اسلام آباد : قومی شناختی کارڈ کے قوانین میں ترامیم کی منظوری دے دی گئی ، جس کے تحت تاحیات میعاد کے ساتھ منفرد شناختی کارڈ کا اجرا کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق نادرا آرڈیننس 2000 کے سیکشن 44 کے تحت نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) رولز 2002 میں اہم تبدیلیوں کی منظوری دے دی گئی۔پریس ریلیز میں کہا گیا کہ یہ تبدیلیاں نظام کو مزید جامع بنانے، دستاویزات کو آسان بنانے اور لوگوں کے مخصوص گروپوں کی مخصوص ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں۔

ان میں سے ایک اہم اپ ڈیٹ خصوصی افراد کیلئے تاحیات میعاد کے ساتھ منفرد شناختی کارڈ کا اجرا کیا جائے گا۔رہائشی اور غیر رہائشی بالغ شہری جنہیں وفاقی یا صوبائی حکام نے “خصوصی افراد” کے طور پر تسلیم کیا ہے،وہ وہیل چیئر لوگو والے قومی شناختی کارڈز (NICs) کے اہل ہوں گے۔ نادرا ان خصوصی این آئی سی کے اجراء کا انتظام کرے گا۔

معذور بچوں کے لیے، نادرا چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ یا جووینائل کارڈ جاری کرے گا، جس میں وہیل چیئر کا نشان بھی ہوگا اور وہ قواعد کے مطابق مقرر کردہ مدت کے لیے درست ہوگا۔اس کے علاوہ اعضا عطیہ کرنے والے افراد کو بھی تاحیات میعاد کا خصوصی کارڈ جاری کیا جائے۔ جس میں وہیل چیئر اور عطیہ دہندگان دونوں کی علامتیں ہوں گی۔

یہ تبدیلیاں پاکستان بھر میں معذور افراد اور اعضاء کے عطیہ دہندگان کے لیے شمولیت کو یقینی بنانے اور ان کی شناخت کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کی کوششوں میں ایک اہم قدم کی نشاندہی کرتی ہیں۔ان کارڈز کے لیے تاحیات درستگی کی پیشکش کرکے، حکومت لوگوں کے لیے خدمات تک رسائی کو آسان بنا رہی ہے اور معاشرے میں ان کی منفرد شراکت کے لیے پہچانی جاتی ہے۔

.

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: شناختی کارڈ کے لیے

پڑھیں:

خیبر پختونخوا، منشیات کے عادی افراد کا مفت علاج صحت کارڈ میں شامل

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے صوبے میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی اور انہیں معمول کی زندگی میں واپس لانے کے لیے ان کا علاج مفت کرنے کا اعلان کیا جو اب صوبے میں حکومت کی جانب سے دستیاب مفت علاج کی سہولت صحت کارڈ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

پشاور میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی سربراہی میں صوبائی ٹاسک فورس برائے انسداد منشیات کا پہلا اجلاس ہوا جس میں صوبائی کابینہ کے اراکین اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے مہم پر بریفنگ دی گئی۔

منشیات ڈیلرز کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن

اجلاس کے حوالے سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعلیٰ کو صوبے میں منشیات میں مبتلا افراد اور ان کی بحالی کے حوالے سے حکومتی اقدامات اور مسائل پر بریفنگ دی گئی۔

یہ بھی پڑھیےچترالی کاشتکاروں نے منشیات اگانے کی ٹھان لی، اصل وجہ کیا ہے؟

اجلاس میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے ساتھ منشیات کے تدارک، روک تھام کے لیے اقدامات اور کارروائیاں تیز اور موثر کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے پولیس کو صوبے بھر میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑے پیمانے پر  کریک ڈاؤن کرنے کی ہدایات کر دی اور سختی سے ہدایت کی ہے کہ متعلقہ حکام منشیات فروشوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں نہ کرنے والے پولیس افسران کو عہدوں ہٹائے۔ جبکہ کارروائیوں کا جائزہ لینے کے لیے اگلے 15 دنوں میں ٹاسک فورس کا خصوصی اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں تمام اضلاع میں منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا جائزہ لیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ نے اجلاس میں صوبے کے کچھ علاقوں میں پوست کی کاشت پر تشویش کا اظہار کیا۔ قران علاقوں میں پوست کی کاشت کے تدارک کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

