مراکش میں کشتی حادثہ نہیں قتل عام ہوا، بچ جانے والے پاکستانیوں کے ہولناک انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2025 GMT
مراکش میں کشتی حادثہ نہیں قتل عام ہوا، بچ جانے والے پاکستانیوں کے ہولناک انکشافات WhatsAppFacebookTwitter 0 20 January, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )مراکش کشتی حادثے میں بچ جانے والے پاکستانیوں نے ہولناک انکشافات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مراکش میں کشتی حادثہ نہیں قتل عام ہوا، کشتی حادثے میں بچنے والوں کے ابتدائی بیانات ریکارڈ کرلیے گئے، اسمگلروں نے تاوان دینے والوں کو چھوڑ دیا اور نہ دینے والوں کو ہتھوڑے مار کر سمندر میں پھینک دیا۔
ذرائع کے مطابق مراکش کشتی حادثہ کی تحقیقات سے متعلق اہم پیشرفت ہوئی ہے، کشتی حادثہ میں بچ جانیوالے پاکستانیوں سے مراکش میں موجود 4رکنی کمیٹی نے ابتدائی بیان ریکارڈ کر لئے ہیں، ٹیم میں ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ، ڈائریکٹر نارتھ ایف آئی، وزارت خارجہ اور آئی بی کا نمائندہ بھی شامل ہے۔ذرائع کے مطابق کشتی انٹرنیشنل ہیومن ٹریفکنگ ریکٹ کی نگرانی میں تھی، اس ریکٹ میں سنیگال، موریطانیہ اور مراکش کے اسمگلر شامل ہیں۔
پاکستانیوں نے ٹیم کو بتایا کہ مراکش کشتی حادثہ نہیں قتل عام تھا، ملزمان نے کشتی کھلے سمندر میں کھڑی کی اور تاوان مانگا، تاوان دینے والے 21پاکستانیوں کو چھوڑ دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کشتی میں سوار بیشتر لوگ سرد موسم اور تشدد کے باعث جاں بحق ہوئے، کشتی میں موجود افراد کو خوراک کی قلت کا بھی سامنا تھا۔
واضح رہے کہ پاکستان کی 4 رکنی تحقیقاتی ٹیم اس وقت مراکش میں موجود ہے، ٹیم میں ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ، ڈائریکٹر نارتھ ایف آئی، وزارت خارجہ اور آئی بی کا نمائندہ شامل ہے۔
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کشتی حادثہ نہیں قتل عام والے پاکستانیوں مراکش میں
پڑھیں:
بیلاروس کا ڈیڑھ لاکھ پاکستانیوں کو ملازمتیں دینے کا اعلان، کیا مواقع موجود ہیں؟
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بیلاروس کے اپنے حالیہ دورے کے بعد پاکستان کے ہنرمند نوجوانوں کو خوشخبری دی ہے کہ بیلاروس نے ڈیڑھ لاکھ پاکستانیوں کو ملازمتیں دینے کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعظم کی جانب سے اس خوشخبری کو بیلا روس کی طرف سے تحفہ قرار دیا گیا اور کہا ہے کہ اس سے نہ صرف بیلاروس کی معیشت کو فائدہ ہوگا بلکہ باہنر پاکستانی نوجوانوں کو باعزت روزگار کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔
بیلا روس میں پاکستانیوں کے لیے کس قسم کے ملازمت کے مواقع موجود ہیں؟اوورسیز امپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین محمد عدنان پراچہ کہتے ہیں کہ بیلا روس کو پاکستان سے قریباً ڈیڑھ لاکھ ورک فورس کی ضرورت ہے۔ جس میں سے انہوں نے 3 فیلڈز کو واضح کیا ہے۔ اور ان کی تعداد بتائی ہے کہ انہیں کس فیلڈ میں ورک فورس کی کتنی ضرورت ہے، ان کی جانب سے واضح کی گئی فیلڈز میں ایگریکلچر، تعمیراتی شعبہ اور صنعت شامل ہے۔
مزید پڑھیں: نواز شریف کی بیلا روس کے صدر کے ساتھ خوشگوار ملاقات کی تصاویر وائرل، صارفین کے دلچسپ تبصرے
