خیبرپختونخوا کا بٹگرام ہائیڈرو پاور پروجیکٹ 11 سال بعد بھی غیرفعال، آخر وجہ کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2025 GMT
خیبرپختونخوا میں بٹگرام ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پی ٹی آئی حکومت کی نااہلی کا ثبوت بن گیا۔ 11 سال بعد بھی ہائیڈرو پاور پروجیکٹ غیر فعال، عوام بجلی سے محروم۔
11 سال قبل پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی جانب سے بٹگرام میں مختلف ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کا افتتاح کیا گیا تھا، جن میں 2 علاقوں بٹہ موڑی اور شنگرئی میں ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی تعمیر بھی شامل تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی کے 200 یونٹ تک کا بل حکومت دے گی، یہ رعایت کس کے لیے ہے؟
اس منصوبے کے تحت کروڑوں روپے کی لاگت سے بننے والے پاور پلانٹ کے ذریعے علاقے میں سستی بجلی کی فراہمی کے بلند دعوے اور وعدے کیے گئے تھے۔ تاہم ایک دہائی سے زیادہ کا وقت گزرنے کے باوجود یہ منصوبہ تاحال فعال نہیں ہوسکا، نتیجتاً علاقہ مکین آج بھی بجلی سے محروم ہیں۔
علاقے مکینوں کے مطابق ہائیڈرو پاور پلانٹ کی تعمیر پر بھاری رقم خرچ کی گئی، لیکن منصوبہ بدانتظامی اور لاپروای کا شکار ہو کر عوامی فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن گیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے بھی اس منصوبے کا دوبارہ افتتاح کیا، لیکن اس کے باوجود پلانٹ عملی طور پر غیر فعال رہا۔
یہ بھی پڑھیں: صوبے میں بجلی کی پیداوار کے باوجود خیبرپختونخوا حکومت بجلی کے بلوں پر سبسڈی کے لیے کیوں تیار نہیں؟
علاقہ مکینوں کے مطابق پاور پلانٹ میں نصب قیمتی سامان اور دیگر مشینری غائب ہوچکی ہے۔ منصوبے کے مقام پر نہ صرف ٹربائن کی قیمتی اشیا چوری ہوگئیں ہیں بلکہ دروازے اور کھڑکیاں بھی چرا لی گئیں۔
علاقہ شنگرئی کے بلدیاتی نمائندے محمد ظریف کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کئی بار اس مسئلے کو متعلقہ سرکاری دفاتر اور پی ٹی آئی کے وزرا کے نوٹس میں لایا گیا، لیکن ان کی جانب سے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بٹگرام ہائیڈرو پاور پروجیکٹ بجلی پیداوار حکومت خیبرپختونخوا عوام لوڈ شیڈنگ محروم منصوبہ.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بجلی پیداوار حکومت خیبرپختونخوا عوام لوڈ شیڈنگ
پڑھیں:
حکومت خیبرپختونخوا کا مائنز اینڈ منرل ایکٹ صوبے کے عوام کے ساتھ ظلم ہے
لاہور( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی پی اے ۔ 14 اپریل 2025ء ) سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت خیبرپختونخوا کا مائنز اینڈ منرل ایکٹ صوبے کے عوام کے ساتھ ظلم ہے۔ انہوں نے لوئر دیر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مسئلہ فلسطین پر اپنا کردار ادا کرے، 20 اپریل کو اسلام آباد میں فلسطین مارچ ہوگا۔ سراج الحق نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا مائنز اینڈ منرل ایکٹ صوبے کے عوام کے ساتھ ظلم ہے۔ صوبائی اور وفاقی حکومت صوبے میں امن و امان قائم کرنے کے لیے بلیم گیم سے نکل کر پالیسی تشکیل دے۔ انھوں نے کہا کہ امن وامان کے لئے ہزار بار افغانستان حکومت سے بات چیت کی ضرورت پڑے توکی جائے، خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے پولیس کے 13 قومی خدمات پر بھاری فیسیں عائد کرنا عوام دشمنی ہے۔(جاری ہے)
