میاں زاہد حسین (فائل فوٹو)۔

صدر پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم میاں زاہد حسین نے کہا کہ بجلی کا شعبہ معیشت اور عوام کےلیے مصیبت بن چکا ہے۔

ایک بیان میں میاں زاہد حسین نے کہا کہ بجلی ٹیرف علاقائی بنیادوں پر مقرر کیے جائیں، توانائی کے شعبہ میں غیر ضروری سیاسی مداخلت ختم کی جائے۔ بجلی کا شعبہ ناقص منصوبہ بندی، کرپشن، نا اہلی اور اقربا پروری کی مثال بنا ہوا ہے۔ 

میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان 2100 ارب روپے سالانہ کپیسٹی چارجز ادا کرتا ہے، چند آئی پی پیز مالکان نے پلانٹ کی لاگت اوور انوائسنگ اور بجلی بنانے کے غلط اعداد دکھا کر زیادہ قیمت وصول کی۔ بیوروکریسی نے غلط معلومات پر چشم پوشی کر کے توانائی کے شعبے کے مسائل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ آئی پی پیز 6 فیصد معاشی نمو مفروضے پر لگائے گئے، کچھ آئی پی پیز کے ایگریمنٹ کینسل ہو چکے ہیں اور باقی کے ساتھ بات چیت مکمل ہو گئی ہے۔ 

میاں زاہد نے کہا اپریل کے مہینے تک بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئے گی، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن سسٹم پر توجہ دی جائے۔

.

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: میاں زاہد حسین نے کہا کہ

پڑھیں:

