ججز کے تبادلوں کا مقصد عدلیہ کو تقسیم کرنا ہے، بھرپور مخالفت کریں گے، وکلا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2025 GMT
اسلام آباد کے وکلا رہنماؤں نے کہا ہے ک ججز کے حالیہ تبادلے عدلیہ میں تقسیم اور بدنیتی پر مبنی ہیں، وکلا اس عمل کی بھرپور مخالفت کریں گی، کل 11 بجے ڈسٹرکٹ کورٹ جی الیون میں ملک گیر کنونیشن منعقد کرنے جا رہے ہیں۔
اسلام آباد بار کونسل، اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔
چیئرمین اسلام آباد بار کونسل علیم عباسی ایڈووکیٹ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ہماری میٹنگ میں اسلام ہائیکورٹ ڈسٹرکٹ اور ہائیکورٹ کے تمام نمائندے موجود ہیں، ہنگامی پریس کانفرنس کا مقصد،وزرات قانون نے تین ججز کی اسلام آباد میں ٹرانسفر کی، آج کی میٹنگ میں فیصلہ ہوا ہے کہ وکلاء برداری ان ٹرانسفر کو رد کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹرانسفرز عدلیہ میں تقسیم اور بدنیتی پر مبنی ہیں، وکلاء اس عمل کی بھرپور مخالفت کریں گی، کل 11 بجے ڈسٹرکٹ کورٹ جی الیون میں ملک گیر کنونیشن منعقد کرنے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کل اسلام آباد میں وکلاء مکمل ہڑتال کا اعلان کرتے ہیں، کل کوئی وکیل کسی بھی عدالت میں پیش نہیں ہو گا، پاکستان بھر کے وکلاء سے اپیل کی ہے آپ بھی ہمارا ساتھ دیں، صوبائی بار کونسل سے بھی اپیل کرتے ہیں کل کے احتجاج میں ہمارا ساتھ دیں۔
علیم عباسی ایڈوکیٹ نے کہا کہ پاکستان کی تمام وکلاء برداری سے اس متاثر ہو گی، ملک بھر کی بار ایسویشن اور بار کونسل سے مطالبہ کرتے ہیں آپ ہمارا ساتھ دیں، 10 فروری کے جوڈیشنل کمیشن اجلاس کی بھی مذمت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن اجلاس بھی بدنیتی پر بلایا گیا، 26 آئینی ترمیم کے خلاف تمام درخواستوں کو فل فور سنا جائے۔
علیم عباسی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ سولہ رکنی فل کورٹ پہلے آئینی ترمیم پر فیصلہ کرے، دس فروری کا اجلاس بدنیتی پر مبنی ہے اس اجلاس کو فل فوری منسوخ کیا جائے، یہ وکلاء کی لڑائی نہیں یہ ملک میں رول آف لاء اور عدلیہ کی آزادی کی لڑائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ان سیاسی جماعتوں پر اعتماد نہیں ان لوگوں پر اعتبار نہیں ہے، چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف جہدوجہد وکلا نے کرنی ہے، ہم اس حکومت وقت اور اس اتحاد کیساتھ اسٹبلشمنٹ کو باور کروانا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کے بعد ججز کی تعیناتی دیکھ لیں، سندھ ہائیکورٹ میں سارے جیالے بھرتی کر لیے گئے، لاہور ہائیکورٹ میں بھی یہی کچھ ہوگا۔
صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسویشن ریاست علی آزاد نے کہا کہ ہڑتال اور کنونشن کا ہمارا متفقہ فیصلہ ہے، لاہور ہائیکورٹ کا پندرہواں نمبر کا جج بلوچستان کا بارہویں نمبر کے ججز کو یہاں کیوں لایا جا رہا ہے، ان ججز نے وہاں جو انصاف دیا لاہور ہائیکورٹ میں دو لاکھ کیسز التواء میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کو عدالت کم اور لنڈے کا مال سمجھ لیا ہے، جس کو جہاں سے چاہو اٹھا کر یہاں بھیج دیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ سے صوبوں میں کتنی تعیناتیاں ہوئی ہیں؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کا گناہ یہ ہے کہ وہ عدلیہ کی آزادی چاہتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز نے آئین و قانون کے فیصلے کررہے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کو فتح کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں، کل بھی لاہور میں کنوینشن منعقد ہوا کالے کوٹ کیساتھ عوام کی بھی ذمے داری ہے، پاکستان میں اس وقت اندھیرا ہے قانون اور انصاف بھول جائیں۔
