چیف ٹریفک آفیسر کی افسر شاہی, سی ٹی او نے انوکھی سزا دیدی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2025 GMT
عابد چوہدری: چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) نے ٹریفک جام ہونے پر ٹریفک پولیس کے ایس پیز کو انوکھی سزا دے دی۔
ذرائع کے مطابق سی ٹی او نے سزاکے طور پر ایس پیز سے سرکاری گاڑیاں واپس لے لیں اور انہیں ذاتی استعمال کی گاڑیاں بھی واپس کرنے کا حکم دیا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس کے ایس پیز دوران ڈیوٹی سرکاری گاڑیوں کی بجائے اپنی پرائیویٹ گاڑیوں پر ڈیوٹی کرتے رہے تھے۔ سی ٹی او نے ایس پیز کی ذاتی گاڑیاں بھی واپس لے کر ٹریفک لائنز مناواں بھیجوا دیں۔
شہری کی جیب سے ایک ہزار روپے نکالنے کا الزام, 5 اہلکار معطل
کینال روڑ پر ٹریفک جام ہونے کے بعد سی ٹی او نے سیکٹر انچارج گڑھی شاہو کو معطل بھی کر دیا تھا۔ پ
ولیس ذرائع کے مطابق یہ سخت اقدام ٹریفک کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ شہر میں ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سی ٹی او نے ایس پیز
پڑھیں:
ایف بی آر کو 1087 نئی گاڑیوں کی خریداری کی اجازت دیئے جانے کا انکشاف
وفاقی کابینہ کا ایف بی آر کو 1087 گاڑیوں کی خریداری کی اجازت دینے کا انکشاف سامنے آیا، 1300سی سی گاڑیاں افسران کے دفتری استعمال میں ہوں گی۔تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے پاس 1010 کے علاوہ مزید 77 نئی گاڑیوں کی خریداری کی منظوری موجود ہیں۔
وفاقی کابینہ کی جانب سے ایف بی آر کو 1087 گاڑیوں کی خریداری کی اجازت دینے کا انکشاف ہوا ، دستاویز میں بتایا گیا کہ پہلے مرحلے میں ایف بی آر نے 1010 نئی گاڑیوں کی خریداری کاعمل شروع کیا جبکہ ایف بی آر کے پاس مزید 77 گاڑیوں کی خریداری کی منظوری موجود ہے۔دستاویز میں کہنا تھا کہ کابینہ نے ایف بی آر کو آپریشنل مقاصد کیلئے 1300 سی سی تک گاڑیاں خریدنے کی اجازت دی ، ایف بی آر کو نئی گاڑیوں کی خریداری کیلئے ای سی سی اور کفایت شعاری کمیٹی سمیت کابینہ ڈویژن کی وہیکل اتھارٹائزیشن کمیٹی کی منظوری حاصل ہیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی 1010گاڑیاں افسران کے ذاتی استعمال کے لیے نہیں ہیں، گاڑیاں متعلقہ ڈائریکٹ کےزیراستعمال ہوں گی اور گاڑیوں کےدروازوں پرایف بی آرکالوگوہوگا ساتھ ہی گاڑیوں میں ٹریکرہوگاتاکہ غلط استعمال نہ ہوسکے۔ذرائع نے کہا ایف بی آر کے 360 افسران 78 شوگر ملز کی مانیٹرنگ پرمامورہیں جواپنی گاڑی میں شوگرملزجاتے ہیں اور شوگر ملز دور درازعلاقوں میں ہونے کی وجہ سے ٹیکس افسران مشکلات سے دو چار ہیں۔
ٹیکس حکام نے بتایا کہ کئی شوگرملزکی انتظامیہ ٹیکس کی بےبسی دیکھ کرانہیں گاڑی کی پیشکش کرتےہیں، ٹیکس فراڈ پکڑنے کے لیے ٹیکس افسران کی باوقار سرکاری سواری لازمی ضرورت ہے۔حکام کا کہنا تھا کہ گزشتہ مالی پنجاب ریونیواتھارٹی کا ٹیکس ہدف240ارب،ایف بی آرکا9430ارب روپے تھا، پنجاب ریونیواتھارٹی کے پاس ایف بی آر سے 20 گنا زیادہ ورک فورس ہے۔