ایگریکلچر میں انہیں ویٹنری سٹاف، پولٹری اسٹاف، ملکنگ مشین آپریٹرز، فلور من ، الیکٹریکل اسٹاف اور دیگر ہنرمند افراد جو ایگریکلچر کے شعبے میں ایکسپرینس رکھتے ہوں، ان کے پاس سرٹیفیکیشن ہو۔
صنعتی شعبے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ مکینیکس، کلینرز، سی این سی مشین آپریٹر، ڈرائیورز، پینٹرز، ریپئر مینز، الیکٹریشنز، کار ڈرائیورز مکینیکس، ویلڈرز اور انڈسٹری سے منسلک دیگر افرادی قوت کی ضرورت ہے۔
تعمیراتی شعبے میں ان کو کار پینٹرز، کنکریٹ ورکرز، ٹریکٹر ڈرائیورز، ریپئیرنگ اسٹاف، بلڈنگ اسٹرکچر اسٹاف اور تعمیراتی شعبے سے منسلک دیگر ورک فورس کی ڈیمانڈ شامل ہے۔
یہ تمام فیلڈز ہیں جس میں بیلا روس کو پاکستان سے قریباً ڈیڑھ لاکھ ورک فورس کی ضرورت ہے۔ اور ہماری ورک فورس کے پاس پاکستان سے جانے کے لیے یہ ایک بہت اچھا موقع ہے۔ لیکن جب بھی کوئی نیا وینیو اس میں حکومت کو مکمل طور پر ٹیک اپ کرنا چاہیے۔ پھر ان کی امپلیمنٹیشن سے لے کر اس کی اسکریننگ ہونی چاہیے، اس کے علاوہ اوورسیز امپلائمنٹ پروموٹرز کے لیے فورم اوپن ہونا چاہیے۔
مزید پڑھیں: نواز شریف سرکاری دورے پر وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ بیلا روس روانہ
مزید کہا کہ اس وقت ہماری فیلڈز میں جو ہائی اسکلڈ ہیں، جن کے پاس 5، 10 سال کا تجربہ ہے اور ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں انہیں ترجیح دینا پڑے گی تاکہ ان کا بھی ملکی ترقی کے اندر حصہ ہو۔ اور کوئی بھی ملک میں نیا ایسا کوئی پروگرام ہونے جا رہا ہو تو اس میں شفافیت لازمی ہو۔ اور دوسرے ممالک میں ہماری ورک فورس کی ضرورت کو بڑھایا جا سکے۔
مگر بدقسمتی سے جب بھی ہمارے نئے سیکٹر کھلتے ہیں۔ شروع میں تو فوکس کیا جاتا ہے لیکن کچھ عرصے کے بعد ناقص مینجمنٹ کی وجہ سے وہاں ہماری ورک فورس کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اس لیے حکومت اگر اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لے کر چیزوں کو حتمی شکل دے تو وہاں ہمارے ورک فورس کے لیے وہاں کے راستے بہت ہموار ہو جائیں۔
پاکستان کو ورک فورس بھیجنے کا کیا فائدہ ہوگا؟معاشی ماہر راجا کامران کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ پاکستان میں ورک فورس نوجوان ہیں اور بڑی تعداد نوجوان ورک فورس کی ہے۔ کسی بھی ملک کی معیشت میں یہ نوجوان ورک فورس بہت اہمیت رکھتی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کی یورپ، جاپان، کوریا، چائنا اور کسی حد تک انڈیا بھی ایکٹیو ورک فورس میں کمی کا سامنا کر رہا ہے۔ جس سے ان کی معیشت جاپان اور یورپ میں ورک فورس کی کمی بہت واضح ہوتی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: بیلا روس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو مری پہنچ گئے
اسپین اور اٹلی کو دیکھا جائے تو ان کے گاؤں بالکل خالی پڑے ہیں۔ سب شہروں میں آباد ہیں۔ ان کی ایگریکلچر متاثر ہو رہی ہے۔ ان کے پاس یا تو نوجوان بہت کم ہیں یا تو ہیں ہی نہیں اور جو ہیں وہ شہروں میں آباد ہیں۔
ترقی کے لیے کسی بھی ملک میں بچے اور پھر نوجوانوں کا ہونا بہت ضروری ہے۔ پاکستانی بیلا روس جائیں گے تو بیلا روس کی معیشت کو بہت فائدہ ہوگا اور پاکستان کو زرمبادلہ کی صورت میں فائدہ ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بیلا روس پاکستان