پی ٹی آئی نے دس، بارہ سال سے ملک کی سیاست کو نقصان پہنچایا، رانا ثناء اللّٰہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2025 GMT
فائل فوٹو۔
پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی کے رکن اور وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے دس، بارہ سال سے ملک کی سیاست کو نقصان پہنچایا، انکا کہنا تھا کہ مذاکرات سے بھاگنے والی پی ٹی آئی ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں میزبان سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ پی ٹی آئی والے کمیٹی میں آتے تو ہم چارٹر آف ڈیمانڈ کا جواب دیتے، ہمیں کیا ان کی ہدایت پر عمل کرنا تھا؟
وزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ اُن کی حکومت آر ٹی ایس بٹھا کر لائی گئی تھی، اپنی حکومت میں انہوں نے جوڈیشل کمیشن منع کر کے پارلیمانی کمیشن کا کہا تھا۔
رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ اس صورتحال میں کوئی بھی جج کو کمیشن کے قریب نہیں آنا تھا، سیاست دان بیٹھتے ہیں تو حل نکلتا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ اگر یہ سڑکوں پر ہوں گے، قانون ہاتھ میں لیں گے تو قانون راستہ لے گا، سڑک پر مسئلہ حل کرنا ہے تو پھر سڑک پر آجائیں۔
رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ جمہوری سسٹم میں مسائل میز پر حل ہوتے ہیں، یہ چوتھی بار آنا چاہتے ہیں تو آجائیں۔ ان کا حال یہ ہے کوئی بات سنا دیتا ہے تو اس پر ان کے دو دن گزر جاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ان کی سوچ اور انداز احمقانہ ہے، موجودہ اسٹیشلمنٹ ان کے ساتھ کوئی ڈائیلاگ نہیں کرے گی۔ آج یہ بھاگے تو کل نہیں تو پرسوں آنا پڑے گا۔
رانا ثناء اللّٰہ نے کہا انہوں نے مولانا کا ساتھ چھوڑا تھا جبکہ مولانا نے ان کا مؤقف اپنایا، یہ یہی رویہ اپنائے رکھیں گے تواسی حال میں رہیں گے۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: رانا ثناء الل نے کہا کہ ا پی ٹی ا ئی ہ نے کہا کے ساتھ
پڑھیں:
ٹرمپ کی دھمکیوں کے سائے میں ایران امریکا جوہری مذاکرات آج ہوں گے
واشنگٹن:ٹرمپ کی دھمکیوں کے سائے میں ایران امریکا جوہری مذاکرات آج عمان میں ہوں گے۔
مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے جبکہ امریکی وفد کی نمائندگی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف کریں گے، عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی ثالث کا کردار ادا کریں گے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران ان مذاکرات میں شدید شکوک و شبہات کے ساتھ شریک ہو رہا ہے خاص طور پر جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مسلسل دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک بار پھر امریکا پر زور دیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کے لیے فوجی حملے کیے جائیں دوسری جانب ٹرمپ نے بھی دھمکی دی ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر شدید بمباری کی جائے گی۔
وائٹ ہاؤس نے جمعہ کو ایک بار پھر ٹرمپ کی دھمکی دہرائی کہ اگر ایران نے اپنا جوہری پروگرام ختم نہ کیا تو "اسے بھاری قیمت چکانا ہوگی"۔
امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے وال اسٹریٹ جرنل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کی "ریڈ لائن" یہ ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل نہ ہو اور جوہری پروگرام کا خاتمہ مذاکرات کی ابتدائی شرط ہے تاہم انہوں نے مفاہمت کے دوسرے راستوں کے لیے آمادگی کا بھی عندیہ دیا۔
دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ ہونے والے اعلیٰ سطحی جوہری مذاکرات کے ذریعے خلوص نیت کے ساتھ سفارتکاری کو ایک حقیقی موقع دے رہا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایکس پر کہا کہ امریکا کو ایران کے مذاکرات میں شامل ہونے کے فیصلے کی قدر کرنی چاہیے مگر واشنگٹن کا انداز اب بھی جارحانہ اور دھمکی آمیز ہے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ مجید تختِ روانچی نے کہا کہ اگر امریکا کی جانب سے دھمکیاں اور دباؤ نہ ہو تو معاہدے تک پہنچنے کے امکانات روشن ہیں تاہم ہم ہر قسم کی دھونس اور دھمکی کو مسترد کرتے ہیں۔ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے ایکس پر لکھا کہ ایران نے اہم اور عملی تجاویز تیار کی ہیں تاکہ منصفانہ معاہدہ ممکن ہو سکے۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ یہ "بالواسطہ مذاکرات" ہوں گے جن میں عمان ثالثی کرے گا۔ ایران کے مطابق عراقچی "مکمل اختیارات" کے ساتھ مذاکرات کے لیے روانہ ہو رہے ہیں تاہم ٹرمپ کا کہنا کہ یہ "براہِ راست مذاکرات" ہوں گے۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان سابق صدر باراک اوباما کے دور میں جوہری معاہدہ ہوا تھا، جس سے 2018 میں صدر ٹرمپ نے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔
اس کے بعد ایران نے یورینیم کی افزودگی میں اضافہ کیا، جس سے مغرب کو خدشہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ سکتا ہے، حالانکہ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا پروگرام مکمل طور پر پرامن توانائی کے حصول کے لیے ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں اسرائیل کی جانب سے غزہ پر دوبارہ حملے شروع ہو چکے ہیں جبکہ لبنان اور شام پر بھی بمباری کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی جانب سے یمن میں حوثی اہداف پر حملے بھی جاری ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان مذاکرات سے کسی ممکنہ معاہدے کے آثار نظر آئے تو خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