واشنگٹن کے ریگن ایئرپورٹ کے قریب ہیلی کاپٹروں کی پروازوں پر پابندی لگا دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2025 GMT
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔یکم فروری ۔2025 )امریکی ہوا بازی کے وفاقی ادارے نے کہا ہے کہ ایک مسافر جیٹ طیارے اور ایک فوجی ہیلی کاپٹر کے درمیان تصادم کے بعدواشنگٹن کے ریگن ایئرپورٹ کے قریب ہیلی کاپٹروں کی پروازوں پر پابندی لگا دی گئی ہے اس حادثے میں مسافر طیارے کے عملے کے ارکان سمیت 67 افراد ہلاک ہو گئے تھے.
(جاری ہے)
دریائے پوٹومک میں نعشوں کی تلاش جاری ہے اور حکام نے بتایا کہ اب تک 41 نعشیں نکالی جا چکی ہیں واشنگٹن کے فائر چیف جان ڈونلی نے صحافیوں کو بتایا کہ 28 نعشوں کی شناخت کر لی گئی ہے ان کا کہنا تھا کہ ہماری ٹیمیں کام کر رہی ہیں اور توقع ہے کہ تمام لاشیں ڈھونڈ لیں لی جائیں گی ریگن ایئرپورٹ کے نائب صدر ٹیری لیسک نے بتایا کہ توقع ہے کہ ایئرپورٹ کے تین میں سے دو رن وے ایک ہفتے تک بند رہیں گے.
ان کا کہنا تھا کہ ایئرپورٹ کا مرکزی رن وے ایئرٹریفک کا 90 فی صد بوجھ اٹھاتا ہے اور اس طرح یہ امریکہ کا سب سے مصروف رن وے ہے اس حادثے نے دارالحکومت واشنگٹن کے اس انتہائی مصروف ایئر پورٹ کی سلامتی اور ٹاور کنٹرولرز کی قلت پر سوال اٹھا دیے ہیں واشنگٹن کے علاقے میں تین کمرشل ایئر پورٹ اور متعدد فوجی مرکز قائم ہیں اور حکومت کے اعلیٰ عہدے دار عموماً ہیلی کاپٹرپر سفر کرتے ہیں. گورنمٹ اکاﺅٹیبلٹی آفس کی 2021 کی رپورٹ کے مطابق سال 2019 تک کے تین سال کی مدت میں ریگن نیشنل ایئرپورٹ کے 30 میل کے دائرے میں ہیلی کاپٹروں نے 88 ہزار پروازیں کیں جن میں 33 ہزار فوجی اور 18 ہزار قانون نافذ کرنے والوں کی پروازیں تھیں نیشنل ٹرانسپوٹیشن سیفٹی بورڈ نے کہا ہے کہ وہ مسافر طیارے سے ٹکرانے والے فوجی ہیلی کاپٹر کا بلیک باکس ڈھونڈنے کی کوشش کررہے ہیں جس میں کاک پٹ کی آوازیں اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈ ہوتا ہے. مسافر طیارے کا بلیک باکس مل چکا ہے اور ماہرین اس کا جائزہ لے رہے ہیں جب کہ تازہ اطلاعات کے مطابق حکام نے کہا ہے کہ انہیں ہیلی کاپٹر کا بلیک باکس بھی مل گیا ہے ہوا بازی کے وفاقی ادارے ایف اے اے نے کہا ہے کہ اسے ایئر ٹریفک کنٹرولرز کی کمی کا سامنا ہے اور اس وقت ان کے پاس ضرورت سے تین ہزار ایئر ٹریفک کنٹرولر کم ہیں ایجنسی نے بتایا ہے کہ 2023 میں ان کے سرٹیفائیڈ کنٹرولرز کی تعداد 10 ہزار 7 سو تھی اور اب بھی یہی صورت حال ہے.ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ہیلی کاپٹروں نے کہا ہے کہ ایئرپورٹ کے واشنگٹن کے ہے اور
پڑھیں:
نیو یارک، سیاحتی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 3 بچوں سمیت 6 افراد ہلاک
وزیر ٹرانسپورٹ شان ڈفی نے کہا کہ ٹور ہیلی کاپٹر نیو یارک میں قائم اسپیشل فلائٹ رولز ایریا میں تھا، جس کا مطلب ہے کہ حادثے کے وقت ایئر ٹریفک کنٹرول سروسز فراہم نہیں کی جا رہی تھیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی علاقے نیو یارک میں دریائے ہڈسن میں سیاحتی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں پائلٹ کے علاوہ سیمنز کمپنی کے اعلیٰ ہسپانوی عہدیدار، ان کی اہلیہ اور 3 بچے ہلاک ہو گئے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نیو یارک کے میئر ایرک ایڈمز کا کہنا ہے کہ سیاحوں کا ایک ہیلی کاپٹر دریائے ہڈسن میں گرکر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں اس میں سوار تمام 6 افراد ہلاک ہو گئے جن میں 3 بچے اور پائلٹ بھی شامل ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں جرمنی کی ٹیکنالوجی کمپنی سیمنز کے ایگزیکٹو آگسٹن ایسکوبار بھی شامل ہیں۔