ریاست علی آزاد نے کہا کہ کل کنوینشن کے بعد ریلی بھی نکالی جائے گی، پیکا ایکٹ کے زریعے میڈیا کو فتح کر لیا گیا، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے بعد عدلیہ کو فتح کیا جارہا ہے، کنٹرولڈ سسٹم کو نظام نہیں کہہ سکتے، سینئر موسٹ جج کو چیف جسٹس بنانا تھا چھبسیویں آئینی ترمیم میں بھی یہی لکھا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم بھی بدنیتی پر مبنی تھی اسکے باوجود ٹرانسفر کیے جارہے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کا سینئر موسٹ جج کو میٹنگ میں نہیں بیٹھایا جاتا، کیونکہ محسن اختر کیانی کہتا ہے آئین و قانون کے مطابق فیصلے کرو، آٹھ ججز کو بیٹھا کر آپ فیصلہ دیتے ہیں تو ہم اس کی بات نہیں کررہے، ہم ترقیوں سے قبل سپریم کورٹ ججز کے فیصلے کو مانیں گئے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ججز کی ترقیوں کے بعد کسی فیصلے کو نہیں مانیں گیے، ہم ہمارے بچے یہیں رہنے والے ہیں ہم نے بیرون ملک نہیں بھاگنا، وکلاء تحریک آج بھی چل رہی ہے لیکن کچھ لوگ اقتدار میں بیٹھ کر فائدہ لے رہے ہیں۔
صدر ڈسٹرکٹ بار ایسویشن نعیم علی گجر نے کہا کہ اسلام آباد کے وکلاء ماضی میں 10 کور کا خطاب ملتا رہا ہے، جب قانون پاس ہونا ہوتا ہو یا کوئی آئینی شکنی ہو تو وکلاء ہی سامنے اتے ہیں، سیاسی جماعتیں جب اقتدار میں اتی ہیں تو ماضی کو بھول جاتی ہیں، تین ججوں میں ایسا کیاکمال ہے؟ پنجاب بلوچستان اور سندھ سے یہاں ٹرانسفر کیاجارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تینوں تعیناتیاں سازش اور بدنیتی پر مبنی ہیں، عوام دیکھ رہی ہے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو عتاب میں لانے کے لیے یہ اقدام کیا جارہا ہے، جس طریقے سے آئین و قانون کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم کس جج یا شیخصیت کیساتھ نہیں۔ہم عدلیہ اور آئین کےساتھ کھڑے ہیں، تین سینئر ججز میں سے ایک کو چیف جسٹس بنانا ہوگا، وکلاء باہر سے انے والے جج کے خلاف بھرپور احتجاج اور مزاحمت کریں گیے، کل ہم ہڑتال کا اعلان کررہے ہیں حکومت اور اپوزیشن آئین و قانون کی دھجیاں نہ بکھیریں، ان کا کہنا تھا کہ ظلم کو کب تک برداشت کیا جائے ؟
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلام آباد ہائیکورٹ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ بدنیتی پر مبنی بار کونسل کرتے ہیں کورٹ کے کے بعد
پڑھیں:
وفاقی حکومت نے ججز تبادلہ کیس میں تمام درخواستیں خارج کرنے کی استدعا کردی
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔16 اپریل ۔2025 )ججز سنیارٹی کیس میں وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروا دیا ہے وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز سمیت تمام درخواست گزاروں کی درخواستیں خارج کرنے کی استدعا کرتے ہوئے ججز کے تبادلوں کو آئین کے مطابق قرار دے دیا. نجی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ میں ججز سنیارٹی کیس میں وفاقی حکومت نے جواب جمع کرواتے ہوئے استدعا کی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز سمیت تمام درخواستیں خارج کی جائیں، ججز کا تبادلہ آئین کے مطابق کیا گیا ہے، ججز کے لیے تبادلے کے بعد نیا حلف لینا ضروری نہیں.(جاری ہے)
حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 200 کے تحت تبادلے کا مطلب نئی تعیناتی نہیں ہوتا، ججز کا تبادلہ عارضی ہونے کی دلیل قابل قبول نہیں، آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ ججز کا تبادلہ عارضی ہوگا. حکومت کے جواب میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ججز کے تبادلے سے عدلیہ میں شفافیت آئے گی نا کہ عدالتی آزادی متاثر ہوگی، جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دو ججز تعینات کیے 3 آسامیاں چھوڑ دیں وزارت قانون نے 28 جنوری کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز تبادلے کی سمری بھیجی تھی. جواب میں کہا گیا ہے کہ ججز تبادلے کے لیے صدر کا اختیار محدود جب کہ اصل اختیار چیف جسٹس پاکستان کا ہے، ججز تبادلے میں متعلقہ جج اور ہائیکورٹس کے چیف جسٹس اصل بااختیار ہیں. دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے ججز کے تبادلے کیخلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواست واپس لینے کا فیصلہ کرلیا، اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے آئینی پٹیشن واپس لینے کے لیے اتھارٹی لیٹر جاری کر تے ہوئے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ انیس محمد شہزاد کو آئینی درخواست واپس لینے کا اختیار دے دیا گیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سید واجد شاہ گیلانی اور سیکرٹری منظور ججہ کے دستخط سے اتھارٹی لیٹر جاری کیا گیا ہے.