جماعت اسلامی بلوچستان کے عوام کیلئے ہمہ گیر جدوجہد جاری رکھے گی،لیاقت بلوچ

لاہو ر(نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعت اسلامی، مجلس قائمہ سیاسی قومی امور کے صدر لیاقت بلوچ نے کراچی میں جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا اہم اور احساس ترین صوبہ ہے۔بلوچستان قدرتی وسائل، جغرافیہ اور معدنیات سے مالا مال صوبہ ہے۔وفاق میں سرکاری حکومتی قیادت، پالیسی ساز اور ریاستی اداروں نے بلوچستان کے لیے درست
سمت میں حکمت عملی نہیں بنائی جس نے دشمن کی لگائی آگ کو مزید بھڑکانے کے لیے ایندھن کا کام کیا اور نتیجتاً حکومت اور ریاست کے خلاف نفرت انگیز رویوں کو تقویت ملی۔اس ساری صورت حال نے ملک دشمن عناصر اور بھارت کے لیے اس بات کو اور زیادہ آسان بنادیا کہ وہ بلوچستان کے مستقبل سے مایوس اور ریاست سے ناراض نوجوانوں کو تشدد اور عسکریت پسندی کی طرف راغب کریں۔بلوچستان میں ایک طرف انتخابی دھاندلی، حکومت سازی میں دولت کے بے دریغ استعمال کے ذریعے ووٹ کے تقدس کی پامالی کا گھناؤنا کھیل کھیلا جاتا ہے تو دوسری طرف غیرنمائندہ افراد پر مشتمل جو اسمبلی وجود میں آتی ہے اُسے کام نہیں کرنے دیا جاتا ۔بلوچستان کے لاپتہ افراد کی وجہ سے متاثرہ خاندان تو پریشان ہیں ہی لیکن اِسی بناء پر ریاست مخالف قوتوں کو کھیل کھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔نوجوان بیروزگار ہیں، بارڈر ٹریڈ کے حوالے سے عدم حکمت پر مبنی اقدامات نے نوجوانوں کی بیروزگاری کو دوآتشہ کر دیا ہے۔قبائل کے درمیان جھگڑوں کو حل کرنے کے بجائے عوام کو باہم متصادم رکھنے کا گھناؤنا کھیل معاشرے میں نفرتوں کی آگ پھیلارہی ہے۔کرپشن کا پھیلاؤ اور تعلیمی نظام کی تباہی بڑا عذاب ہے۔نوجوان آسانی سے منشیات کے جہنم میں دھکیل دیے جاتے ہیں۔بلوچستان کے معدنیات کے حوالے سے وفاق کی طرف سے صوبہ کی حق تلفی غیر آئینی اور عوام کے حقوق کی حق تلفی ہے۔جماعتِ اسلامی بلوچستان کے عوام کے لیے ہمہ گیر جدوجہد جاری رکھے گی۔بلوچستان کے عوام باوقار، باعزت زندگی کیساتھ پاکستان کے مضبوط محافظ ہونگے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے پالیسی ساز بلوچستان کے لیے اپنا مائنڈ سیٹ بدلیں۔ لیاقت بلوچ نے کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاق ور صوبوں کے اختلافات کے خاتمہ کے لیے آئینی ادارہ مشترکہ مفادات کونسل کو ہی ذریعہ بنایا جائے۔ شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات کے ذریعے بلوچستان کے عوام کا اعتماد بحال کیا جائے۔چوری شدہ اور دھاندلی زدہ نتائج کے ناجائز مسلط کردہ انتخابی عمل کے ذریعے اب عوام کو غلام نہیں بنایا جاسکتا۔عدلیہ کی آزادی تمام اسٹیک ہولڈرز اور عوامی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔کاش! ماضی قریب میں پی ٹی آئی، مسلم لیگ، پی پی پی اور ایم کیو ایم فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے آلہ کار نہ بنتیں۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے کوئٹہ میں قومی کانفرنس منعقد کرے اور صفِ اول کی قومی قیادت اور سول عسکری عہدیداران ایک پیج پر پختہ عزم کیساتھ بلوچستان کے عوام کو مطمئن کریں۔سیاسی بحرانوں کا علاج اسٹیبلشمنٹ کی تابعداری سے نہیں بلکہ قومی قیادت کو بالغ نظری اور اسٹیٹسمین شپ کے ذریعے سیاسی حل تلاش کرنا ہوگا۔لیاقت بلوچ نے سوال کے جواب میں کہا کہ قومی سیاسی قیادت کو خاص ماحول میں سزاؤں کے فیصلے کبھی بھی عزت نہیں پاتے اور گزرتے وقت کیساتھ خود عدالتوں اور سیاسی قیادت کو شعور آتا ہے کہ انہوں نے غلط کام کیا اور استعمال ہوئے۔لیاقت بلوچ نے بلوچستان کے نمائندہ کانفرنس سے کہا کہ جماعت اسلامی کے کارکنان ہر تعصب، جانبداری اور مرعوبیت سے بالاتر ہوکر ٹھوس نظریاتی، اعلی اخلاق و کردار اور عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے بھرپور ور تیزتر جدوجہد جاری رکھیں۔بلوچستان میں بااختیار بلدیاتی نظام کے لیے مولانا ہدایت الرحمن کی قیادت میں عوامی حقوق کے حصول کے لیے فیصلہ کن جدوجہد کی جائے۔پورے بلوچستان میں عوام کو متحرک کرنے کے لیے عوامی کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔اس موقع پرمولانا ہدایت الرحمن، ڈاکٹر عطاء الرحمن، زاہد اختر بلوچ، بشیر ماندائی، عامر دُمڑ، مرتضیٰ کاکڑ اور سابق ایم پی اے یونس بارائی بھی موجود تھے۔

متعلقہ مضامین

  • دارالتحقیق جامعۃ الرّضا اسلام آباد کی جاری فعالیت پر ایک نظر
  • ایکسپورٹ کے شعبہ میں پاکستان دیوالیہ ہو جانے والے سری لنکا سے بھِی پیچھے رہ گیا
  • جماعت اسلامی بلوچستان کے عوام کیلئے ہمہ گیر جدوجہد جاری رکھے گی،لیاقت بلوچ
  • دوست ممالک سرمایہ کاری کے وعدوں پر عملدرآمد نہیں کررہے ہیں ، میاں زاہد حسین
  • امریکی عوام کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں، محسن نقوی
  • بجلی صارفین کیلئے خوشخبری،حکومت کا شہریوں کو بڑا ریلیف
  • صارفین کیلئے سال میں بجلی بلوں کی زیادہ قسطوں کی سہولت دیے جانے کا امکان
  • حکومت عوام کیلئے رحمت کے بجائے زحمت بن چکی ہے،مفتاح اسماعیل
  • حکومت زحمت بن گئی، ن لیگ نے اقتدار کیلئے اپنی سیاست گروی رکھ دی: مفتاح