چارلی ہیبڈو حملہ کیس، فرانس کی عدالت سے 6 پاکستانیوں کو 3 سے 30 سال تک قید کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2025 GMT
فرانسیسی دارالحکومت کی نابالغوں کے لیے خصوصی عدالت نے ظہیر محمود کے شریک مدعا علیہان کو 3 سے 12 سال قید کی سزا سنائی۔ اسلام ٹائمز۔ پیرس کی ایک عدالت نے گستاخانہ خاکے شائع کرنے والے میگزین چارلی ہیبڈو کے سابق دفتر کے باہر 2 افراد کو چاقو کے وار سے قتل کرنے کی کوشش کرنے والے ظہیر محمود سمیت 6 پاکستانیوں کو 3 سے 30 سال تک قید کی سزا سنا دی۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 29 سالہ ظہیر محمود نے جب یہ حملہ کیا تو وہ لاعلم تھے کہ فرانسیسی میگزین کا دفتر اب اس عمارت میں نہیں ہے۔ درحقیقت چارلی ہیبڈو نے القاعدہ سے منسلک 2 نقاب پوش مسلح افراد کی جانب سے اپنے دفتر پر دھاوا بولنے کے بعد دفتر دوسری جگہ منتقل کر دیا تھا، القاعدہ کے اس حملے میں میگزین کے ادارتی عملے کے 8 ملازمین سمیت 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ 5 دیگر پاکستانی افراد، جن میں سے کچھ اس حملے کے وقت نابالغ تھے، ظہیر محمود کے ساتھ دہشت گردی کی سازش کے الزام میں مقدمے کا سامنا کر رہے تھے کہ انہوں نے ملزم کے اقدامات کی حمایت اور حوصلہ افزائی کی تھی۔ فرانسیسی دارالحکومت کی نابالغوں کے لیے خصوصی عدالت نے ظہیر محمود کے شریک مدعا علیہان کو 3 سے 12 سال قید کی سزا سنائی۔
.ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ظہیر محمود قید کی سزا کو 3 سے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کی ملک مخالف سرگرمیاں اور محب وطن پاکستانیوں کا احتجاج
حال ہی میں واشنگٹن میں ’فرسٹ پاکستان گلوبل‘ نامی تنظیم کی جانب سے 22 جنوری کو کیپیٹل ہل میں اسلام آباد قتل عام کے موضوع پر ایک کانگریشنل بریفنگ کی میزبانی کی گئی۔ تنظیم کے ٹوئیٹ کے مطابق اس بریفنگ کا انتظام کانگریس مین گریگ کاسار اور پاکستانی امریکی کمیونٹی نے کیا تھا۔
اس تقریب میں صرف 3 کانگریس ممبران نے شرکت کی۔ تنظیم کے مطابق یہ بریفنگ فاشسٹ حکومت کے مظالم کو بے نقاب کرنے اور انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے احتساب اور انصاف کی اشد ضرورت کو اجاگر کرنے کے لیے تھی۔ تاہم، بریفنگ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکی۔
مزید پڑھیں: سیاسی ڈائیلاگ میں ڈیڈلاک، پی ٹی آئی نے مذاکرات کے چوتھے راؤنڈ میں شرکت سے انکار کردیا
کچھ پاکستانیوں نے جنہیں یہ بریفنگ پاکستان کے خلاف سمجھا، جب اس میں شرکت کرنے اور بیٹھنے کی کوشش کی، تو انہیں پولیس کے ذریعے باہر نکال دیا گیا۔ بریفنگ کے دوران پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی شرکت نہ ہونے کے برابر تھی۔ تقریب کے آغاز سے قبل ہال میں ہنگامہ آرائی بھی ہوئی، جس کے نتیجے میں انتظامیہ اور کچھ افراد کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ پولیس کی مداخلت کے بعد ان افراد کو باہر نکالا گیا۔
انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اس بریفنگ میں شرکت صرف دعوت نامہ کے ذریعے ممکن تھی، اور جو لوگ مدعو نہیں تھے انہیں اجازت نہیں دی جا سکتی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’فرسٹ پاکستان گلوبل‘ اسلام آباد قتل عام کیپیٹل ہل واشنگٹن