نجکاری کے عمل کے لیے جامع پالیسی فریم ورک کی ضرورت
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیر اعظم کی جانب سے معاشی تبدیلی کے ایجنڈے کا بغور جائزہ لینے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ بہت سے حکومتی ادارے جن میں کچھ انتہائی نقصان میں چل رہے ہیں وہ آج بھی سرکاری سرپرستی میں ہیں اور ان اداروں نے مالی سال 2021 میں سالانہ مجموعی طور پر 3 ارب 70 کروڑ ڈالر کے مساوی نقصان اٹھایا جو کہ مجموعی قومی پیداوار کا ایک فیصد بنتا ہے۔
جبکہ مالی سال 2022 میں ان کا خسارہ 2 ارب 90 کروڑ ڈالر تھا جو مجموعی قومی پیداوار کا صفر اعشاریہ 9 فیصد تھا۔
یہ ادارے نہ صرف مالی بوجھ بنے ہوئے ہیں بلکہ معیشت کی مجموعی کارکردگی کو بھی نقصان پہنچارہے ہیں، کہتے ہیں کہ مسئلے کی درست نشاندہی سے نصف مسئلہ حل ہوجاتا ہے لہذا وزیر اعظم کے معاشی ایجنڈے کا اگر جائزہ لیں تو یہ بات درست معلوم ہوتی ہے تاہم دیگر نصف مسئلے کو حل کرنے کے لیے سیاسی عزم درکار ہے۔
وزیر اعظم کے معاشی ایجنڈے میں وہی پرانی بات دہرائی گئی ہے کہ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کو پہلی ترجیح میں نجکاری کردی جائے تاہم پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نج کاری میں تاحال ناکامی سے اس پورے عمل کو دھچکا لگا ہے۔
نج کاری ایک پیچیدہ عمل ہے اور اس بات کو سراہا جانا چاہیے کہ حکومت نے تمام مسائل کے باوجود نجکاری کا عمل جاری رکھنے کا عزم دہرایا ہے تاہم اس کے لیے ایک جامع پالیسی فریم ورک کی ضرورت ہے۔
ایک تجویز یہ ہے کہ نج کاری کے عمل کا آغاز ایسے اداروں کی فروخت سے کیا جائے جو منافع بخش ہیں اور اس سلسلے میں جار مختلف کیٹیگریز ہیں جن کی کمپنیوں کی نج کاری کی جاسکتی ہے کیونکہ ان کی نج کاری کے نتیجے دیگر مختلف کمپنیاں اور ادارے نج کاری کے عمل میں دلچسپی دکھائیں گے اور مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا اور یہ عمل تیز تر ہوگا۔
کچھ سرکاری ادارے ایسے ہیں جو اپنی عملی افادیت کھوچکے ہیں کاروباری لحاظ سے تاہم ان کی اہمیت ان کے اثاثہ جات کی وجہ سے ہے ایسے اداروں کی نج کاری کے وقت اس بات کو اجاگر کیا جانا چاہے کہ ان کے اثاثوں کو دیگر تجارتی مقاصد کے لیے بھی فروخت کیا جائے تاکہ حاصل ہونے والی رقم سے حکومت اپنے قرضہ جات کی ادائیگی میں صرف کرسکے۔
ایسے ادارے جو مکمل طور پر خسارے میں چل رہے ہوں انھیں آکشن کے ذریعے یا پھر بات چیت کے عمل کے ذریعے فوری فروخت کیا جانا چاہیے۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نج کاری کے کی نج کاری کے لیے کے عمل
پڑھیں:
انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے قانونی فریم ورک مضبوط اور عمل درآمد تیز کیا جائے، وزیراعظم کی ہدایت
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت انسانی سمگلنگ کے سدباب کے لیے تشکیل کردہ ٹاسک فورس کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنانے پر زور دیا گیا۔
وزیراعظم نے اجلاس میں انسانی سمگلنگ کے سدباب کے لیے موجودہ قانونی فریم ورک کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے وزارت داخلہ کو وزارت قانون و انصاف کے ساتھ قریبی تعاون کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ فیڈرل پراسیکیوشن ایکٹ 2023 پر عمل درآمد کی رفتار تیز کی جائے۔
وزیراعظم نے انسانی سمگلنگ کے بین الاقوامی نیٹ ورک کے خلاف اقدامات کو اہم قرار دیا اور ایف آئی اے کو ہدایت دی کہ بیرون ملک موجود انسانی سمگلروں کی حوالگی کے لیے دفتر خارجہ کو تحقیقات میں جمع کردہ معلومات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے اشتہاری مجرمان کے ریڈ وارنٹ فوری طور پر جاری کرنے کے احکامات بھی دیے۔
اجلاس میں انسانی سمگلنگ کے سدباب کے لیے تمام اداروں کے درمیان تعاون پر زور دیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ انسانی سمگلنگ کا مکمل خاتمہ تمام اداروں کی مشترکہ کوشش سے ممکن ہے اور سمگلروں کی گرفتاری اور ان کے خلاف مقدمات کے لیے درکار افرادی قوت کے حصول کے عمل کو تیز کیا جائے۔
مراکش کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے افسوسناک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ اس کیس میں 27 انسانی سمگلروں کی شناخت ہو چکی ہے، جن میں سے 5 کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور انسانی سمگلنگ کے خلاف جاری اقدامات پر بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے مکمل یکجہتی اور ذمہ داری کے ساتھ کام کیا جائے۔