چین میں کوئی نئی متعدی بیماری سامنے نہیں آئی ہے، چائناسینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2025 GMT
چین میں کوئی نئی متعدی بیماری سامنے نہیں آئی ہے، چائناسینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن
چائنا نیشنل ہیلتھ کمیشن نے ایک پریس کانفرنس منعقد کی۔اتوار کے روز چائناسینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کی محقق وانگ لی پھنگ نے کہا کہ اس وقت سانس کی متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا موسم ہے۔قومی نگرانی کے مطابق انفلوئنزا اب بنیادی بیماری ہے جو اس وقت طبی اداروں میں سانس کے شدید انفیکشن میں مبتلا مریضوں کا سبب بنتی ہے ، اور کوئی ابھرتی ہوئی متعدی بیماری سامنے نہیں آئی ہے جبکہ نوول کورونا وائرس سمیت سانس کے دیگر امراض کم وبائی معیار پر ہیں۔ فی الحال، چین میں فلو پازٹیو ریشو میں اضافے کا رجحان سست ہو گیا ہے، اور جنوری کے وسط سے فلو کی سرگرمی کے معیار میں کمی کی توقع ہے.
چائنا نیشنل ہیلتھ کمیشن کے ترجمان حو چھیانگ چھیانگ نے کہا کہ قومی نگرانی سے ظاہر ہوا ہے کہ 2025 کے پہلے ہفتے میں ملک بھر میں موسمی فلو کی صورت حال دیکھی گئی اور ملک بھر میں انفلوئنزا وائرس کی پازٹیو ریشو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں کم ہے۔ تاحال چین میں طبی وسائل کی کوئی واضح کمی سامنے نہیں آئی ہے، اور متعلقہ کلیدی ادویات کی پیداوار، فراہمی اور ذخیرہ معمول کے معیار پر ہے.
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سامنے نہیں آئی ہے چین میں
پڑھیں:
مقبوضہ جموں وکشمیر کے گاؤں میں پراسرار بیماری سے 14 افراد کی موت
راجوڑی: مقبوضہ جموں و کشمیر کے راجوری ضلع کے بڈھال گاؤں میں پراسرار بیماری سے گزشتہ 30 دنوں میں دو بچوں سمیت کم از کم 14 افراد کی موت ہوگئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ ابک ماہ کے دوران بڈھال میں ایک خاندان پراس وقت قیامت برپا ہوگئی جب نامعلوم بیماری کی وجہ سے ایک ماہ کے اندر ابک ایک کر کے 14 لوگوں کی موت ہوگئی۔ مرنے والے سبھی افراد ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے قریبی رشتے دار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایک معمر شخص محمد یوسف پیر کی شام انتقال کر گیا،اس کے علاوہ ان کے خاندان کے چھ بچوں کو اسپتال میں داخل کرنے کےبعد 2 بچے دم توڑ گئے۔ جن کی عمریں 8 اور 14سال تھیں۔کہا جاتا ہے بڑھال گاؤں دسمبر 2024 سے اس پر اسرار بیماری سے دوچار ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال 7 دسمبر کو ایک ہی خاندان کے پانچ افراد پراسرار بیماری کی وجہ سے انتقال کر گئے تھے، جس کے بعد 12 دسمبر کو تین بچوں کی موت ہوئی ۔ ان میں بخار، پسینہ، الٹی، پانی کی کمی، کے ساتھ غشی کی علامات بھی ظاہر ہوئی تھیں۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ بڈھال گاؤں میں گذشتہ ایک ماہ سے لگاتار لوگ مرتے جا رہے ہیں اور انتظامیہ حکومت ابھی تک یہ پتہ نہیں لگا سکی کہ اس کی اصل وجہ کیا ہے؟ لوگوں نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر سرکار و انتظامیہ اس بیماری کاپتہ لگانے میں ناکام رہی تو سب ڈویزن کوٹرنکہ کے عوام احتجاج کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔
حکام کا کہنا ہےکہ محکمہ صحت کی ٹیمیں نمونے لے کر مسلسل جانچ میں مصروف ہیں اور دیگر پہلوں سے بھی جانچ ہو رہی ہے۔