دہشت گردوں کو دوبارہ بسانے سے بڑی دشمنی نہیں ہوسکتی، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
دہشت گردوں کو دوبارہ بسانے سے بڑی دشمنی نہیں ہوسکتی، وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 4 February, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ 2018 تک ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوگیا تھا لیکن پچھلی حکومت نے دہشت گردوں کو ملک میں آنے دیا، دہشت گردوں کو دوبارہ بسانے سے بڑی دشمنی نہیں ہوسکتی، افواج پاکستان اورعوام نے بڑی قربانیاں دی ہیں، ملک سے ایک بار پھر دہشت گردی ختم ہوگی، دہشت گردی کے خاتمے میں ہمارے جوانوں کی قربانیاں ہیں، ہمارے جوانوں کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی۔
اسلام آباد میں اوورسیز پاکستانیز گلوبل فانڈیشن کی تقریب سے خطاب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تقریب کے تمام شرکا کا دل کی گہرائیوں سے شکرگزار ہوں، اوورسیز پاکستانیوں کا ملک میں خیرمقدم کرتے ہیں، اوورسیزپاکستان دیارغیر میں شبانہ روز محنت کرتے ہیں، اوورسیز پاکستانی اپنی محنت سے ملک کا نام روشن کررہے ہیں، بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک کے سفیر ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں اور میری حکومت، پاکستانی عوام آپ کی عظمت کو سلام کرتے ہیں، آج آپ کی محنت کی بدولت ترسیلات بیرون ممالک سے اسٹیٹ بینک کے ذریعے پاکستان آرہی ہیں، جس میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ جس سے پاکستان کا زرمبادلہ کے حوالے سے قومی خزانے کو بے پناہ فائدہ پہنچا ہے، اسی طریقے سے آپ دنیا میں بہترین تربیت حاصل کرکے پاکستان میں بطور سرمایہ کار، بطور پروفیشنل یہاں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو اس سے ملکی معیشت کو بے پناہ فائدہ پہنچتا ہے، اسی طرح سے جب یہاں آپ جائیدادیں خریدتے ہیں تو پراپرٹی کو پر لگ جاتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ کے مسائل کو حل کرنے کے لیے جو میری حکومت کی ذمہ داری ہے، اس کے لیے ہم کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے اور آپ کا حق دلوا کر ہم چین سے بیٹھیں گے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گرین چینل سابق وزیراعظم نواز شریف ایک بہت بڑا کارنامہ تھا اور انشااللہ اس کو ہم دوبارہ بحال کریں گے، وزیرخزانہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے گرین چینل کے معاملے کا جائزہ لیں گے، گرین چینل کو چلانے میں آپ کا کلیدی کردار ہوگا، آپ نے اس کو گرین یا یلو میں تبدیل نہیں ہونے دینا۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ 2018 تک پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ ہوگیا تھا، 80 ہزار پاکستانیوں شہید ہوئے جس میں عام شہری بھی شامل تھے، پاکستان کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا جب کہ افواج پاکستان کے دلیر افسران اور جوانوں اور ان کے خاندانوں نے قربانیاں دی جس کے بعد دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوگیا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بدقسمتی سے چند سال پہلے ایک حکومت نے ان کو دوبارہ پاکستان آنے دیا اور یہ کہا کہ یہ امن کے پیامبر ہیں، اس سے بڑی پاکستان دشمنی اور کوئی نہیں ہوسکتی، کل میں کوئٹہ سے ہوکر آیا ہوں اور اس سے دو دن پہلے پاکستان فوج کے سپہ سالار جنرل عاصم منیر وہاں لے گئے تھے، بلوچستان میں 23 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا اور اس جنگ میں 18 فوجی جوان بھی شہید ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ ان عظیم قربانیوں کے نتیجے میں یہ دہشت گردی دوبارہ ختم ہوگی اور دفن ہوگی، یہ دھرتی انشااللہ محفوظ ہوگی، اس کے پیچھے وردیوں میں جوانوں اور افسران کی قربانیاں ہیں جو رائیگاں نہیں جائیں گے۔
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: دہشت گردوں کو نہیں ہوسکتی کو دوبارہ سے بڑی
پڑھیں:
روس نے افغان طالبان کو دہشت گردوں کی فہرست سے ہٹادیا
روس نے افغانستان میں برسراقتدار طالبان پر عائد پابندی معطل کر دی، جنہیں اس نے دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا تھا، اس نئی پیش رفت کے بعد ماسکو کے لیے افغانستان کی قیادت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
نجی اخبار میں شائع خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس وقت کوئی بھی ملک طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرتا جو اگست 2021 میں برسر اقتدارآئی تھی کیونکہ امریکا کی زیرقیادت غیرملکی افواج نے 20 سال کی جنگ کے بعد افغانستان سے افراتفری میں انخلا کیا تھا۔
لیکن روس بتدریج اس تحریک کے ساتھ تعلقات استوار کر رہا ہے، جس کے بارے میں صدر ولادیمیر پیوٹن نے گزشتہ سال کہا تھا کہ وہ اب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اتحادی ہے۔
سنہ 2003 میں روس نے طالبان کو دہشت گرد تحریک قرار دے کر کالعدم قرار دے دیا تھا، سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے جمعرات کو فوری طور پر پابندی ہٹا دی ہے۔
روس طالبان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت کو دیکھتا ہے کیونکہ اسے افغانستان سے لے کر مشرق وسطیٰ تک متعدد ممالک میں موجود عسکریت پسند گروہوں سے ایک بڑا سیکیورٹی خطرہ لاحق ہے۔
مارچ 2024 میں ماسکو کے باہر ایک کنسرٹ ہال میں مسلح افراد نے 145 افراد کو ہلاک کر دیا تھا جس کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس انٹیلی جنس معلومات موجود ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی ذمہ دار داعش خراسان کی افغان شاخ ہے۔
طالبان کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں داعش کی موجودگی کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اس تحریک کی وسیع تر بین الاقوامی شناخت کا راستہ اس وقت تک تعطل کا شکار ہے جب تک کہ وہ خواتین کے حقوق کے بارے میں اپنا نقطہ نظر تبدیل نہیں کرتی۔
طالبان نے ہائی اسکول اور یونیورسٹیاں لڑکیوں اور خواتین کے لیے بند کر دی ہیں اور مرد سرپرست کے بغیر ان کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی ہے۔
Post Views: 3