معاشی صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے۔ جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کے خلاف جدوجہد کی جس سے ملک میں بجلی سستی ہوئی۔ جماعت اسلامی عوامی حقوق کی جدوجہد کو تیز کرے گی۔ مزید برآں نائب امیر جماعتِ اسلامی، سیکرٹری جنرل مِلی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے منصورہ میں مرکزی تربیت گاہ، تلہ گنگ، سنگھرشریف میں تاجدارِ ختمِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس سے خطاب اور معروف سیاسی، سماجی رہنما اور ماہرِ تعلیم سید شاہد گیلانی کے بیٹے کی ولیمہ تقریب میں شرکت کی۔ امیر جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن اور امیر جماعتِ اسلامی کراچی منعم ظفر سے کراچی کے تاریخ ساز، فقیدالمثال یکجہتی مارچ کی کامیابی کے بعد ٹیلی فون پر کراچی کے عوام، کارکنان، خواتین، نوجوانوں اور محنت کشوں کی تحسین کرتے ہوئے کہا کہ قبلہ اول کی آزادی، فلسطینیوں، کشمیریوں کی آزادی، حقِ خودارادیت کے حصول سے محبت اور اسرائیلی صیہونی ناجائز انسان دشمن جنگی مجرموں کے خلاف شدید نفرت کا اظہار ہے۔ عالمِ اسلام کی قیادت عالمِ اسلام میں عوام کے والہانہ اتحادِ اُمت کے جذبوں کی غیرت مند آواز پر کان دھریں، غفلت اور مجرمانہ بزدلی جاری رکھی گئی تو عوام کا رُخ بزدل حکمرانوں کے خلاف ہوگا۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ 18 اپریل کو ملتان اور 20 اپریل کو اسلام آباد میں بھی یکجہتی غزہ مارچ فقیدالمثال ہونگے اور 22 اپریل کو عالمی حکمرانوں، عالمی اداروں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے اور حکومتِ پاکستان کو مسئلہ فلسطین پر جرات مندانہ کردار ادا کرنے پر مجبور کرنے کیلیے پوری قوم ملک گیر شٹرڈاؤن ہڑتال کرے گی۔ ملک بھر کی تاجر برادری، چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری فلسطینی قیادت کی کال پر پوری دُنیا کی طرح 22 اپریل کو ایک دِن ہڑتال کریں۔ لیاقت بلوچ نے تلہ گنگ سنگھر شریف میں تاجدارِ ختم نبوتؐ کانفرنس کے بعد جماعتِ اسلامی کے ضلعی قائدین اور معززین، سیاسی سماجی رہنماؤں اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مسلم، غیرمسلم تمام طبقات بِلاتفریق فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار کررہے ہیں۔ حکمران عوام کے زندہ بیدار ایمان پروَر جذبات کی قدر کریں۔ عوامی بیداری کو اپنی طاقت بنائیں اور غیرتِ مِلی سے جرات مندانہ اقدام کریں۔ لیاقت بلوچ نے سوالات کے جواب میں کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں عاقبت نااندیشی اور عالمی استعماری اداروں کے دباؤ میں زراعت اور کِسانوں کو ہولناک نقصانات پہنچا رہی ہیں۔ 15 اپریل کو پنجاب بھر میں کِسان اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے احتجاج کریں گے۔ سیاسی جماعتوں اور سیاسی قیادت کی نااہلی، کرپٹ طرزِ حکمرانی کی وجہ سے سیاست، جمہوریت، پارلیمان پر فوجی سکیورٹی ادارے، پولیس اور بیوروکریسی بالادست ہوگئے ہیں، جس سے سیاست کمزور اور ریاست غیرمستحکم ہورہی ہے۔ پانی کی تقسیم کا قومی معاہدہ طے شدہ، کوئی صوبہ کسی دوسرے صوبہ اور کوئی طاقت ور کسی کمزور کِسان اور ہاری کا پانی چوری نہ کرے۔ وزیراعظم شہباز شریف بیرونی دوروں کے ساتھ ملک کے اندرونی مسائل کے حل کو بھی ترجیح بنائیں۔ صدر اور وزیراعظم صوبوں کی بڑھتی شکایات سے کمزور ہوتی فیڈریشن کا سدِباب کریں۔ صوبوں کی شکایات کا بروقت ازالہ کیا جائے۔ لاپتہ افراد کی بازیابی اور سیاسی قیدیوں کی فی الفور رہائی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ حکومتیں کب تک ریت میں مُنہ چھپائے پِھرتی رہیں گی، عوام کی فریاد سُنیں اور اُن کی دادرسی کریں۔لیاقت بلوچ نے ملک کے معروف دانش ور، صحافی و ایڈیٹر، پارلیمینٹیرین، ماہرِ معاشیات، پارلیمنٹ میں طویل مُدت تک گرانقدر خدمات انجام دینے والے عظیم رہنما پروفیسر خورشید احمد کے انتقال پر دِلی صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف جماعتِ اسلامی ہی نہیں پاکستان اور عالمِ اسلام ایک شاندار، باوقار، قابلِ فخر اثاثہ سے محروم ہوگیا۔ مرحوم کی علمی، ادبی، صحافتی و پارلیمانی خدمات کے اثرات تادیر قائم رہیں گے۔