چینی شہریوں کو فارن ایکٹ کو فالو کرنا چاہیے تھا، ضیا لنجار
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2025 GMT
وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار(فائل فوٹو)۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا ہے کہ غیر ملکی شہریوں کو فارن ایکٹ کو فالو کرنا چاہیے تھا۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ چینی شہریوں کو بھی پروسیجر کو فالو کرنا چاہیے تھا، ان کی دائر پٹیشن قانونی طور پر درست نہیں، چینی شہریوں کو قونصل جنرل کے ذریعے اپروچ کرنا چاہیے تھا۔
یہ بھی پڑھیے سندھ میں کسی چینی شہری سے بھتے کی شکایت رپورٹ نہیں، آئی جی چینی سرمایہ کاروں کا کراچی پولیس پر ہراسانی کا الزام چینی شہریوں کی سکیورٹی کیلئے انتہائی اعلیٰ سطح کی یقین دہانیوزیر داخلہ کے مطابق ان دو چینی شہریوں کی یہاں سرمایہ کاری نہیں، پولیس حکام نے چینی قونصل جنرل سے ملاقات کی ہے۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ چینی قونصل جنرل سے ملاقات کروں گا تاکہ ان کا پالیسی بیان سامنے آئے۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کرنا چاہیے تھا چینی شہریوں شہریوں کو
پڑھیں:
پنجاب ایسڈ کنٹرول ایکٹ منظور؛ بغیر لائسنس تیزاب کی فروخت ناقابل ضمانت جرم قرار
لاہور:پنجاب اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ نے ’’پنجاب ایسڈ کنٹرول ایکٹ 2025‘‘ کے ڈرافٹ کی منظوری دے دی۔
نئے قانون میں بغیر لائسنس تیزاب کی فروخت ناقابل ضمانت جرم قرار دی گئی۔ صوبے میں تیزاب کی غیر قانونی فروخت پر 3 سال قید 5 لاکھ جرمانہ ہوگا جبکہ لائسنس کے باوجود فروخت میں لاپروائی برتنے پر 2 سے 5 سال قید اور 2 سے 10 لاکھ جرمانہ ہوگا۔
نئے قانون کے مطابق تیزاب گردی کے شکار افراد کو معاوضہ بھی دیا جائے گا۔
تیزاب کی پیکنگ، نقل و حمل اور فروخت کے دوران کنٹینر پر احتیاطی تدابیر واضح درج کرنا جبکہ پیکنگ پر تیزاب کی قسم، حجم، مقدار اور لائسنس ہولڈر کی تفصیلات درج کرنا بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔
تیزاب کی نقل و حمل، ذخیرہ اور خرید و فروخت کے حوالے سے کوئی قانون موجود نہیں تھا۔ تیزاب گردی کے شکار افراد کی زندگیوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔
تیزاب کے خرید و فروخت کے کاروبار کو ریگولیٹ کرنے کے لیے نیا قانون لایا جا رہا ہے اور ایکٹ میں تیزاب کی 30 اقسام کو ریگولیٹ کیا گیا ہے۔
قانون میں ڈپٹی کمشنرز کو تیزاب کے کاروبار کے لیے لائسنس دینے کی اتھارٹی دی گئی ہے۔
قانون ایم پی اے حنا پرویز بٹ نے بطور پرائیویٹ ممبر بل پیش کیا۔ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ کی ہدایت پر محکمہ داخلہ اور محکمہ قانون نے ایکٹ کا حتمی مسودہ تیار کیا۔
اسٹینڈنگ کمیٹی سے منظوری کے بعد قانون کو اسمبلی فلور پر پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب صوبہ بھر میں قانون کا اطلاق کروائے گا۔