اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کا معاملہ کھٹائی کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2025 GMT
سیکرٹری ایوی ایشن کی سربراہی میں بولی کھولنے والی سول ایوی ایشن اور نجکاری کمیشن کی آوٹ سورسنگ کمیٹی کو یقین تھا کہ اس دفعہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کا اہم مرحلہ کامیاب ہوجائے گا اوراصل مالیاتی اہداف حاصل کرلیے جائیں گے۔ اسی لیے کمیٹی کی کارروائی براہ راست پیش کرنے کا فیصلہ بھی ہوگیا تاکہ شفافیت کے ساتھ حکومت کی کارکردگی کو بھی سراہا جائے۔
کمیٹی نے نے اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی مالیاتی بولی 2جنوری 2015 کو کراچی میں کھولی، انہیں یقین تھا کہ وہ ہدف حاصل کرلیں گے، یعنی بولی کی قیمت کا 56فیصد یا اس سے زیادہ، کیونکہ صرف ایک ہی کمپنی تھی اور مقابلے میں کوئی اور نہیں تھا، مگر ایسا نہیں ہوا۔
ترکی کی کمپنی TAV نے صرف47فیصد قیمت کی پیشکش کرکے سب کو نہ صرف حیران کیا بلکہ سخت مایوس اور پریشان کردیا۔ اس نے آؤٹ سورسنگ کا عمل کو ایک بار پھر تعطل کا شکار کردیا۔ کمیٹی کو یقین نہیں تھا کہ جس پارٹی کو qualify کرنے کے لیے انہوں نے انتھک تگ و دو کی۔ اس نے اتنی کم بو لی دے کر شرمندہ کردیا۔ کمیٹی پریشان تھی کہ وزیر اعظم (جو اچھی خبر سننے انتظار میں تھے) کو کیا اور کیسے بتائیں۔
ترکی کی کمپنی نے سب کیے کرائے پر پانی پھیردیا۔ اس طرح آؤٹ سورسنگ کا عمل تعطل کا شکار ہوگیا حالانکہ جناب احسن علی منگی سکریٹری ایوی ایشن نے خصوصی دلچسپی لی اور سخت محنت کی مگر مقررہ اہداف نہ حاصل ہوسکے۔
یاد رہے کہ حکومت نے 3بڑے ہوائی اڈوں کراچی، لاہور اور اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹس پر آؤٹ سورسنگ کے عمل کو شروع کیا ہوا ہے۔ حکومت کو اس عمل سے نمایاں آمدنی کی توقع ہے۔ اس عمل کو مکمل طور پر پایا تکمیل تک پہنچانے کے لیے سب سے پہلے تقریباً 40 ارب سالانہ کمانے والے پاکستان کے پہلے گرین فیلڈ ایئر پورٹ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا انتخاب کیا تاکہ مالی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے خاطر خواہ آمدنی پیدا کی جاسکے، اور فارن ریزرو کو بڑہایا جائے جو کہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے آوٹ سورسنگ کے عمل میں کڑی شرائط کے باوجود 4کمپنیوں (گروپ اے ڈی پی، انچیون کورین انٹرنیشنل ایئرپورٹ کارپوریشن، میونخ (جرمنی) ایئرپورٹ (انٹرنیشنل جی ایم بی ایچ) اور ترکی کی TAV کمپنی نے دلچسپی کا اظہار کیا تھا اور بولی کے دستاویزات جمع کرائے تھے، 3 کمپنیاں اہلیت کے معیار پر پورا نہیں اتریں۔
صرف ایک کمپنی، Turkey’s TAV Airports، نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے لیے مالیاتی بولی کے مرحلے کے لیے کوالیفائی کیا۔ تاہم، اس کو کوالیفائی کراوانے پر بھی شکوک و شبہات اور کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔”ٹی اے وی ایئرپورٹس” نے سعودی عرب میں قائم فرم الراجی ہولڈنگ گروپ کے ساتھ ایک کنسورشیم میں فنانشل بولی
جمع کرائی، جس نے آوٹ سورسنگ کے عمل کو آگے بڑھانے میں مشکل بنا دیا۔
، TAVایئرپورٹس” نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ میں کم پیشکش (47.