حادثے کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک بڑی چیز دریا میں گر رہی ہے جس کے چند سیکنڈ بعد ہیلی کاپٹر کا بلیڈ پانی میں گرتے ہوئے نظر آتا ہے۔ اس کے بعد ایمرجنسی اور پولیس کی کشتیوں کو دریا کے ایک حصے کے گرد چکر لگاتے ہوئے دیکھا گیا جہاں ہیلی کاپٹر ڈوب گیا تھا جبکہ اس کا لینڈنگ گیئر پانی کی سطح سے اوپر تھا۔ نیویارک کی پولیس کمشنر جیسیکا ٹش نے بتایا کہ نیویارک ہیلی کاپٹر ٹورز کے زیر انتظام بیل 206 ہیلی کاپٹر مقامی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بجے ایک ہیلی پیڈ سے روانہ ہوا اور دریائے ہڈسن کے اوپر شمال کی جانب پرواز کی۔
جیسیکا ٹش نے مزید کہا کہ جب یہ جارج واشنگٹن برج پر پہنچا تو یہ جنوب کی طرف مڑ گیا اور چند منٹ بعد ہی نیو جرسی کے علاقے ہوبوکن کے قریب لوئر مین ہیٹن کے قریب پانی میں گر کر ڈوب گیا۔ نیو جرسی کے علاقے جرسی سٹی کی رہائشی 29 سالہ ڈینی ہربیاک نے بتایا کہ انہوں نے گھر میں کام کرتے ہوئے اپنی کھڑکی سے حادثے کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنی کھڑکی سے باہر دیکھا کہ ہیلی کاپٹر ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا ہے اور میں نے دیکھا کہ نیچے دریا میں کئی ٹکڑے گر رہے ہیں اور میں سوچ رہی تھی کہ کیا ہوا ہے، ایسا لگتا ہے کہ شاید میں نے ہیلی کاپٹر کے پروں کو کسی چیز میں گھستے ہوئے سنا تھا۔
ہربیاک کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعے سے صدمے میں ہیں اور بعد میں انہوں نے ایمرجنسی سروسز کو فون کیا جس کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہی امدادی کارکنوں کو جائے وقوع پر بھیج چکی ہیں۔ غوطہ خوروں نے متاثرین کو پانی سے نکالنے میں مدد کی، 4 افراد کو موقع پر ہی مردہ قرار دے دیا گیا جبکہ دیگر 2 کو علاقے کے ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ دم توڑ گئے۔ مین ہیٹن کے آس پاس کی فضائی حدود ہیلی کاپٹروں سے بھری ہوئی ہے جو سیاحوں کو پرندوں کی آنکھوں سے نظارہ پیش کرتے ہیں، ٹور ویب سائٹ ویایٹر پر کم از کم دو درجن آپریٹرز درج ہیں۔ بہت سے آپریٹرز علاقے کے ہوائی اڈوں پر ہیلی کاپٹر شٹل خدمات بھی پیش کرتے ہیں۔
نیو یارک ہیلی کاپٹر ٹورز جو اپنی ویب سائٹ پر 114 ڈالر فی کس کے حساب سے سیر و سیاحت کے لیے پروازوں کی سہولت مہیا کرتے ہیں، نے حادثے کے بارے میں تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔ وزیر ٹرانسپورٹ شان ڈفی نے کہا کہ ٹور ہیلی کاپٹر نیو یارک میں قائم اسپیشل فلائٹ رولز ایریا میں تھا، جس کا مطلب ہے کہ حادثے کے وقت ایئر ٹریفک کنٹرول سروسز فراہم نہیں کی جا رہی تھیں۔ فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن ( ایف اے اے) اور نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (این ٹی ایس بی) واقعے کی تحقیقات کریں گے جبکہ این ٹی ایس بی تحقیقات کی قیادت کرے گا۔
شان ڈفی نے کہا کہ ایف اے اے جمعرات کی شام کو سیفٹی ریویو ٹیم بھی لانچ کر رہا ہے، این ٹی ایس بی کی چیئر پرسن جینیفر ہومنڈی اور بورڈ کی ایک ٹیم جمعرات کو نیویارک پہنچے گی اور جمعہ کو میڈیا بریفنگ دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ 2018 میں نیویارک میں ہیلی کاپٹر کے مشرقی دریا میں گرنے سے پانچ مسافر ہلاک ہو گئے تھے جبکہ پائلٹ زندہ بچ گیا تھا، ہیلی کاپٹر چارٹر فلائٹ پر تھا جس میں ایک کھلا دروازہ تھا تاکہ مسافر اسکائی لائن کی تصاویر لے سکیں۔ واشنگٹن ڈی سی میں ریگن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب 29 جنوری کو امریکن ایئرلائنز کے ریجنل جیٹ اور آرمی ہیلی کاپٹر کے حادثے میں 67 افراد کی ہلاکت کے بعد ہیلی کاپٹر سیفٹی امریکی کانگریس میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