرق وسطیٰ کے حکمرانوں کو وہم میں رکھ کر سبز باغ دکھانے کی کوشش کررہے ہیں جیسے شیطان اپنے پیروکاروں کو دکھاتا ہے۔ الجزیرہ نے 23 جنوری 2025 کو خبر نشر کی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے چار دن میں وہ کچھ حاصل کیا جو سابق صدر بائیڈن کی انتظامیہ نے چار سال میں حاصل نہیں کیا، اگر ان کی انتظامیہ نہ ہوتی تو اس ہفتے غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ نہ ہوتا۔ سعودی عرب، امریکا میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، مگر وہ سعودیہ سے سرمایہ کاری کو ایک ہزار ارب ڈالر تک بڑھانے کا مطالبہ کرے گا۔ صدر ٹرمپ نے غزہ امن معاہدے سے یہودی وجود کے لیے ’’تحائف کا بستہ‘‘ حاصل کیا ہے یہودی اخبار یدیعوت احرنوت نے 14 جنوری 2025 کو ذکر کیا کہ اسرائیل کے پاس اس بات کا حق ہو گا کہ اگر وہ ضرورت محسوس کرے تو اس جنگ بندی کو ختم کر سکتا ہے، اور عنقریب وائٹ ہاؤس ان پابندیوں کو اٹھا لے گا جو سابق صدر بائیڈن کی انتظامیہ نے جرائم کا ارتکاب کرنے والے بعض آباد کاروں پر عائد کی تھیں، وہ اقوام متحدہ کی ان دو عدالتوں کے خلاف ایک بین الاقوامی مہم شروع کرے گا جنہوں نے اسرائیل کے خلاف، اور خاص طور پر نیتن یاہو اور ان کے وزیر ِ دفاع گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کے الزام میں تحقیقات یا مقدمات چلائے تھے۔(جاری ہے)