آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں سوروں کی یلغار، شہریوں میں خوف و ہراس
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2025 GMT
آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں اچانک بڑی تعداد میں سور نمودار ہوگئے ہیں اور ان کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے، جس کی وجہ سے شہریوں میں خوف و ہراس پیدا ہوگیا ہے۔
واضح رہے کہ مظفرآباد میں سوروں کے حملے سے ایک بچی جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوچکی ہے۔ سور رات کے وقت گروہوں کی صورت میں شہر کی سڑکوں پر گھومتے ہیں۔ پیر کی رات بھی مظفرآباد کے علاقے اپر پلیٹ میں سوروں کا گروہ سڑکوں پر گھومتے ہوئے پایا گیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں 19 سوروں کو دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں گدھے اور کتے کے گوشت، جعلی دودھ اور پلاسٹک کے چاول فروخت، حقیقت کیا ہے؟
قبل ازیں، مظفرآباد کی معروف مدینہ مارکیٹ میں بھی رات کے وقت سور دکھائی دیے، مظفرآباد شہر کے نواح میں واقع چہلہ میں بھی سوروں کا گروہ سڑک پر نظر آچکا ہے۔ گزشتہ سال کے اوائل میں سور مظفرآباد شہر میں نظر آنا شروع ہوئے تھے۔ اسی دوران ایک سور نے موٹر سائیکل سوار پر حملہ کیا جس کی وجہ سے موٹر سائیکل سوار زخمی ہوگیا تھا۔
سوروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے معاملے پر آزاد کشمیر کی اسمبلی میں بھی بحث ہوئی، جس کے بعد ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو سوروں کے خاتمے کی لیے سفارشات پیش کرے گی۔ اس سے پہلے آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں بحث کے دوران رکن اسمبلی نے تجویز دی تھی کہ یا تو سوروں کو مارا جائے یا برآمد کرکے زر مبادلہ کمایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت میں کتوں کے بعد بلیوں کے کاٹنے کے واقعات بھی ہونے لگے، اب تک کتنی اموات ہوگئیں؟
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور اس کمیٹی کے رکن خواجہ فاروق احمد نے کہا سوروں سے کیسے چھٹکارا پانا ہے، اس حوالے سے کمیٹی ہر پہلو کا جائزہ لے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد زر مبادلہ کمانا نہیں بلکہ ان کو ختم کرنا ہے تا کہ شہریوں کی جان و مال کو مخفوظ بنایا جاسکے۔
مظفرآباد شہر سے تعلق رکھنے والے رکن قانون ساز اسمبلی خواجہ فاروق نے کہا کہ سوروں کی وجہ سے دیہاتوں اور شہروں میں نقصان ہورہا ہے، جنگلی سور دیہاتوں میں فصلیں تباہ کرتے ہیں اور شہروں میں انسانی جانوں کے لیے خطرہ خطرہ بنتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر: کوٹلی کے جنگلات میں آتشزدگی، علاقہ جنگلی جانوروں کی چیخ و پکار سے گونجنے لگا
واضح رہے کہ گزشتہ سال جولائی میں محکمہ زراعت نے دھیر کوٹ میں جنگلی سوروں کے خاتمے کے لیے آپریشن کیا تھا جس میں 14 سور مارے گئے تھے۔ اس وقت جاری کی گئی پریس ریلیز میں یہ بتایا گیا تھا کہ محکمہ نے جنگلی سوروں کو زہر دے کر مارا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آزاد جموں و کشمیر تعداد میں اضافہ جنگلی سور خوف و ہراس شہری قانون ساز اسمبلی مظفرآباد یلغار.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تعداد میں اضافہ جنگلی سور خوف و ہراس قانون ساز اسمبلی یلغار قانون ساز اسمبلی جنگلی سور
پڑھیں:
پاکستان کا 8 شہریوں کے قتل کے بعد ایران سے جلد حرکت میں آنے کا مطالبہ
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کی ایران کے صوبے سیستان بلوچستان کے ساتھ سرحد کے نزدیک آٹھ پاکستانیوں کی ہلاکت کے ذمے دار افراد کو پکڑ کر ان کو قرار واقعی سزا دے۔ ایران کے صوبے سیستان بلوچستان میں افغان سرحد کے نزدیک نا معلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے گاڑیوں کے میکینک کا کام کرنے والے کم از کم آٹھ پاکستانی محنت کشوں کو موت کی نیند سلا دیا۔دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ افغان سرحد کے نزدیک مہرستان کے علاقے میں ہفتے کی صبح گاڑیوں کے ایک ورکشاپ میں پیش آیا۔ شہباز شریف نے اس طرح کے واقعے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انھوں نے ایرانی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حملے کے محرکات کو سامنے لائیں۔پاکستانی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ "دہشت گردی ابھی تک پورے خطے کے لیے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہے"۔ انھوں نے واضح کیا کہ اس پر قابو پانے کے لیے ہمسایہ ممالک کے درمیان ہم آہنگ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔پاکستانی صدر نے بھی وزارت خارجہ کو احکامات جاری کیے کہ مقتول محنت کشوں کے ساتھ فوری رابطہ کر کے انہیں ہر ممکن سپورٹ پیش کی جائے۔ صدر نے ایران میں پاکستانی سفارت خانے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقتولین کی میتوں کی محفوظ واپسی کے لیے فوری اقدامات کرے۔کہا جا رہا ہے کہ مقتولین کا تعلق پاکستان میں بہاولپور سے ہے۔ پاکستانی اخبار "دی نیشن" کے مطابق تمام افراد کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے اور انھیں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا