عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے بعد میڈیا پر کیا گزری؟ ایچ آر سی پی کی رپورٹ جاری WhatsAppFacebookTwitter 0 23 January, 2025 سب نیوز

اسلام آ باد(آئی پی ایس )انسانی حقوق کمیشن پاکستان (ایچ آر سی پی)نے ملک میں میڈیا کی صورت حال پر اپنی تجزیاتی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف 2022 میں ہونے والی کامیاب عدم اعتماد کے بعد میڈیا کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا ہے۔ایچ آر سی پی نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں اظہارِ رائے کی صورت حال جاری کی ہے، جس میں ملک میں میڈیا کی آزادی کے موجودہ حالات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
ایچ آر سی پی کی رپورٹ صحافی مہیم مہر نے تحریر کی ہے، جس میں اپریل 2022 میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کے بعد سے پیدا ہونے والی صورت حال کا تجزیہ کیا گیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ رپورٹ کے نتائج ایک پریشان کن تصویر پیش کرتے ہیں، کچھ حصوں پر سخت پابندیاں عائد ہیں جبکہ دیگر کو مکمل آزادی حاصل ہے، جس سے بیانیے کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں صحافیوں کے قتل، جبری گمشدگیوں، مخصوص “پریس ایڈوائس” اور ڈیجیٹل آزادی کو محدود کرنے کے لیے بنائے گئے قوانین کے بارے میں انکشاف کیا گیا ہے۔ایچ آر سی پی نے کہا کہ تاہم، ریاستی سنسرشپ کے باوجود، ڈیجیٹل میدان ایک متبادل آواز کے طور پر ابھررہا ہے جو روایتی طاقت کے ڈھانچے کو چیلنج کر رہا ہے اور اسی دوران، روایتی میڈیا پر کم ہوتا اعتماد کارپوریٹ مفادات، متشدد گروہوں اور اسٹیبلشمنٹ کے چند عناصر نے اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ سنسرشپ نے خود ایک وسیع قومی بحث کو جنم دیا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کے عوام آزادی سے بات کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ایچ آر سی پی نے کہا ہے کہ یہ رپورٹ آزادی اظہار کو درپیش خطرات کی نشان دہی کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت کی فوری ضرورت پر زور دیتی ہے۔

.

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے ایچ آر سی پی کے بعد

پڑھیں:

ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، ظلم و تشدد پر اظہار تشوش

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں صحافیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جن میں جھوٹے اور من گھڑت مجرمانہ مقدمات، نقل و حرکت پر پابندی اور حملے شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ میں نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کے دور میں مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت بھر میں بڑھتے ہوئے ظلم و تشدد، امتیازی سلوک اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر سخت تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں بھارتی حکومت نے اگست 2019ء میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد پہلی بار منعقد ہونیوالے انتخابات میں امن اور سلامتی کی بحالی کے بھارتی حکومت کے دعووئوں کو کشمیریوں نے مسترد کر دیا اور بنیادی آزادیوں پر مسلسل پابندیوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ جموں خطے میں مئی اور جولائی 2024ء کے درمیان تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں 15بھارتی فوجی ہلاک اور 9 شہری جاں بحق ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں صحافیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جن میں جھوٹے اور من گھڑت مجرمانہ مقدمات، نقل و حرکت پر پابندی اور حملے شامل ہیں۔

کشمیری صحافی آصف سلطان کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کے تحت دوبارہ گرفتار کیا گیا۔ انہیں پانچ سال کی غیر قانونی نظربندی کے بعد رہا کیا گیا تھا۔ مودی حکومت کے نقاد صحافیوں اور ویب سائٹس بشمول ہندوتوا واچ کو بلاک کر دیا گیا۔ پانچ صحافیوں کو ویزے جاری نہیں کئے گئے جبکہ تین غیر ملکی صحافیوں کے ورک پرمٹ کی تجدید نہیں کی گئی۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کو بھی شدید ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا ہے جن میں گرفتاریاں اور پولیس کی طرف سے پوچھ گچھ شامل ہے۔ خاص طور پر انسانی حقوق کے ممتاز کارکن خرم پرویز کو نومبر 2021ء سے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون کے تحت نظربند کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان اقدامات نے علاقے میں حکومتی جوابدہی اور میڈیا کی آزادی کے بارے میں سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں بھارت کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر تنقید کی گئی ہے جو مودی کے دور میں بد سے بدتر ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مودی کے دور اقتدار میں بھارت میں مذہبی انتہا پسندی اور نچلی ذات کے ہندوئوں پر مظالم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ بی جے پی کے زیر اقتدار بھارتی ریاستوں میں مسلمانوں کے گھروں اور املاک بلڈوزر سے مسمار کی جا رہی ہیں۔ریاست اتر پردیش میں 15سالہ دلت لڑکے کو پیشاب پینے پر مجبور کیا گیا جبکہ ایک دلت نرس کو ایک ڈاکٹر کی طرف سے ذیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس عرصے کے دوران دنیا بھر میں انٹرنیٹ کی معطلی میں بھارت سرفہرست رہا۔ بھارتی حکومت نے فار ن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے تحت سینٹر فار پالیسی ریسرچ اور ورلڈ ویژن انڈیا جیس این جی اوز کو نشانہ بنایا۔

متعلقہ مضامین

  • ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان نے آزادی اظہار رائے پر تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی
  • ملک میں اظہارِ رائے کی مکمل آزادی ہے، وزیرِ اعظم
  • حکومت اور میڈیا کا باہمی اعتماد کا رشتہ ہے:شہباز شریف
  • مرغیاں پالنے کیخلاف درخواست، بلیوں سے متعلق رپورٹ طلب
  • محسوس ہو فیصلہ حکومت کے خلاف ہے تو چلتا ہوا کیس بینچ سے واپس لے لیا جائے، عدلیہ کی آزادی ختم ہوگئی: جسٹس منصور
  • محسوس ہو فیصلہ حکومت کے خلاف ہے تو چلتا ہوا کیس بینچ سے واپس لے لیا جائے، عدلیہ کی آزادی ختم ہوگئی: جسٹس منصور علی شاہ
  • محسوس ہو فیصلہ حکومت کے خلاف ہے تو چلتا ہوا کیس بینچ سے واپس لے لیا جائے، عدلیہ کی آزادی ختم ہوگئی، جسٹس منصور علی شاہ
  • ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، ظلم و تشدد پر اظہار تشوش
  • جیکب آباد: پولیو کے 5 کیس رپورٹ، ڈی ایچ او کے خلاف کارروائی نہ ہوئی