ادارہ کئی ماہ سے مرکزی افسران سے محروم ہے‘اسرار ایوبی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2025 GMT
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ملک میں نجی شعبہ کے ملازمین کی پنشن کا قومی ادارہ ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن(EOBI)، زیر نگرانی وزارت سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل،حکومت پاکستان انتہائی نامساعد حالات اور محدود وسائل کے باوجود ملک بھر کے لاکھوں محنت کشوں اور ان کے لواحقین کو پنشن کی فراہمی کیلیے اپنے مقررہ اہداف سے زائد کے حصول میں شاندار کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے ۔ اس سلسلہ میں ای او بی آئی کے سابق افسر تعلقات عامہ اور ڈائریکٹر سوشل سیفٹی نیٹ پاکستان اسرار ایوبی نے اپنے ذرائع سے حاصل شدہ تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ محنت کشوں کی پنشن کا قومی فلاحی ادارہ ای او بی آئی وفاقی حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث گزشتہ چار ماہ سے مستقل چیئرمین اور گزشتہ کئی برسوں سے ڈائریکٹر جنرل آپریشنز، ڈائریکٹر جنرل انوسٹمنٹ اور فنانشل ایڈوائزر کے کلیدی عہدوں کے افسران سے محروم چلا آرہا ہے ۔ جبکہ دوسری جانب ادارہ کے ملازمین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ریٹائرمنٹ اور خالی اسامیوں پر گزشتہ دس برسوں کے دوران نئی بھرتیاں نہ ہونے کے باعث قومی فلاحی ادارہ محض 40 فیصد کی افرادی قوت پر خدمات انجام دینے پر مجبور ہے۔ لیکن ادارہ میں گزشتہ دنوں منظور ہونے والی 250 خالی اسامیوں پر مختلف کیڈرز کے افسران کی بھرتیوں کا عمل اب آخری مرحلہ میں پہنچ گیا ہے جس کے نتیجہ میں امید ہے کہ افرادی قوت کی کمی پر وقتی طور پر قابو پالیا جائے گا۔
.ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پالتو بلی کی وجہ سے خاتون اپنی نوکری سے محروم
چین میں ایک خاتون اپنی پالتو بلی کی وجہ سے نوکری اور بونس سے محروم ہو گئیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق 25 سالہ چینی خاتون کے پاس 9 بلیاں ہیں اور وہ اپنی پالتو بلیوں کی دیکھ بھال کے لیے نوکری پر منحصر تھی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق 5 جنوری کو خاتون نے استعفیٰ تیار کر لیا تھا لیکن اسے ارسال کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا۔
یہ سارا واقعہ ایک حادثے کی شکل اختیار کر گیا جب خاتون کی ایک بلی اچانک میز پر چھلانگ لگائی اور اس کی حرکت سے لیپ ٹاپ پر ’سینڈ‘ کا بٹن دب گیا۔ اس دوران یہ واقعہ گھر میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے میں بھی ریکارڈ ہو گیا۔
بعد ازاں خاتون نے اپنے باس سے رابطہ کر کے وضاحت پیش کی اور بتایا کہ یہ سب اس کی بلی کی وجہ سے ہوا ہے، مگر اس کی یہ وضاحت ناکام رہی اوراس معاملے کے نتیجے میں خاتون کو اپنی ملازمت اور سالانہ بونس سے محروم ہونا پڑا۔
خاتون نے کہا کہ وہ اب نئی نوکری تلاش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