پوسٹ کے  کاشت کاروں کو متبادل کی فراہمی

اجلاس میں پوسٹ کی کاشت اور کاشت کاروں پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ جس میں پوسٹ کی کاشت کو ختم کرنے کے لیے پوست کاشت کرنے والے کاشت کاروں کو متبادل فصل کاشت کرنے پر آمادہ  کرنے کی تجویز دی گئی جس کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔ اور یہ کمیٹی ایک ہفتے میں متعلقہ کاشتکاروں کے ساتھ جرگہ منعقد کر کے وزیر اعلیٰ کو رپورٹ پیش کرے گی۔ فیصلہ کیا گیا کہ متبادل فصل کاشت کرنے کے لیے بیج اور دیگر ضروریات صوبائی حکومت فراہم کرے گی۔

منشیات کے عادی افراد کا علاج صحت کارڈ میں مفت

صوبائی ٹاسک فورس برائے انسداد منشیات کے اجلاس میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کو حکومتی نگرانی میں مفت کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور اس عمل کو ادارہ جاتی شکل دینے کی بھی منظوری دی گئی۔ جس کے لیے متعلقہ محکموں اور اداروں کی ذمہ داریوں کا واضح تعین کیا جائے گا جبکہ کیس حتمی منظوری کے لیے صوبائی کابینہ کو پیش کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیےجامعات میں منشیات کا استعمال: ‘سب کا بلڈ ٹیسٹ ہو گا‘

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ منشیات کے عادی افراد کا علاج مفت ہوگا اور اسے صحت کارڈ میں شامل کیا جائے گا۔ علی امین گنڈاپور نے اجلاس میں ہدایت کی کہ منشیات کا قلع قمع کرنے کے لیے اس کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف گھیرا تنگ کیا جائے۔ اور عام لوگوں کو منشیات کا عادی بنانے اور انہیں برباد کرنے والوں کے لیے کوئی رعایت اور معافی نہیں ہے۔

ڈرگ فری پشاور

اجلاس کو ڈرگ فری پشاور مہم کے تحت انسداد منشیات کے سلسلے میں اب تک کی کارروائیوں، منشیات کے عادی افراد کی بحالی اور دیگر اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ محکمہ ایکسائز کی جانب سے پشاور میں ہیروئن مکسنگ کی تین فیکٹریاں بند کی گئی۔

ضلع خیبر میں 200 کنال، مہمند 112 کنال ، صوابی 45 اور مانسہرہ میں 13 کنال رقبے پر کاشت پوست کی فصل تلف کی گئی ہے۔ سال 2024 میں 1141 کلو گرام مختلف اقسام کی منشیات جلائی گئی ہیں جن کی بین الاقوامی مارکیٹ میں مالیت 2 ارب روپے بنتی ہے، جبکہ محکمہ ایکسائز کے تحت کارروائیوں میں جون 2024 سے اب تک 2952 کلو گرام چرس پکڑی گئی۔ اسی عرصے میں تقریباً 105 کلو گرام ہیروئن ، 157 کلو گرام افیون ، 37 کلو گرام آئس اور 248 لیٹر شراب پکڑی گئی۔ جبکہ اسی دوران منشیات کے خلاف کارروائیوں میں 238 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ڈرگ فری پشاور مہم کے تیسرے مرحلے کے تحت منشیات کے 2  ہزار افراد کی بحالی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ اس سے قبل پہلے 2 مرحلوں میں تقریباً 2400 منشیات کے عادی افراد کی بحالی عمل میں لائی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

خیبر پختونخوا صحت کارڈ منشیات وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا، منشیات کے عادی افراد کا مفت علاج صحت کارڈ میں شامل
  • شناختی کارڈ بنوانے والوں کے لیے اہم خبر
  • شناختی کارڈ کے قوانین مجریہ 2002ء میں ترامیم کی منظوری
  • ڈیجٹل کانٹنٹ بنانے والوں کیلئے گولڈن ویزا، بڑی خبر آ گئی
  • نادرا خصوصی افراد کیلیے تاحیات میعاد کےساتھ منفرد شناختی کارڈ جارے کرے گا
  • نادرا کا خصوصی افراد اور اعضاء عطیہ کرنے والوں کے لیے منفرد شناختی کارڈ کا اعلان
  • قومی شناختی کارڈ کے قوانین مجریہ 2002میں ترامیم کی منظوری
  • خصوصی افراد اور ڈونرز کیلئے وہیل چیئر کے نشان والے تاحیات منفرد شناختی کارڈ کا اجرا
  • کے پی کے میں صحت کارڈ کے ذریعے مصنوعی اعضا کی فراہمی کا آغاز