وزیراعظم سے ملاقات میں فضل الرحمٰن نے کون سا وعدہ یاد دلایا،اندرونی کہانی سامنےآگئی
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2025 GMT
اسلام آ باد:
وزیراعظم شہبازشریف کی مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، ملاقات میں مولانا نے دینی مدارس کی رجسٹریشن والا معاملہ اٹھادیا۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کے اسد قیصر کی رہائش گاہ پرعشائیے کے بعد حکومت نے مولانا سے رابطہ کیا جس پر مولانا نے وزیراعظم کو ملاقات کیلے مدعو کرلیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقات منگل کی رات کھانے کے بعد ہوئی جس میں مولانا نےدینی مدارس کی رجسٹریشن والا معاملہ اٹھایا اور وزیراعظم کو مدارس رجسٹریشن بل صوبوں سے منظورکرانے کا وعدہ یاد دلایا۔
وزیراعظم نے کہاکہ وہ لاہور جا رہے ہیں اور وزیراعلیٰ پنجاب سے بل کی منظوری پر بات کریں گے، وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ وہ جمعیت علمائے اسلام اور پنجاب حکومت کا براہ راست رابطہ کروادیں گے۔
ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان فاٹا اور جنوبی اضلاع کے معاملات پرپشاور میں جرگہ بلا رہے ہیں، دونوں رہنماؤں کے درمیان جرگے کے حوالے سے امور پر بھی بات چیت ہوئی جبکہ بلوچستان،سندھ اور کے پی کے میں امن و امان کی صورتحال بھی زیربحث آئی۔
.
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بلوچ اس وقت پاکستان سے علیحدگی کا اعلان کرنیکی پوزیشن میں ہیں، مولانا فضل الرحمان
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران مولانا فضل الرحمٰن نے ججوں کے تبادلے کے اقدام پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات ملکی مفاد میں نہیں ہوتے ہماری رائے کو مثبت سمجھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کا بلوچ نشین علاقہ علیحدگی کا اعلان کرنیکی پوزیشن میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی کہہ سکتا ہے فضل الرحمان نے زیادہ بڑی بات کر دی ہے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ حکومت ججوں کے تبادلے سے متعلق آئین میں دی گئی گنجائش کا بھرپور فائدہ اٹھارہی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کی پارلیمنٹ ہاؤس اپوزیشن چیمبر میں اخوانزادہ حسین یوسفزئی سے ملاقات کی ہے، ملاقات میں دونوں رہنماوں میں سیاسی امور پر مشاورت کی گئی۔ ترجمان اپوزیشن اتحاد اخوانزادہ حسین یوسفزئی نے کہا کہ پاکستان آئین کی سربلندی کے لئے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی، انہوں نے بانی پی ٹی آئی کا پیغام مولانا فضل الرحمٰن تک پہنچایا اور اپوزیشن اتحاد روابط اور گول میز کانفرنس سے آگاہ کیا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران مولانا فضل الرحمٰن نے ججوں کے تبادلے کے اقدام پر اعتراض اٹھایا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ایسے اقدامات غمازی کرتی ہے کہ حکومت اسٹبلشمنٹ کی اشاروں پر چلتی ہے، یہ اقدامات ملکی مفاد میں نہیں ہوتے ہماری رائے کو مثبت سمجھا جائے۔ ترجمان اپوزیشن اتحاد اخوانزادہ حسین یوسفزئی نے کہا کہ پاکستان آئین کی سربلندی کے لئے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی، انہوں نے بانی پی ٹی آئی کا پیغام مولانا فضل الرحمٰن تک پہنچایا اور اپوزیشن اتحاد روابط اور گول میز کانفرنس سے آگاہ کیا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران مولانا فضل الرحمٰن نے ججوں کے تبادلے کے اقدام پر اعتراض اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم میں ایسی ترامیم کو شامل کیا گیا کہ ججز مکمل ان کی کٹ پتلی ہوں، حکومت ججوں کے تبادلے سے متعلق آئین میں دی گئی گنجائش کا بھرپور فائدہ اٹھارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی منتخب حکومت آئین کی روح کے منافی ایسے اقدامات نہیں کرسکتی، ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت کسی کے اشارے پر چل رہی ہے، اس قسم کی گنجائش کا فائدہ اٹھانا بعض اوقات بدنیتی پر مبنی ہوتا ہے۔ جے یو آئی ف کے سربراہ نے پارلیمانی رپورٹرز سے پیکا بل پر اپنا ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ پیکا قانون پر اپنے موقف کو دہراؤں گا، پیکا قانون پر صحافیوں کو اعتماد میں لیا جاتا، ان کی تجاویز لی جاتی، سیاست اور صحافت ہمیشہ ایک دوسرے سے وابستہ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت سے کہا کہ یکطرفہ قانون بنایا جارہا ہے، صحافتی تنظیموں سے مشاورت لازم ہے اور صدر مملکت نے بھی یقین دلایا تھاکہ محسن نقوی سے مشاورت کریں گے، مجھے کہا گیا کہ وزیر داخلہ آئیں گے تو ان سے بات ہو گی، لگتا ہے ایسا دباؤ آیا کہ صدر مملکت نے جلدی دستخط کردیے۔ انہوں نے کہا کہ مقتدر حلقوں کیلئے قانون موم کی ناک ہے،جس طرف چاہیں موڑ دیں، حالات بدلنے پر قوانین بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں، معروضی حالات کو سامنے رکھ کر قوانین بنائے جاتے ہیں۔