اس کے علاوہ کمپنی نے پاکستان کے سیاسی اور معاشی حالات اور ایوی ایشن مارکیٹ کے موجودہ حالات پر غور کیا ہوگا، بشمول خطے کے دیگر ہوائی اڈوں سے مسابقت، اور مسابقتی رہنے کے لیے کم بولی کی پیشکش کی ہو۔ ترک کمپنی نے مستقبل کے مذاکرات اور رعایتی معاہدے پر ممکنہ نظرثانی کے لیے گنجائش(cushion)چھوڑنے کی کم بولی کے ساتھ شروع کرتے ہوئے، مذاکرات کی حکمت عملی استعمال کی ہو TAV نے دوسری کمپنیوں کی جانب سے جمع کرائی گئی بولیوں کا کسی “خاص” سے مل کر تجزیہ کیا ہو اور مسابقتی رہنے کے لیے اپنی پیشکش کو ایڈجسٹ کیا۔
کمپنی نے پاکستان کے لیے مخصوص ریگولیٹری اور تعمیل کے تقاضوں پر ہوسکتا ہے غور کیا ہو جس کی وجہ سے ان کی لاگت میں اضافہ ہوسکتا ہے اور پیشکش کم ہوسکتی ہے۔ ٹی اے وی ایئرپورٹس نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی مالی کارکردگی کا تجزیہ کیا ہوگا اور طے کیا ہوکہ ایئرپورٹ کی آمدنی کے تخمینوں کے پیش نظر کم رعایتی نرخ زیادہ موزوں ہوں۔ یہ چند وجوہات ہوسکتی ہین جن کی وجہ سے ہوسکتا ہے TAV نے کم بولی دی ہو۔
باوثوق ذرائع کے مطابق ارباب اختیار نے اس سارے معاملے سے نمٹنے کے لیے مبینہ طور پر قانونی ماہرین سے رابطے کا راستہ اختیار کرنےکا فیصلہ کرلیا تاکہ TAV سے مذاکرات کرکے بولی کو آگے بڑھایا جا سکے اور اس “گھن چکر”سے نکل سکیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے قوانین خصوصاً PAPRS کے مطابق بولی دہندگان کے ساتھ دوبارہ مذاکرات ہوسکتے ہیں؟ قانونی ماہرین کے مطابق پاکستانی قانون کے تحت بولی لگانے والوں کے ساتھ دوبارہ گفت و شنید کی اجازت نہیں ہے، خاص طور پر پبلک پروکیورمنٹ میں۔ سابق سینیئر ٹائرکٹرکمرشل سول ایوی ایشن اتھارٹی اور سینیئر پارٹنر گلوبل لاز کنسلٹنٹ زبیر حسین پراچہ کہتے ہیں کہ پبلک پروکیورمنٹ رولز 2004، قاعدہ 35 کے مطابق “ایک بار بولی کھولنے اور جانچنے کے بعد، پروکیورنگ ایجنسی کسی بھی بولی ن کے مطابق دہندہ کے ساتھ بات چیت نہیں کرسکتی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس اصول کا مقصد تمام بولی دہندگان کے ساتھ شفافیت، انصاف پسندی اور مساوی سلوک کو یقینی بنانا ہے۔ بولی کی جانچ کے عمل کے بعد بولی دہندگان کے ساتھ دوبارہ گفت و شنید PPRs اور عوامی خریداری کے اصولوں کی خلاف ورزی تصور کی جا سکتی ہے۔
تاہم، اسلام آباد کے مشہور قانون دان محمد طاہر کہتے ہیں کہ پروکیورنگ ایجنسی بولی دہندگان سے وضاحت طلب کرسکتی ہے۔ تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ان کی بولیوں کو صحیح طریقے سے سمجھا گیا ہے۔
بعض حالات میں، پروکیورنگ ایجنسی تشخیص کے عمل کے بعد کامیاب بولی دہندہ کے ساتھ بات چیت کرسکتی ہے، لیکن صرف معاہدے کی شرائط و ضوابط کو حتمی شکل دینے کے لیے قانون کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے، پروکیورنگ ایجنسی کو واضح طور پر بولی لگانے والوں کے ساتھ دوبارہ گفت و شنید سے گریز کرنا ہوتا ہے، سوائے غیر معمولی حالات کے۔
سینر کارپوریٹ ایڈووکیٹ علی کے مطابق اعلیٰ عدالتوں نے مسلسل کہا ہے کہ بولی لگانے کے عمل کو مکمل کرنے کے بعد بولی دہندگان کے ساتھ دوبارہ گفت و شنید جائز نہیں ہے اور اسے غیر قانونی سمجھا جاسکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان مسائل کو حل کرنے میں کیسے کامیاب ہوتی ہے، کیونکہ اس سے اگلا مرحلہ کراچی اور لاہور کے انٹرنیشنل ایئر پورٹس کو بھی آوٹ سورسنگ کی بھٹی میں سے گزارنا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عبید الرحمان عباسیمصنف سابق سینئر ایڈیشنل ڈائریکٹر لاء پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور اسلام آباد میں مقیم ایوی ایشن اینڈ انٹرنیشنل لاء کنسلٹنٹ ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ نے اسلام آباد آؤٹ سورسنگ کا آوٹ سورسنگ ایوی ایشن سورسنگ کے کے مطابق کیا ہو اور اس کے عمل کے بعد کے لیے عمل کو
پڑھیں:
ہائیکورٹس میں ججز تعیناتی؛ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس آج ہوگا
اسلام آباد:ہائی کورٹس میں ججز کی تعیناتی کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن کا اجلاس آج ہوگا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس آج سپریم کورٹ میں ہوگا، جس میں ہائی کورٹس میں ججز تعیناتی کا معاملہ زیر غور آئے گا۔
اہم اجلاس مں اسلام آباد اور بلوچستان ہائی کورٹس میں ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کا معاملے زیر غور آئے گا ۔ جوڈیشل کمیشن اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے لیے 4 ایڈیشنل ججز کی نامزدگیوں پر غور ہوگا۔
اسی طرح بلوچستان ہائی کورٹ کے لیے 3 ایڈیشنل ججز کی نامزدگیوں پر بھی غور ہو گا۔