آیت اللہ خامنہ ای نے غزہ جنگ بندی کو اسرائیل کی شکست قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2025 GMT
تہران : ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے غزہ میں جنگ بندی کو اسرائیل کی شکست قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ نے صہیونی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا، حالانکہ اسرائیل کو مکمل امریکی حمایت حاصل تھی۔
تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات کے دوران انہوں نے غزہ کی مزاحمت کو شجاعت کی مثال قرار دی اور کہا کہ یہ اسرائیل کی طاقتور حکومت کے سامنے ایک بڑی کامیابی ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ سفارتکاری کی مسکراہٹوں کے پیچھے اکثر بدنیتی اور دشمنیاں چھپی ہوتی ہیں، اس لیے ہمیں محتاط رہ کر مذاکرات اور بات چیت کرنی چاہیے۔
.ذریعہ: Nai Baat
پڑھیں:
یہ اسرائیل کی فتح نہیں بلکہ ہتھیار ڈالنا اور ذلت آمیز ہے، مستعفی وزیر نیتن یاہو پر برس پڑے
جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد سے پناہ گزین فلسطینیوں کی غزہ میں اپنے گھروں کو واپسی شروع ہوگئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کے مستعفی وزیر بین گویر نے جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کو مسترد کرتے ہوئے غزہ کے مکمل طور پر تباہ ہونے تک جنگ جاری رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بین گویر نے نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری فتح نہیں ہے بلکہ ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے۔
مستعفی وزیر بین گویر نے شمالی غزہ میں فلسطینیوں کی واپسی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس جنگ بندی معاہدے کا ایک اور ذلت آمیز حصہ ہے۔
بین گویر نے مزید کہا کہ نصیرات کے کوریڈور کے ذریعے غزہ کے شمالی حصے میں فلسطینیوں کی واپسی میں لاپرواہی برتی جا رہی ہے۔ یہ اسرائیلیوں کے لیے خطرناک ہوسکتی ہے۔
یہ خبر پڑھیں : غزہ سفرِ عزمِ نو؛ ہزاروں فلسطینیوں کی کھنڈر بن چکے اپنے گھروں میں واپسی شروع
غزہ جنگ بندی معاہدے کی مخالفت میں استعفی دینے والے بین گویر نے کہا کہ یہ معاہدہ فتح نہیں بلکہ میدان جنگ میں ہتھیار ڈالنے کی طرح ہے۔
انتہاپسند یہودی رہنما بین گویر نے مزید کہا کہ اسرائیل کے بہادر سپاہیوں نےفلسطینیوں کی اپنے گھروں میں واپسی کے لیے جنگ نہیں کی تھی۔
بین گویر نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے اپنی جانیں جنگ جیتنے کے لیے دی تھیں کسی معاہدے کے لیے نہیں۔