کیا کوئٹہ میں ایرانی تیل کی خرید و فروخت ہو رہی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2025 GMT
بلوچستان کی سرحد پر پابندی کے باوجود افغانستان اور ایران سے اشیا کی اسمگلنگ جاری ہے۔ سرحد سے روزانہ کی بنیاد پر ایرانی پیٹرول، خشک میوہ جات، مصالحے، کمبل، قالین، الیکٹرانک آئٹمز سمیت مختلف اشیا پاکستان اسمگل کی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کیا ایرانی پیٹرول کی اسمگلنگ کا سلسلہ سال 2025 میں تھم جائےگا؟
حکومت کی جانب سے سختی کے باوجود اسمگل شدہ اشیا مارکیٹوں میں کھلے عام دستیاب ہیں۔ غیر قانونی طور پر منگوائی جانے والی ان اشیا میں سب سے زیادہ ایرانی پیٹرول اور ڈیزل شامل ہے۔
گزشتہ برس حکومت بلوچستان نے ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی اسمگلنگ اور خرید و فروخت پر پابندی عائد کردی تھی، لیکن کچھ مدت بعد ہی ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی اسمگلنگ کا کام معمول کے مطابق جاری ہے۔
روزانہ 50 ہزار سے ایک لاکھ لیٹر کی تک پیٹرول اسمگلنگ
ایک اندازے کے مطابق بلوچستان بھر میں ایرانی تیل کے کاروبار سے منسلک افراد روزانہ کی بنیاد پر 50 ہزار سے ایک لاکھ لیٹر تک ایرانی تیل غیر قانونی راستوں سے بلوچستان میں لاتے ہیں اور بعد ازاں چھوٹی بڑی گاڑیوں میں پیٹرول اور ڈیزل کو ڈمپنگ پوائنٹس تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ جس کے بعد ایرانی تیل منی پمپس تک بآسانی پہنچا دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پابندی کے باوجود کوئٹہ میں کھلے عام ایرانی پیٹرول کیسے فروخت ہو رہا ہے؟
ایرانی پیٹرول 190 روپے تک فروخت
وی نیوز سے بات کرتے ہوئے ایرانی تیل کے کاروبار سے منسلک شخص دین محمد نے بتایا کہ گزشتہ برس حکومت بلوچستان نے ایرانی پٹرول کی اسمگلنگ کے خلاف گھیرا تنگ کیا اور تقریبا ایک ماہ تک شدید پابندی رہی۔ اس دوران ایرانی پیٹرول کی زیادہ ڈیمانڈ کی وجہ سے اس کی قیمت 260 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی تھی، لیکن اب گزشتہ 2-3 ماہ سے ایرانی پیٹرول کی خرید و فروخت کا سلسلہ پھر شروع ہے۔ اس وقت مارکیٹ میں ایرانی پیٹرول 180 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہے جو بعد ازاں 190 روپے تک فروخت کیا جاتا ہے۔
سب سے زیادہ منافع بخش کاروبار
ایرانی تیل کے کاروبار سے منسلک محمد احمد نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایرانی پیٹرول کا کام صوبے میں سب سے زیادہ منافع بخش کاروبار ہے۔ اسی لیے بڑی تعداد میں بے روزگار نوجوان اس کام سے منسلک ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کیا ایرانیپیٹرول کی اسمگلنگ کا سلسلہ سال 2025 میں تھم جائےگا؟
بات کی جائے کوئٹہ شہر کی، تو کوئٹہ میں 300 سے زائد چھوٹے بڑے ایرانی تیل کے پمپس موجود ہیں جن پر روزانہ تیل سپلائی کیا جاتا ہے۔ اس وقت بھی قومی شاہراہوں پر چیکنگ تو کی جاتی ہے لیکن کچھ نہ کچھ دے دلا کر تیل باآسانی شہر پہنچ جاتا ہے۔
غ
پابندی سے نوجوان بیروزگار ہوجائیں گے
حکومت ایرانی تیل پر پابندی اس لیے مکمل طور پر نہیں لگا سکتی کیونکہ لاکھوں لوگوں کا کاروبار اس سے منسلک ہے، اگر حکومت ایرانی پیٹرول کی اسمگلنگ پر پابندی لگا دے گی تو لاکھوں نوجوان بے روزگار ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.ذریعہ: WE News
پڑھیں:
پشاور ہائیکورٹ؛ کرپٹو کرنسی پر قانون سازی کیلیے حکومت کو 2 ہفتے کی مہلت
پشاور:ہائی کورٹ نے کرپٹو کرنسی پر قانون سازی کے لیے حکومت کو 2 ہفتے کی مہلت دے دی۔
کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل فاریکس کی غیر قانونی کاروبار کے خلاف دائر درخواست پر سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال نے کی، جس میں ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت اس حوالے سے قانون سازی کررہی ہے، ایک مہینے کا وقت دیا جائے۔
جسٹس سید ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ 2 مہینے کا وقت دیتے ہیں، قانون سازی کریں۔ْ عدالت نے وفاقی حکومت کو کرپٹوکرنسی کے حوالے سے قانون سازی کے لیے 2 مہینے کا وقت دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت قانون سازی کرے اور رپورٹ جمع کرائے۔
دورانِ سماعت درخواست گزار بیرسٹر حذیفہ احمد نے مؤقف اختیار کیا کہ ملک میں کرپٹو کرنسی کی غیر قانونی آن لائن کاروبار ہو رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے 2018 میں اس کاروبار کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک میں کرپٹو کرنسی کے کوچنگ اور ٹریننگ سینٹرز کام کر رہے ہیں۔
درخواست گزار نے کہا کہ یہ تمام سینٹرز حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہیں، غیرقانونی طور پر کام کررہے ہیں۔ چین، مراکش، الجیریا سمیت دیگر ممالک نے کرپٹو کرنسی کے کاروبار پر پابندی عائد کردی ہے۔ حکومت نے اس کے لیے جو اسٹریٹیجک ایڈوائزر رکھا ہے وہ امریکا سے سزایافتہ ہے۔
جسٹس سید ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ یہاں تو مسئلہ یہ ہے۔
بیرسٹر حذیفہ احمد نے مؤقف اختیار کیا کہ اس قسم کا کاروبار ملک کی سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ حکومت کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل فاریکس کاروبار پر پابندی عائد کرے۔