الجزائر میں تعلیمی اداروں کا بائیکاٹ‘ طلبہ سڑکوں پر نکل آئے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2025 GMT
الجزائر سٹی (انٹرنیشنل ڈیسک) الجزائر میں طلبہ پڑھائی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے تعلیمی اداروں میں جانے سے انکار کر دیااور احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ ہزاروں طلبہ نے مشترکہ طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے ایک تحریک چلائی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ وزارت قومی تعلیم کو نصاب اور مطالعہ کے اوقات کم کرنے پر مجبور کیا جائے۔ طلبہ کو نصاب کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی ایک وجہ زبان سکھانے والے اداروں میں نجی اسباق پر پابندی کے حالیہ حکومتی فیصلے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق بہت سے تعلیمی اداروں میں طلبہ اپنی پڑھائی کا بائیکاٹ کرکے سڑکوں پر نکل آئے اور اس سے آگے نکل کر سڑکوں پر مارچ اور نیم احتجاج تک پہنچ گئے۔ بعض اداروں میں طلبہ اور منتظمین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ دوسری جانب احتجاجی تحریک نے تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد کو ناراض کر دیا ہے۔طلبہ کے والدین سے لے کر اساتذہ تک سب اس تحریک سے نالاں ہیں اور انہوں نے تحریک کی مذمت کرنے والے بیانات جاری کیے ہیں۔ نیشنل فیڈریشن آف پیرنٹس ایسوسی ایشنز نے اشتعال انگیز پوسٹوں کی شدید مذمت کی جو سوشل میڈیا کے ذریعے طلبہ کو سڑکوں پر لانے کا باعث بنی ہیں۔ یونین نے بیان میں کہا کہ الجزائر کی ریاست طالب علم کے مفادات کو پورا کرنے والے قانونی، صحت اور سماجی حالات کے مطابق سپورٹ اسباق کے عمل کو مرتب کرنا چاہتی ہے۔نامعلوم شناخت اور مقام کے لوگوں کے ذریعے چلائے جانے والے بلیو اسپیس پیجز پر سرگرمیاں ایسے جعلی اکاؤنٹس کے پیچھے چھپی ہوئی ہیں جن کا مقصد غلط معلومات پھیلانا اور ہمارے بچوں کو انتشار پر اکسانا ہے۔
.ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سڑکوں پر
پڑھیں:
پی ٹی آئی کی بائیکاٹ کی دھمکی، حکومت کی چارٹر آف ڈیمانڈ پر7 روز میں جواب دینے کی یقین دہانی
پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کی جانب سے 7 روز میں 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر عدالتی کمیشن قائم نہ کیے جانے پر مذاکرات کے اگلے دور کی بائیکاٹ کی دھمکی کام کرگئی، حکومت نے7 روز کے اندر سنجیدہ جواب دینے کی یقین دہانی کرادی۔
نجی اخبار میں شائع خبر کے مطابق حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن سینیٹر عرفان صدیقی نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے پی ٹی آئی کے مطالبات حکمران اتحاد میں شامل اپنے تمام اتحادیوں کے ساتھ شیئر کیے ہیں اور ان کو پورا کرنے کے حوالے سے ان سے تجاویز طلب کی ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ہم 7 دن کے اندر پی ٹی آئی کو سنجیدہ اور ہمدردانہ جواب دیں گے، انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے حکومت کے ردعمل کو حتمی شکل دینے کے لیے تمام اتحادیوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کا پہلا اجلاس جلد ہونے والا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سمیت کچھ قانونی ماہرین کو بھی کمیٹی میں شامل کیا ہے اور اپنے اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے مطالبات پر اپنی متعلقہ قانونی ٹیموں سے قانونی رائے حاصل کریں اور کمیٹی کے پہلے اجلاس میں اپنا نقطہ نظر پیش کریں۔
عرفان صدیقی نے کہا کہ ایک بار جب ہم اپنے اتحادیوں سے تجاویز حاصل کر لیں گے تو متفقہ جواب تیار کیا جائے گا اور وزیر اعظم کو پیش کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ فریقین کے اتفاق رائے کے مطابق حکومت اپوزیشن کو 7 دن (27 یا 28 جنوری تک) میں جواب دے گی جس کے بعد آئندہ اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے سامنے جواب پیش کیا جائے گا۔
سینیٹر صدیقی نے ان میڈیا رپورٹس کی تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے عدالتی کمیشن بنانے سے انکار کردیا ہے اور میڈیا پر زور دیا ہے کہ وہ بے بنیاد خبریں پھیلانے سے گریز کرے جو مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ اس طرح کی خبریں دوسری طرف تشویش اور غیر یقینی صورتحال کا باعث بنتی ہیں اور بات چیت کے عمل میں خلل ڈال سکتی ہیں۔
دریں اثنا، حکومتی مذاکراتی ٹیم کے 3 ارکان اسحٰق ڈار، عرفان صدیقی اور رانا ثنا اللہ نے گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور انہیں پی ٹی آئی کے ساتھ اپنی ملاقاتوں پر بریفنگ دی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے ان پر زور دیا کہ وہ حکومتی ٹیم کے دیگر ارکان کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں اور پی ٹی آئی کے چارٹر آف ڈیمانڈز کے جوابات کو حتمی شکل دیں۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے گزشتہ روز اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ ہم حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں لیکن ہماری شرط ہے کہ جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، عمران خان نے کہا ہے 7 دن میں کمیشن نہ بنا تو چوتھی میٹنگ نہیں ہوگی۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہم حکومت کا انتظار کررہے ہیں وہ کیا پیش رفت بتاتے ہیں، اگر کمیشن نہیں بننے جارہا تو مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، حکومت گھبراہٹ کا شکار ہے کیونکہ یہ فارم 47 کی حکومت ہے، حکومت کو مذاکرات پر توجہ دینی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں مذاکرات کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے، میں ہمیشہ کہتا ہوں تحمل اور برداشت کے ساتھ مذاکرات پر فوکس کرنا چاہیے، بات آگے بڑھانے کے لئے جلد بازی کے بجائے تحمل سے کام لینا ہوگا۔